206

ماہ ستمبر اورافغانستان، امن کی نوید یا سیراب؟

Spread the love

(تحریر:… چودھری عاصم ٹیپو ایڈووکیٹ)

افغانستان کی 18سالہ موجودہ جنگ دھیرے دھیرے اپنے اختتام کو پہنچتی نظر آ

رہی ہے،اگرچہ اس جنگ میں کھربوں ڈالر جھونکنے اور ہزاروں قیمتی جانیں

قربان کرنے کے باوجود امریکہ اپنے مقصد کے حصول میں ناکام ونامراد رہا، دنیا

کی واحد سپر پاور افغانوں کو شکست دینے سے آج بھی اتنی ہی دور ہے جتنی 15

سال پہلے اس جنگ کے آغاز پر تھی، اب امریکہ اس کمبل کو چھوڑنا چاہتا ہے

مگر کمبل اسے نہیں چھوڑ رہا، طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے امریکہ

نے ایک بار پھر پاکستان کا سہارا لیا، جس نے افغان امن مذاکرات کی کامیابی کے

لئے اپنی استطاعت سے بڑھ کر معاونت کی، خلیجی ریاست قطر کے دارالحکومت

دوحہ میں پاکستان،امریکہ اور جرمنی کے تعاون سے افغان امن عمل کے ساتویں

مرحلے کے مذاکرات کا 5 جولائی کو شروع ہونے والا دور 2 سیشن پر مبنی تھا

پہلا سیشن افغان حکومت، مقامی گروہوں، سول سوسائٹی اور طالبان جبکہ دوسرا

دو روزہ سیشن امریکہ اور طالبان کے درمیان تھا۔ طالبان اور افغان حکومت کے

درمیان براہ راست سیشن میں افغان حکومت، طالبان، خواتین اور سول سوسائٹی

کے نمائندے شریک ہوئے، یہ مذاکرات سوموار کو ختم ہوئے مگر مشترکہ اعلامیہ

منگل کو جاری کیا گیا۔ مذاکرات میں شرکاء نے اتفاق کیا کہ جنگ کے خاتمے کے

بعد افغانستان میں اسلامی قانون نافذ کیاجائیگا، جس میں خواتین کے حقوق کا تحفظ

یقینی بنایاجائیگا اور تمام مذاہب کے ماننے والوں کے حقوق کی ضمانت بھی دی

جائیگی۔

یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان سے مذاکرات میں معاونت،امریکہ پاکستان کا مشکور

قطراور جرمنی کے تعاون سے ہونیوالے ان مذاکرات میں افغان حکومت کے

نمائندے اور طالبان نے تشدد میں کمی لانے کا بھی وعدہ کیا۔ مذاکرات کے بعد

قطری وزارت خارجہ کے جاری کردی بیان میں کہا گیا ’’ ہم بہت خوش ہیں ہمارا

ایک مشترکہ بیان پر اتفاق ہوگیا ہے جو امن کیلئے پہلا قدم ہے‘‘افغان طالبان اور

افغان نمائندوں کے درمیان ہونیوالی ملاقات کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آنے کے

بعد امید کی جا رہی ہے افغانستان میں گزشتہ 18 برس سے جاری جنگ کے

خاتمے کیلئے ایک روڈ میپ پر جلد اتفاق ہو سکے گا۔ واشنگٹن حکومت کو بھی

امید ہے یہ روڈ میپ یکم ستمبر تک تیار ہو جائیگا جس کے بعد افغانستان میں

تعینات امریکی اور نیٹو فورسز کی واپسی بھی ممکن ہو سکے گی۔

جرمن سفارتکار اور افغانستان کیلئے خصوصی نمائندے مارکس پوٹزل کا کہنا تھا

افغان طالبان اور حکام نے’’تشدد میں کمی لانے کا وعدہ‘‘ کیا ہے۔ افغانستان کیلئے

امریکہ کے خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد نے بھی دوحہ انٹرا افغان امن

