241

آئی ایم ایف شرائط پاکستان کے مفادات کیخلاف، چائنہ اکنامک نیٹ

Spread the love

بیجنگ (جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ)

چین کے ممتاز دانشور چینگ زی زانگ نے کہا ہے پاکستان کو دیئے گئے قرض

کے سلسلے میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنے معاہدے میں جو شرائط

رکھی ہیں وہ انتہائی غیر موزوں اور پاکستان کے سماجی اور اقتصادی مفادات

کیخلاف ہیں۔ آئی ایم ایف ایگزیکٹو کمیٹی کی طرف سے پاکستان کیلئے چھ ارب

ڈالر قرض کی منظوری کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اس صورتحال کا جائزہ لیا

ہے اور وہ سمجھتے ہیں اس سے پاکستان کے بنیادی اقتصادی مسائل حل نہیں ہو

سکتے بلکہ اس کے برعکس بہت شدید منفی اثرات ہونگے۔ یہ بتایا گیا ہے کہ

پاکستان آئی ایم ایف سے 2022ء کے مالی سال تک آئی ایم ایف سے چھ ارب ڈالر

کا قرضہ لے گا جبکہ اس نے آئی ایم ایف کو 2023ء تک 4.35 ارب ڈالر کے مزید

قرضہ ادا کرنا ہیں اوراسکے قرضوں میں صرف 1.65 ارب کا حقیقی اضافہ

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کے بجلی مہنگی، ٹیکس بڑھانے کے مطالبات تسلیم

ہوا ہے لیکن پاکستان کبھی بھی آئی ایم ایف کے قرضے سے پائیدار اقتصادی

ترقی حاصل کرنے کے قابل نہیں ہوسکا۔ چائنہ اکنامک نیٹ میں گزشتہ روز شائع

ہونے والے چینگ زی زانگ کے بیان میں مزید بتایا گیا کہ اس کی بڑی وجہ یہ

ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان میں جو اقدامات اٹھا رہا ہے وہ مغربی ترقی یافتہ ممالک

کے معیار کے مطابق اٹھاتا ہے اور وہ انکے نصاب کے مطابق اصلاحات کا

پروگرام طے کرتا ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں کوئی اصلاحات نہیں ہو

سکتیں اور اسلئے پاکستان کیلئے یہ مشکل ہوتا ہے کہ وہ اس قرض سے وہ نتائج

حاصل کرسکے۔ مثال کے طور پر آئی ایم ایف سنٹرل بینک آف پاکستان کو مجبور

کرتا ہے کہ وہ سود کی شرح میں اضافہ کرکے اسے 150 بیسک پوائنٹس سے

12.25 فیصد تک لے آئے۔ مغربی ممالک میں لوگ بینک کے قرض پر اپنی

روزمرہ ضروریات کیلئے زیادہ انحصار کرتے ہیں اسلئے وہاں سود کی شرح میں

اضافہ افراط زر کنٹرول کرنے میں کوئی مدد نہیں کرتا لیکن پاکستان میں بینک

کے قرضے عام طور پر پیداواری سرگرمیوں کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ سود

کی 12 فیصد شرح نجی شعبے کو محدود کردے گی اور پاکستان کی ملکی

پیداواری صلاحیت مزید کم ہوجائیگی۔ پاکستان نے کئی بار آئی ایم ایف سے قرض

حاصل کیا ہے اور اسکے اصلاحات پروگرام کو قبول کیا ہے اس کے باوجود

پاکستان بنیادی طور پر اپنے اقتصادی مسائل حل نہیں کرسکا بلکہ اس نے ہمیشہ

مزید پڑھیں: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) یا طاغوتی شکنجہ

منفی صورتحال سے زبردست نقصان اٹھایا ہے۔ آئی ایم ایف کے اصلاحات پروگرام

میں سب سے بڑا مسئلہ شرح مبادلہ کو آزاد کردینا ہے۔ ٹیکسوں، بجلی اور گیس

کی قیمتوں میں اضافہ جسکی وجہ سے ٹیکس کے بوجھ میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے

لوگوں کا طرز زندگی مہنگا ہوجاتا ہے اور پاکستانی عوام غربت کی لکیر سے

نیچے چلے جاتے ہیں۔ یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ حکومت پاکستان اپنی مالی

مشکلات کا مقابلہ کرنے کیلئے آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کرتی ہے تاہم اس

سارے پس منظر میں پاکستان کو اپنے عوام کا طرز زندگی حقیقی طور پر بہتر

بنانے اسے ترقی کا اپنا راستہ منتخب کرنے کی ضرورت ہے جو اس کے قومی

تقاضوں، اقتصادی ترقی اور اپنے شراکت دار ممالک کے تعاون سے چنا گیا ہو۔

وہ پاکستان کی مدد کرنا چاہتے ہیں اور وہ اس قابل بھی ہے۔ اقتصادی و سماجی

ترقی کو فروغ دینے کیلئے پاکستان کو ہر شعبے میں طویل المعیاد ترقی کی حکمت

عملی اختیار کرنی چاہئے۔ اول یہ کہ پاکستان کو اپنے قومی مفادات اور اقتصادی

ترقی کو اولیت دینی چاہئے۔ تمام مرکزی حکام، تمام سیاسی جماعتوں اور تمام

مقامی حکومتوں کو معمولی مفادات کیلئے آپسمیں لڑائی جھگڑا ختم کردینا چاہئے

ایک دوسرے کیساتھ تعاون اور رابطوں کے ذریعے موثر طور پر کام کرنا چاہئے۔

دوم یہ کہ انہیں اپنی ترقی کیلئے سی پیک سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے۔ موجودہ

صورتحال کا احتیاط اور مختلف خطوں اور صنعتوں کے حوالے سے ترقی کے

جانیئے: بیل آئوٹ پیکیج یا مہنگائی کا پروانہ

لئے اپنی ضروریات کا بڑی احتیاط کیساتھ مطالعہ کرنا چاہئے اور اسکی روشنی

میں قومی ترقیاتی حکمت عملی تیار اور اس کا نفاذ کرنا چاہئے۔ تیسری یہ کہ

پاکستان کو مالی اور کاروباری پالیسیوں کو فروغ دینے کیلئے اقدامات کرنے

چاہئیں۔ بنکوں کی شرح سود کم کرنی چاہئے، اشیائے ضرورت اور خدمات پر

ٹیکس کی شرح میں بھی کمی کی جانی چاہئے۔ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی،

پیداوار اور اخراجات میں بھی ٹیکس کم ہونے چاہئیں۔ کاروباری طبقے اور عوام

کی معاون پالیسیاں اپنانی چاہئیں۔ پیداوار اور رہن سہن کے اخراجات کم ہونے

چاہئیں اور پیداوار کی منظوری کا انتظامی عمل سادہ ہونا چاہئے، ٹیکسوں میں

اضافے کے مقاصد بتدریج حاصل کرنے کی پالیسی اپنانی چاہئے تاکہ اقتصادی

ترقی میں یکسانیت پیدا ہوسکے۔