55

سیکڑوں یہودی آباد کاروں کا قبلہ اول پر دھاوا، بے حرمتی

Spread the love

مقبوضہ بیت المقدس،غزہ،غرب اردن(جے ٹی این آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک)

یہودی شرپسندوں کی طرف سے مسلمانوں کے قبلہ اول پر دھاووں اور مقدس مقام

کی بے حرمتی کا سلسلہ جاری ہے۔ گذشتہ روز دسیوں یہودی شرپسندوں نے مسجد

اقصی میں داخل ہو کر مسلمانوں کے تاریخی مقدس مقام کی بے حرمتی کی۔ مرکز

اطلاعات فلسطین کے مطابق گذشتہ روز138 یہودی آباد کار مسجد اقصی کے

مراکشی دروازے کے راستے صبح اور شام کے اوقات میں اندر داخل ہوتے اور

مذہبی رسومات کی ادائیگی کی آڑ میں قبلہ اول کی بے حرمتی کرتے رہے۔ اس

موقع پر مسجد اقصی کے تمام داخلی و خارجی دروازے بند کردیے گئے اور

یہ بھی پڑھیں: مسجد اقصیٰ میں اعتکاف بیٹھنے والے درجنوں فلسطینی گرفتار

فلسطینیوں کو قبلہ اول میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ خیال رہے مسجد اقصی

کا باب المغاربہ سنہ 1967 کے بعد قابض صہیونیوں کے نرغے میں ہے اور

یہودی اسی دروازے کو قبلہ اول میں دھاووں کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ اس موقع

پر اسرائیلی فوج اور پولیس نے آباد کاروں کو فول پروف سیکیورٹی مہیا کر رکھی

تھی۔ مقامی فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے قبلہ اول پر دھاوے بولنے والے آباد کاروں

میں مذہبی پیشوا بھی شامل تھے۔

نہتے فلسطینیوں پر صہیونی فوج کی فائرنگ، شیلنگ، درجنوں زخمی

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر امن ہفتہ وار ریلیوں پر قابض صہیونی فوج نے

فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی زخمی

ہو گئے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ کی پٹی میں مسلسل 66 ویں ہفتے

کوغزہ کے محاصرے کیخلاف اور حق واپسی کے لئے احتجاجی مظاہرے کیے

گئے۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ کی مشرقی سرحد پر جمعہ کے

اجتماع کے بعد ہونے والے پر امن مظاہروں پر اسرائیلی فوج کے طاقت کے

استعمال کے نتیجے میں امدادی کارکنوں اور ایک صحافی سمیت کم سے کم 55

فلسطینی زخمی ہوگئے، 33 فلسطینی آنسوگیس کی شیلنگ اور دیگر گولیاں لگنے

سے زخمی ہوئے۔ بعض فلسطینی براہ راست گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے جبکہ

درجنوں شہری دھاتی گولیوں اور آنسوگیس کی شیلنگ سے زخمی ہوئے۔ خیال

رہے غزہ میں 30 مارچ 2018ء سے صہیونی ریاست کی طرف سے مسلط کی

گئی ناکہ بندی کیخلاف اور حق واپسی کے لیے مظاہرے جاری ہیں۔ اسرائیلی فوج

فلسطینی مظاہرین کیخلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کرتی چلی آرہی ہے، جس

کے نتیجے میں 300 فلسطینی شہید اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیں: غزہ میں یوم الارض مظاہروں پر صہیونی جارحیت، 4 فلسطینی شہید

دوسری طرف غرب اردن کے وسطی شہررام اللہ میں بعلین اور قلقیلیہ میں کفر

قدوم کے مقامات پر فلسطینی شہریوں نے یہودی آباد کاری اور نسلی دیوار کے

خلاف ہفتہ وار مظاہرے کئے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینی مظاہرین کو

منتشر کرنے کیلئے ان پر فائرنگ اورآنسو گیس کی گئی جس کے نتیجے میں متعدد

فلسطینی زخمی ہوگئے۔ جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔

صہیونی ریاست کو غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے کیلیے ایک ہفتے کی مہلت

اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے خبردار کیا ہے کہ فلسطین کے علاقے غزہ کی

پٹی میں جنگ بندی معاہدے کی صہیونیوں کی طرف سے جاری خلاف ورزیوں پر

خاموش تماشائی نہیں رہیں گے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے

رہنما فتحی حماد نے ایک بیان میں کہا صہیونی حکومت نے غزہ کی پٹی میں

جنگ بندی کے حوالے سے ثالث ممالک کے ذریعے طے پائی شرائط پرعمل

درآمد نہیں۔ انہوں نے اسرائیل کو جنگ بندی معاہدے پرعمل درآمد کیلئے اسرائیل

کو ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے کہا اسرائیل غزہ کی پٹی پرمسلط محاصرہ ایک

ہفتے کے اندر ختم اور جنگ بندی شرائط پرعمل درآمد یقینی بنائے۔ فتحی حماد نے

غزہ میں جاری ہفتہ وار احتجاجی ریلی سے خطاب میں کہا اسرائیلی ریاست کی

ٹال مٹول کی پالیسی سے فلسطینی قوم کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ غزہ کی

جانیئے: صدر ٹرمپ کا اعلان ، مشرق وسطیٰ کیلئے امریکی پالیسی کا نیا رخ

پٹی میں حالات آتش فشاں بن کر پھٹنے والے ہیں۔ غرب اردن میں بھی صہیونی

ریاست کے مظالم کیخلاف فلسطینیوں میں غم وغصہ بڑھ رہا ہے۔ ہمارے پاس

اسرائیل کو جنگ بندی کی شرائط پرعمل درآمد کرانے کیلئے متعدد آپشن موجود

ہیں۔ ہم اسرائیلی ریاست کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں پر

خاموش نہیں رہیں گے۔ فتحی حماد نے القسام بریگیڈ کے کمانڈر محمود الادھم کی

اسرائیلی فوج کے ہاتھوں شہادت کو ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قرار دیا

اور کہا القسام بریگیڈ کی شہادت جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