کانفرنس کے کامیاب اختتام پر واشنگٹن دفتر سے جاری اعلامیہ کے حوالے سے

بات کرتے ہوئے کہا افغان حکومت کی طالبان سے ہونیوالی ملاقات ایک بڑی

کامیابی ہے۔ امریکہ اور طالبان نے طے کیا ہے وہ تمام اختلافی امور پر جامع

سمجھوتہ طے کرنے کے بعد آپس میں کبھی جنگ نہیں لڑیں گے۔ یہ کانفرنس ایک

مثبت نوٹ پر ختم ہوئی جس میں کامیابی کیساتھ ایک مشترکہ بنیاد تلاش کرنے پر

میں شرکاء کو مبارکباد دیتا ہوں جن میں افغان سوسائٹی کے نمائندے، سرکاری

حکام اور طالبان شامل ہیں۔ مشترکہ اعلامیہ میں اقوام متحدہ، علاقائی ممالک،

امریکہ اور کانفرنس کا اہتمام کرنیوالوں کے جذبے کی خصوصی تعریف کی گئی

اور امید ظاہر کی گئی کہ افغانستان میں حقیقی قیام امن کیلئے یہ تمام فریق مثبت

کردار ادا کرتے رہیں گے۔

امن کانفرنس کے اعلامیہ کے مطابق فریقین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ افغانستان

میں پائیدار اور باوقار امن کا قیام افغان عوام کی خواہش کے مطابق کیا جائیگا جس

کیلئے ضروری ہے تمام افغان امن عمل میں شریک ہوں۔ اعلامیہ میں افغانستان کو

ایک متحد اسلامی ملک تسلیم کرتے ہوئے اس میں موجود تمام قبیلوں، برادریوں،

اسلامی اقدار اور اعلیٰ سماجی وسیاسی انصاف، قومی وحدت اور علاقائی خود

مختاری کے اصولوں کو مدنظر رکھنے کا بھی عہد کیا گیا۔ جن کی افغان عوام بہت

قدر کرتے ہیں۔ افغانوں نے اپنی تمام تاریخ اور خصوصاً گزشتہ 40 برسوں کے

دوران ہمیشہ اپنے مذہب، ملک اور ثقافت کا دفاع کیا اور اپنی آزادی کیلئے قربانیاں

دی ہیں، اب افغانستان میں دوبارہ لڑائی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ افغان

معاشرے کے تمام طبقوں کے درمیان سمجھوتہ انتہائی اہم اور ناگزیر ہے۔ اعلامیہ

میں دنیا کی دیگر اقوام پر زور دیا گیا کہ وہ افغانستان کی ان اقدار کا پاس کریں۔

افغان قوم نے طویل عرصے سے جاری جنگ سے شدید نقصان اٹھایا ہے اسلئے

اب ضروری ہے انٹرا افغان مذاکرات کیلئے یہ یقینی بنایا جائے کہ متحارب گروہ

سرکاری اجلاسوں کے دوران ایک دوسرے سے بدلہ لینے اور دھمکیاں دینے یا

غیر مناسب الفاظ کے استعمال سے گریز کریں۔ بیان میں تمام گرفتار ضعیف،

معذور اور بیمار افراد کو فوراً رہا کرنے اور عوامی اداروں کے تحفظ کو یقینی

بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ اعلامیہ کی ایک اہم بات یہ تھی کہ اس میں سیاسی،

سماجی، اقتصادی، تعلیمی اور ثقافتی شعبوں میں اسلامی اقدار کے مطابق خواتین

کے حقوق کو یقینی بنانے، تارکین وطن اور بے دخل ہونیوالے افراد کی واپسی کو

یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ مشترکہ بیان میں ہمسایہ ممالک سے افغانستان کے

اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی درخواست کی گئی اور اقوام متحدہ،

سلامتی کونسل، یورپی یونین اور افغانستان کے ہمسایہ ممالک سے اپیل کی گئی کہ

وہ ماسکو اور دوحہ میں ہونیوالی کانفرنسوں کی حمایت کریں۔ تاہم اس سب کے

حوالے سے طالبان ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا بات چیت میں اہم پیشرفت ہوئی

ہے لیکن افغانستان میں جنگ بندی سے متعلق حتمی فیصلے کا اعلان امریکہ سے

براہ راست مذاکرات کے بعد کیا جائیگا۔ افغان سیاسی جماعتوں اور گروہوں کی

خواہش ہے ملک میں جلد جنگ بندی کا اعلان کیا جائے لیکن افغان سرزمین سے

غیر ملکی افواج کے انخلا ء تک ملک میں امن کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

