37

احتساب جج ارشد ملک عہدے سے فارغ

Spread the love

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو لیک

اسکینڈل سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا۔چیف جسٹس آف

پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ 16 جولائی کو

کیس کی سماعت کرے گا۔دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے احتساب عدالت

کے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانے کے لیے وزارت قانون کو لکھاخط جس

میں کہا گیا ہے کہ ویڈیو ریلیز کے معاملے کے بعد جج ارشد ملک کو فوری طور

یہ بھی پڑھیں:ویڈیو سکینڈل، جج صاحب محض پریس ریلیز ناکافی

پر عہدے سے ہٹا دیا جائے اور جج ارشد ملک کی ذمہ داریاں واپس لاہور

ہائیکورٹ کے سپرد کر دی جائیں۔اس خط کے بعد احتساب عدالت کے جج ارشد

ملک کو ان کے عہدے سے ہٹا کر انہیں ان اپنے محکمے لاہو ہائیکورٹ رپورٹ

کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اس سے قبل جج ارشد ملک نے ویڈیو سکینڈل پر

اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق کو خط اور بیان حلفی

لکھ کر مریم نواز کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ۔

جسٹس عامر فاروق نے ہائیکورٹ کے رجسٹرار کو حکم دیا کہ جج ارشد ملک کے

خط اور بیان حلفی کو نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیل کے ریکارڈ کا حصہ

بنایا جائے۔ جسٹس عامر فاروق کے حکم پر فوری عمل درآمد کرتے ہوئے رجسٹر

نے خط اور بیان حلفی کو ریکارڈ کا حصہ بنادیا۔جج ارشد ملک کے چار صفحات

پر مشتمل خط میں کہا گیا ہے کہ مہر جیلانی اور ناصرجنجوعہ نے نوازشریف کا

مزید پڑھیں:عدالتی نظام اجازت دے پریس کانفرنس کر سکتا ہوں، جج ارشد ملک

کیس آنے سے پہلے مجھ سے رابطہ کرکے کہا کہ ہم نے آپ کو یہاں لگوایا ہے،

کیس جیسے ہی میرے پاس آیا تو دھمکیاں اور لالچ دینا شروع کردیا، سماعتوں کے

دوران ناصر جنجوعہ نے ملاقات کرکے کہا جتنے پیسے چاہئیں لیں، فیصلہ حق

میں دینے پر میاں صاحب منہ مانگی قیمت دیں گے، لیکن میں نے کسی لالچ اور

دھمکی کے بغیر فیصلہ دے دیا۔اپنے بیان حلفی میںجج ارشد ملک نے کہا کہ نواز

شریف کے کیس کے فیصلے کے بعد کچھ عرصے تک خاموشی رہی، پھر کچھ

ماہ بعد ایک شخص نے مجھے ویڈیو دکھائی جو ٹیمپرڈ (ردو بدل شدہ) تھی اور

غیر اخلاقی حرکات پر مبنی تھی، اپریل میں ناصر بٹ نے مجھے ملتان والی

غیراخلاقی ویڈیو دھمکی کے طور پر دکھائی مجھے کہا گیا کہ یہ تم ہو، مجھ پر

دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی لیکن میں نہ مانا۔جج ارشد ملک نے کہا کہ ناصر بٹ

نے مجھے دھمکی دی کہ آپ کو میاں صاحب سے ملاقات کرنا ہوگی، میں ناصر

بٹ کے ساتھ جاتی عمرہ گیا، مجھے سے ملتے ہوئے میاں صاحب کا موڈ کافی

خراب تھا، میں نے وضاحت کرنے کی کوشش کی لیکن میاں صاحب نے خوش آئند

ردعمل نہ دیا، ناصر بٹ نے دھمکیاں دے کر کہا کہ فیصلے میں قانونی سقم

بتادیں، میں نے ناصر بٹ کے مطالبے کو قبول کرلیا۔جج ارشد ملک نے کہا کہ مئی

میں عمرے پر سعودی عرب گیا جہاں مجھ سے حسین نواز کی فون پر بات ہوئی،

انہوں نے مجھے بے پناہ پیسہ دینے کی آفر کی، اس کے ساتھ ساتھ برطانیہ میں

میری اور اہل خانہ کی رہائش کی بھی پیشکش کی گئی، (ن) لیگ کا کہنا تھا کہ میں

استعفی دے کر کہوں کہ میں نے فیصلہ دباؤ میں دیا، حلفیہ کہتا ہوں کہ فیصلہ حق

اور انصاف کی بنیاد پر دیا اور میرے خلاف پریس کانفرنس میں سب جھوٹ دکھایا

گیا۔