72

اقوام متحدہ کشمیریوں کو بچائے ش,اہ محمود قریشی کا یواین سیکرٹری جنرل کو ٹیلی فون

Spread the love

اسلام آباد ( سٹاف رپورٹر) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے

سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریز کو فون کرکے انہیں مقبوضہ کشمیر کی

صورتحال سے آگاہ کیا۔شاہ محمود قریشی نے پریس بریفنگ میں بتایا انہوں نے

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریز کو فون کرکے مقبوضہ کشمیر

کی صورتحال پر بات کی اور وہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے

آگاہ کیا۔ یو این سیکرٹری جنرل نے شاہ محمود سے کہا کہ وہ پیرس میں ہیں اور

مودی سے بات کریں گے۔ انہوں نے کہا میرا کردار جاری رہے گا، لیکن بھارت

آمادہ نہیں ہوتا۔شاہ محمود قریشی نے بتایا میں نے سیکرٹری جنرل سے کہا ہم سے

تو پرامن رہنے کا کہا جا رہا ہے، لیکن دوسری طرف کشمیر میں کرفیو کا 20واں

روز ہے، اقوام متحدہ کے دفتر جانے کی کوشش پر کشمیریوں پر شیلنگ ہوئی اور

تشدد کیا گیا، کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بھارتی اقدام یو این چارٹر

کے منافی ہے اور پاکستان پانچ اگست کے اس اقدام کو مسترد کر چکا ہے، میں نے

سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کوکشمیر کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے کہا وہ

خود جا کر حالات دیکھیں اور سلامتی کونسل کے پانچ ممبر ممالک کو صورتحال

کی نزاکت سے آگاہ کریں، یو این سیکرٹری جنرل بیان دیں گے تو اس کا اثر ہو گا۔

وزیر خارجہ نے کہا مسئلہ کشمیرکے دو فریقوں پاکستان اور کشمیریوں نے اپنا

واضح موقف پیش کیا ہے، لیکن تیسرے فریق بھارت میں رائے تقسیم ہو چکی ہے،

اس کا مظاہرہ آج سرینگر ایئرپورٹ پر دیکھنے کو ملا، مودی سرکار نے

سرینگرسے راہول گاندھی کو واپس دہلی بھیج دیا، یہ فسطائیت کی بدترین مثال

ہے، دنیا دیکھے بھارتی حکومت اپنے ہی لوگوں کیساتھ کیا سلوک کر رہی ہیں، جو

اپنے کیساتھ بیٹھنے کیلئے تیار نہیں ہمارے ساتھ کہاں بیٹھیں گے؟، آج بہت بڑا

طبقہ مودی سرکار کو مسترد کر رہا ہے۔ انہوں نے یو این سیکرٹری جنرل کی

توجہ بھارت کی جانب سے کلسٹر بموں کے استعمال کی جانب بھی مبذول کراتے

ہوئے کہا بھارت پلواما جیسا ڈرامہ کرنے کی کوشش کر رہا ہیں، اقوام متحدہ

کشمیریوں کی جانوں کے تحفظ اور کرفیواٹھانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے، اس کا

فرض ہے جغرافیائی تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ بنے اقوام متحدہ کشمیریوں کو

بھارتی مظالم سے بچائے اور کشمیریوں نسل کشی رکوائے، عالمی برادری نے

مایوس کیا تو کشمیری مزاحمت کیلئے ہرحربہ استعمال کریں گے۔واضح رہے کہ

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے دن سے تاحال غیر

معینہ مدت تک کے لیے کرفیو نافذ کر رکھا ہے اور اس دوران شہریوں کو بنیادی

اشیائے صرف کی قلت کا سامنا ہے جب کہ سیاسی قیادت کو گرفتار کیا جا چکا

ہے۔پریس کانفرنس کے دوران وزیرخارجہ نے بھارتی کانگریس کے رکن راہول

گاندھی کو سری نگر ایئرپورٹ سے واپس بھیجنے کے معاملے پر بھی گفتگو کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت فخریہ انداز میں خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت

کہتا تھا لیکن آج دنیا نے دیکھا کہ اس ‘سب سے بڑی جمہوریت’ نے کس طرح

فسطائیت کا مظاہرہ کیا۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مودی سرکار کے فاشسٹ

رویے کا عملی مظاہرہ آج لوگوں نے سری نگر ایئرپورٹ پر دیکھا، لوک سبھا کے

رکن اور اپوزیشن جماعت کے ایک کلیدی رہنما راہول گاندھی کو 11 اپوزیشن

ساتھیوں کے ساتھ جب دہلی سے سری نگر کے لیے روانہ ہوتے ہیں تو ان کے

ساتھ کیا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام بند ہے،

قدغنیں ہیں، کوئی خبر باہر نہیں آنے دی جاتی لیکن میں ان لوگوں کو سلام پیش

کرتا ہوں جو اپنے ذرائع سے فوٹیج بنا کر عزیز و اقارب کے ذریعے باہر منتقل

کرتے ہیں