مزید پڑھیں: طالبان امریکہ کاافغانستان سے افواج کے انخلا، دہشتگردی روکنے پر اتفاق

افغانستان پر امریکی حملے کو 18سال مکمل ہو چکے اور ان 18برسوں میں

کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود امریکہ کو جنگ میں ذلت و رسوائی کے سوا

کچھ نہیں ملا۔ جنرل نکلسن تقریباً اڑھائی سال تک افغانستان میں امریکی اور نیٹو

افواج کے کمانڈر رہے۔ افغانستان کے محاذ پر انہوں نے چار مرتبہ مختلف عہدوں

پر فرائض انجام دئیے، اسلئے افغان جنگ کی گہرائی کے بارے میں شاید ان سے

زیادہ کوئی نہ جانتا ہو۔ اسی لئے انکا اپنی ریٹائرمنٹ پر ایک الوداعی تقریب میں

کہنا تھا میں اپنے دل کی بات کرنا چاہتا ہوں اب وقت آ گیا ہے ہم اس جنگ کو ختم

کر دیں یہ جنگ امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ ہے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ اس

جنگ کے ابتدائی مقاصد امریکی سیاستدانوں اور فوجی کمانڈروں کے ذہن سے

محو ہوگئے۔ اب یہ جنگ صرف اسلئے لڑی جا رہی ہے کہ امریکی فوجیں یہاں

موجود ہیں۔ سابق امریکی صدر بارک اوبامہ نے 2014ء میں افغانستان سے

امریکی فوجوں کے انخلاء کا وعدہ کیا مگر فوجی کمانڈروں نے انہیں ایسا کرنے

سے روک دیا جس کے باعث8 ہزار امریکی فوجی افغان فوج کی تربیت اور

خصوصی آپریشنز کیلئے افغانستان میں تعینات رہے اور باقی فوجیوں کو واپس بلا

لیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے بھی نہ چاہتے ہوئے اپنے انتخابی وعدہ کے برعکس

افغانستان میں تعینات امریکی فوج میں چار ہزار امریکی فوجیوں کا اضافہ کیا اور

کارکردگی بہتر بنانے کیلئے انہیں آزادانہ فیصلوں کا اختیار بھی دیدیا۔ اس کیساتھ

ساتھ صدر ٹرمپ نے جنوبی ایشیاء کے بارے میں اپنی نئی پالیسی کا اعلان کیا

جس میں پاکستان پر شدید تنقید کی گئی اور بھارت کو نہ صرف سراہا گیا بلکہ

اسے اپنا سٹریٹجک پارٹنر بھی قرار دیا۔ اب ٹرمپ کی آدھی سے زائد صدارتی

مدت گزر گئی مگر افغانستان میں امریکہ کو کوئی کامیابی نصیب نہیں ہوئی جس

کے بعد امریکہ کو مجبوراً پاکستان کے سامنے گھٹنے ٹیکنا پڑے اور طالبان کو

مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے امریکہ کو پاکستان کی منت سماجت کرنا پڑی

کیونکہ امریکہ کی لاکھ کوششوں کے باوجود افغانستان میں حالات تبدیل نہ ہوئے

اور امریکی حکومت افغانستان میں ہونیوالے اپنے نقصان کو امریکی عوام سے

پوشیدہ رکھنے پر اب تک مجبور رہی۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے افغان

جنگ کے 18سال مکمل ہونے پر اس جنگ کے بارے میں ایک طویل رپورٹ شائع

کی تھی جس میں افغانستان میں ہونیوالے امریکی نقصانات پر مفصل روشنی ڈالی

گئی، جس کے مطابق اس جنگ میں 2200 سے زائدامریکی فوجی ہلاک ہو چکے

جبکہ اس جنگ پر امریکہ 840 ارب ڈالر خرچ کر چکا یہ اخراجات نہ صرف کسی

بھی امریکی جنگ سے زیادہ ہیں بلکہ اس رقم سے بھی کہیں زیادہ اس میں امریکہ

نے دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد مغربی یورپ کی تعمیر اور مارشل

پلان کے تحت برداشت کئے تھے۔ ان اخراجات کیلئے امریکی حکومت اپنے عوام

سے مسلسل جھوٹ بولتی رہی کہ افغانستان میں امریکہ طالبان کیخلاف مضبوط ہو

رہا ہے جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے امریکہ اور افغان حکومت خود

