55

ملک گیر شٹرڈائون ہڑتال ریفرنڈم، حکومت ہوش کے ناخن لے، تاجر برادری

Spread the love

لاہور،اسلام آباد،کراچی،پشاور،کوئٹہ(جے ٹی این آن لائن نیوز رپورٹرز)

حکومت کی جانب سے اضافی ٹیکس اور پالیسی کیخلاف انجمن تاجران پاکستان کی

کال پر ملک گیر کامیاب ہڑتال پر تاجر برادری کی جانب سے انتہائی خوشی کا

اظہار کیا جا رہا ہے اور تاجر تنظیموں کا کہنا ہے، حکومت ہفتہ 13 جولائی کی

ملک گیر کامیاب شٹرڈائون ہڑتال کو اپنی پالیسیوں کےخلاف ریفرنڈم سمجھتے

ہوئے اضافی ٹیکس عائد کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے، بصورت دیگر

تاجر براردی اسلام آباد کی جانب مارچ کر نے پر مجبور ہو گی، جس کی تمام تر

ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہو گی، واضح رہے ہفتہ 13 جولائی کو تاجر

برادری نے انتہائی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شٹرڈائون ہڑتال کی جس کے

باعث کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور اسلام آباد سمیت ملک بھر میں کاروباری

مراکز اور مارکٹیں بند رہیں، تاجروں کی جانب سے مختلف مقامات پر احتجاجی

کیمپ لگا کر مطالبات کے حق میں نعرے بھی لگائے گئے، شٹرڈائون ہڑتال کے

باعث روزانہ اجرت پر کام کرنیوالے مزدور مایوس ہو کر گھروں کو واپس لوٹ

گئے، تاجر تنظیموں کے عہدیداروں کا کہنا ہے حکومت ہمارے ساتھ مذاکرات

کرے اگر ہمارے مطالبات جائز نہ ہوں تو انہیں رد کر دیا جائے اگر جائز ہوں تو

انہیں مان لے، سال 2019ء کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرائیں گے ،

یہ بھی پڑھیں: 13 جولائی کی ہڑتال پر تاجر دوحصوں میں تقسیم

ہمارے مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو اسلام آباد کی طرف تاجر مارچ، ایف بی آر کے

ہیڈ کوارٹر کے سامنے دھرنا اور غیر معینہ مدت کیلئے شٹر ڈائون ہڑتال کی کال

بھی دے سکتے ہیں جبکہ حکومت نے ہڑتال کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ

تاجروں نے سیاسی جماعتوں کے چند آلہ کاروں کی ہڑتال کی کال کو یکسر مسترد

کردیا، ملک مشکل معاشی حالات سے گزر رہا ہے احتجاج اورہڑتالوں کا متحمل

نہیں ہوسکتا۔ آل پاکستان انجمن تاجران(نعیم میر گروپ)، آل پاکستان انجمن تاجران

(اشرف بھٹی گروپ) سمیت دیگر تاجر تنظیمیں وفاقی بجٹ میں ٹیکسز کیخلاف ہیں

اور انکا مطالبہ ہے کہ یہ ٹیکسز واپس لئے جائیں، گزشتہ روز کی تاجر برادری

کی ہڑتال کی مزدا ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی مکمل حمایت کی گئی اور

تاجروں کی کال پر ٹرانسپورٹ بند رکھی گئی۔ اس دوران پولیس کی جانب سے شر

پسند عناصر سے نمٹنے کیلئے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے گئے اور

خصوصی طو رپر کھلے ہوئے کاروبار ی مراکز کے اطراف میں پیٹرولنگ کی

جاتی رہی ۔ نعیم میر نے دیگر تاجر رہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے

ہوئے وزیراعظم کو مذاکرات کی دعوت دی اور کہا وزیراعظم ہماری بات سنیں،

مطالبات جائز ہوں تو مانیں ورنہ رد کردیں۔ شٹر ڈائون ہڑتال حکومت کے ٹیکسوں

کیخلاف تاجروں کا ریفرنڈم ہے، حکمرانوں کی تاجروں کو تقسیم کرنے کی کوشش

ناکام ہوئیں، حکومت ہڑتال کے نتیجے میں ہوش کے ناخن لے ورنہ آئندہ کی

حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ پاکستان کی تاریخ میں اس سے بڑی ہڑتال نہیں

ہو سکی۔ کراچی سے خیبر تک کاروبار بند رہا۔ ہمارے جو دوست واپس آ گئے ہیں

ہم انہیں برا نہیں کہتے، ان سے غلطی ہوئی ہے تو انہیں معاف کرتے ہیں۔ کامیاب

ہڑتال سے ثابت ہو گیا تاجر متحد ہیں، تاجروں نے ٹیکس دینے سے کبھی بھی

انکار نہیں کیا لیکن حالیہ بجٹ میں جس طرح کے ظالمانہ ٹیکسز کا نفاذ کیا گیا ہے

اس سے تاجر وں کی کمر توڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہڑتال سے اربوں کا

نہیں کھربوں کا نقصان ہوتا ہے اسلیے حکومت ہوش کے ناخن لے اور ہماری

مذاکرات کی پیشکش کو قبول کر کے معاملے کا مناسب اور جائز حل نکالے۔

مزید پڑھیں: تاجر برادری کی ہڑتال بلا جواز ہے، شبر زیدی

کامیاب ہڑتال پرتاجرتنظیموں کے شکرگزار ہیں۔ حکومت عائد کیے گئے ٹیکسوں

کے فیصلوں پر نظر ثانی کرے انہیں واپس لے۔ان ٹیکسوں کی وجہ سے مہنگائی کا

طوفان آئے گا جس سے تاجروں سمیت عام آدمی بھی پس کر رہ جائے گا۔ 12لاکھ

روپے سالانہ آمدن پر ٹیکس چھوٹ بحال، سیلز انوائس پر شناختی کارڈز کا نمبر

درج کرنے کی شرط ختم کی جائے۔ 1.5 فیصد ٹرن اوور ٹیکس کی بجائے ظاہر

شدہ منافع پر ٹیکس وصول کیا جائے۔ تاجروں کو ودہولڈنگ ایجنٹ نہ بنایا جائے۔

ہول سیلز‘ریٹیلرز کو سیلز ٹیکس کی رجسٹریشن سے استثناء دیا جائے۔ کسی بھی

ٹیکس گزار کا آڈٹ 3 سال میں صرف ایک دفعہ کیا جائے، ٹیکس گوشوارے

بھرنے میں غلطی پر فوجداری مقدات کا قانون ختم جبکہ جرمانوں کی پرانی شرح

بحال کی جائے۔ چینی، گھی، ٹیکسٹائل، سریا، سیمنٹ، ماربل، موبائل فونز، رئیل

اسٹیٹ اوردیگر شعبوں پر عائد کردہ ناقابل عمل ظالمانہ ٹیکس ختم کئے جائیں

ورنہ مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رکھیں گے۔