تسلیم کرتے ہیں اسوقت طالبان افغانستان کے 60 فیصد سے زائد علاقے پر قابض

ہیں اور افغان حکومت کی عملداری صرف چند شہروں تک محدود ہے، امریکی

جانیئے: امن یا جنگ،افغان طالبان کے پاس دونوں آپشن کھلے ہیں،امریکہ

فوجی ذرائع دعویٰ کرتے ہیں افغان فوج کی تعداد 3 لاکھ 14ہزار ہے جبکہ طالبان

کی تعداد 60 ہزار ہے جبکہ افغان حکومت کا کہنا ہے ان کے جنگجوؤں کی تعداد

2 لاکھ ہے۔ اپنی الوداعی تقریر میں جنرل نکلسن کا یہ بھی کہنا تھا اگرچہ میں

پاکستان کو امن کا مخالف سمجھتا رہا مگر حقیقت یہ ہے وہ ایسے بیان اپنے

فوجیوں کی ناکامی کو چھپانے کیلئے دیتے رہے۔ امریکہ افغانستان میں آنے کے

تھوڑے عرصے بعد جنگ کے اصل مقاصد بھول گیا جس کے باعث اس جنگ کا

یہی انجام ہونا تھا، خصوصاً اس دشمن کے سامنے جو امریکی تہذیب، ترقی، جنگی

سازوسامان سے رتی برابر بھی مرغوب نہیں۔ امریکہ کے مقابلے طالبان کا اپنی

زمین غیر ملکی قابضین سے چھڑانا ایک بڑا مقصد ہے جس کے باعث جنگ

کیلئے ان کے جذبے میں کمی نہیں آئی۔ جنرل نکلسن کے ان حقائق کی سمجھ جب

امریکی انتظامیہ کو آئی تو انہوں نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی سنجیدہ کوششیں

شروع کر دیں اور پاکستان کی مدد سے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں

کامیاب رہا۔

افغانستان کے بڑے جنگی سردار

کئی سابق جنگی سردار اب ملکی سیاست میں بھی فعال ہیں یا ہو رہے ہیں۔ ایسے

ہی کچھ اہم افغان جنگی سردار، جن میں سے چند اب اس دنیا میں نہیں رہے تاہم

کچھ اب بھی ملک میں اپنا اپنا اثرو رسوخ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

ملا داد اللہ آخوند

ملا داداللہ 1966ء کو قندھار میں کاکڑ پشتون قبیلے میں پیداہوئے،1980ء کی دہائی

میں سوویت فورسز کیخلاف لڑائی میں ملا داد اللہ کی ایک ٹانگ ضائع ہو گئی تھی۔

مجاہدین کے اس کمانڈر کو طالبان کی حکومت میں وزیر تعمیرات مقرر کیا گیا تھا۔

وہ ملا محمد عمر کے قریبی ساتھی تھے۔ ملا داد اللہ 13مئی2007ء میں امریکی

اور برطانوی فورسز کی ایک کارروائی میں مارے گئے۔

عبدالرشید دوستم

افغانستان کے پہلے نائب صدرجنرل عبدالرشید دوستم 25 مارچ 1954ء کو جوز

جان افغانستان میں پیدا ہوئے، افغان نیشنل آرمی کی چھٹی کور کے جنرل

عبدالرشید دوستم کا سیاسی تعلق ’’جنبش ملی‘‘ سے ہے،وہ افغان جنگ کے دوران

ازبک ملیشیا ء کے کمانڈر تھے، جنہوں نے 80ء کی دہائی میں نہ صرف مجاہدین

کیخلاف لڑائی میں حصہ لیا بلکہ 90ء کے عشرے میں طالبان کیخلاف لڑائی میں

بھی شریک تھے، انہیں طالبان قیدیوں کے قتل عام کا ذمہ دار بھی قرار دیا جاتا

ہے۔ 2003ء میں انہوں نے اشرف غنی کی انتظامیہ میں شمولیت سے پہلے خانہ

جنگی کے دوران کی گئی اپنی کارروائیوں پر عام معافی بھی مانگ لی تھی۔

عبدالرشید دوستم اب تک تین سے زائد خودکش حملوں میں بال بال بچ چکے ہیں۔

محمد قسیم فہیم

مارشل فہیم کے نام سے مشہور محمد قسیم فہیم1957ء کو افغان صوبے پنج شیر

کے ایک چھوٹے سے گاؤں اومرز میں عبدالمتین کے گھرمیں پیدا ہوئے، ابتدائی

تعلیم کے بعد کابل سے اسلامی شریعت، قانون اور عربی زبان میں اعلی تعلیم

حاصل کی، افغان انٹیلی جنس ایجنسی ’’خاد ‘‘کیلئے بھی کام کرتے رہے بعد ازاں

افغان نیشنل آرمی میں فیلڈ مارشل کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے۔ اس جنگی سردار

نے احمد شاہ مسعود کے نائب کے طور پر بھی خدمات سر انجام دیں۔ 2001ء میں

احمد شاہ مسعود کی ہلاکت کے بعد انہوں نے شمالی اتحاد کی کمان سنبھال لی اور

طالبان کیخلاف لڑائی جاری رکھی۔ وہ اپنے جنگجوؤں کی مدد سے کابل فتح کرنے

میں کامیاب ہوئے اور بعد ازاں وزیر دفاع بھی بنائے گئے۔ وہ دو مرتبہ افغانستان

کے نائب صدر بھی منتخب کیے گئے۔ ان کا انتقال 9 مارچ 2014ء میں ہوا۔

گلبدین حکمت یار

حزب اسلامی کے رہنما گلبدین حکمت یاریکم اگست 1949ء کوصوبہ قندوز کے

علاقے امام صاحب میں گھلجی پشتون کے خروطی قبیلے میں پیدا ہوئے، ان کے

والد غلام قادر غزنی صوبے سے ہجرت کرکے آئے تھے، حکمت یار کو 1968ء

میں سیاسی نظریات کی بنا پر مہتاب قلعہ ملٹر ی اکیڈمی سے نکال دیا گیا، اس کے

بعد انہوں نے کابل یونیورسٹی میں انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لیا تاہم ڈگری

مکمل نہ کرسکے، انہیں انجینئر حکمت یار کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے، وہ

افغانستان کے وزیراعظم بھی رہے، افغان جنگ کے دوران گلبدین حکمت یار کو

امریکہ، سعودی عرب اور پاکستان کی طرف سے مالی معاونت فراہم کی گئی تھی۔

تاہم اپنے حریف گروپوں کیخلاف پرتشدد کارروائیوں کے باعث وہ متنازعہ ہو گئے

تب انہوں نے اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی خاطر یہ کارروائیاں سر انجام دی

تھیں۔ گلبدین حکمت یار کو امریکہ نے دہشتگرد بھی قرار دیا تھا۔ اب وہ ایک مرتبہ

پھر افغان سیاست میں قدم رکھ چکے ہیں۔

محمد اسماعیل خان

اسماعیل خان 1946ء میں افغان صوبے ہرات کے ضلع شندند میں پیدا ہوئے، انکے

آباؤاجداد تاجک تھے، وہ 1979ء میں افغان نیشنل آرمی میں کپتان کے عہدے پر

فائز رہے، اسی دوران کمیونسٹ گورنرکے گھر کے باہر احتجاج کرنیوالے

مظاہرین کو اسماعیل خا ن اور دیگر نے فوج کے ہتھیار دیدیئے جس سے بڑے

پیمانے پر قتل وغارت ہوئی۔ سیاسی پارٹی جماعت اسلامی کے اہم رکن اسماعیل

خان موجودہ حکومت میں وزیر برائے پانی اور توانائی کے طور پر فرائض سر

انجام دے رہے ہیں اور افغان سیاست میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے صوبہ

ہرات پر قبضے کی خاطر تیرہ برس تک جدوجہد کی۔ بعد ازاں وہ اس صوبے کے

گورنر بھی بنے۔ تاہم 1995ء میں جب ملا عمر نے ہرات پر حملہ کیا تو اسماعیل

کو 8 ہزار ساتھیوں کے ہمراہ ایران فرار ہونا پڑا۔ تب وہ شمالی اتحاد سے جا ملے۔

محمد محقق

محمد محقق 26 جولائی 1955ء کو صوبہ بلخ کے علاقے مزار شریف میں پیدا

ہوئے، محمد محقق نے بھی 80ء کی دہائی میں مجاہدین کیساتھ مل کر سوویت

فورسز کیخلاف لڑائی میں حصہ لیا۔ 1989ء میں افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں

کے انخلا کے بعد انہیں شمالی افغانستان میں حزب اسلامی وحدت پارٹی کا سربراہ

مقرر کر دیا گیا۔ ہزارہ نسل سے تعلق رکھنے والے محقق اس وقت بھی ملکی

پارلیمان کے رکن ہیں۔ وہ ماضی میں ملک کے نائب صدر بھی منتخب کیے گئے

تھے۔

احمد شاہ مسعود

تاجک نسل سے تعلق رکھنے والے ’’شیر پنج شیر ‘‘کے نام سے مشہور احمد شاہ

مسعود 2 ستمبر 1953ء کو وادی پنج شیر میں پیدا ہوئے، ان کا تعلق تاجک سنی

مسلم گھرانے سے تھا،وہ افغان جنگ میں انتہائی اہم رہنما تصور کیے جاتے تھے۔

انہوں نے طالبان کی پیش قدمی کو روکنے کی خاطر شمالی اتحاد نامی گروہ قائم

کیا تھا۔ انہیں 1992ء میں افغانستان کا وزیر دفاع بنایا گیا تھا۔ احمد شاہ افغانستان

کے نائب صدر بھی رہے، انہیں نائن الیون کے حملوں سے دو دن قبل 9 ستمبر

2001ء کوقتل کر دیا گیا تھا۔

ملا محمد عمر

ملا محمد عمر 1959ء میں افغان صوبہ قندھار میں پیدا ہوئے، افغان جنگ میں

مجاہدین کے شانہ بشانہ لڑنے والے ملا عمر طالبان کے روحانی رہنما تصور کیا

جاتے ہیں۔ انہوں نے 1996ء میں کئی اہم افغان جنگی سرداروں کو شکست سے

دوچار کرتے ہوئے ’’اسلامی امارات افغانستان‘‘ کی بنیاد رکھی اور 2001ء تک

افغانستان کے غیر اعلانیہ سربراہ مملکت رہے۔ 2001ء میں امریکی اتحادی

فورسز کے حملے کے بعد ملا عمر روپوش ہو گئے۔ انہوں نے دارالعلوم حقانیہ

سے تعلیم حاصل کی، اسامہ بن لادن کی معاونت پر مطلوبہ افراد کی امریکی لسٹ

میں بھی شامل رہے۔ 23 اپریل 2013ء میں ژوب میں انتقال کر گئے تھے۔

گل آغا شیرزئی

گل آغا شیرزئی 1954ء میں پیدا ہوئے، انہیں محمد شفیق کے نام سے بھی جانا جاتا

ہے، مجاہدین سے تعلق رکھنے والے سابق جنگی سردار شیرزئی نے نجیب اللہ کی

حکومت کا تختہ الٹنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ دو مرتبہ قندھار جبکہ ایک بار

ننگرہار صوبے کے گورنر رہے۔ طالبان نے جب 1994ء میں قندھار پر قبضہ کیا

تو گل آغا شیرزئی روپوش ہو گئے۔ 2001ء میں انہوں نے امریکی اتحادی فورسز

کے تعاون سے اس صوبے پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ گل آغا شیر زئی اسوقت افغان

حکومت کے سرحدی اور قبائلی امور کے وزیر ہیں۔

عبدالرب رسول سیاف

عبدالرب رسول سیاف 1946ء میں افغان صوبہ کابل کے علاقے پگھمان میں پیدا

ہوئے، سیاف ایک مذہبی رہنما تھے، جنہوں نے افغان جنگ میں مجاہدین کا ساتھ

دیا۔ کہا جاتا ہے سیاف نے ہی پہلی مرتبہ اسامہ بن لادن کو افغانستان آنے کی

دعوت دی تھی، اس کے بعد وہ اسامہ بن لادن کے قریبی ساتھیوں میں شامل ہو

گئے تھے۔ افغان جنگ کے بعد بھی سیاف نے اپنے عسکری تربیتی کیمپ قائم

رکھے۔ انہی کے نام سے فلپائن میں ’’ابو سیاف‘‘ نامی گروہ فعال ہے۔ افغان صدر

حامد کرزئی نے انہیں اپنی حکومت میں شامل کر لیا تھا۔

Tipu.Asim@yahoo.com