171

بھارت کا 2سوفیصد ڈیوٹی کے نفاذ سے قبل پاکستانی درآمد شدہ کھجور کلیئر کرنے سے انکار

Spread the love

کراچی(کامرس رپورٹر)بھارت نے پاکستان کے ساتھ سیاسی محاذ پر شکست کے

بعد پاکستانی ایکسپورٹرز سے بھی دشمنی پر اتر آیا اور پاکستانی مصنوعات کی

بھارت میں درآمد پر 200فیصد ڈیوٹی کے نفاذ سے قبل پاکستان سے جانیوالے مال

کی کلیئرنس سے بھی انکار کردیا ہے جبکہ پاکستان سے تقریباً22کنٹینرز میں

جانیوالی کھجور کو بھارتی کسٹمز نے 200فیصد ڈیوٹی،ڈیمرج چارجز ادا نہ کرنے

کی صورت میںنیلام کرنے کا اعلان کردیا ۔تفصیلات کے مطابق پاکستان سے

10سے زائد ایکسپورٹرز نے16فروری2019ء کو 22کنٹینرز میں 62سینٹ فی کلو

کے حساب سے 10لاکھ56ہزار میٹرک ٹن کھجور بھارت ایکسپورٹ کی تھی جس

کی مالیت پاکستانی کرنسی میں 65کروڑ روپے سے بھی زائد تھی۔یہ مال

16فروری کو دوپہر12بجے سے پہلے پہنچ چکا تھا جبکہ اسی روز شام 6بجے

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے حکم پرپاکستانی ایکسپورٹس کو نقصان

پہنچانے کی خاطرپاکستان سے بھارت درآمد ہونے والی مصنوعات پر 200فیصد

ڈیوٹی عائد کردی تھی اور اس اعلان سے پہلے بھارت پہنچنے والے مال پر بھی

اس اضافی ڈیوٹی کا اطلاق کردیا گیا۔پاکستان میں کھجور کی پیداوار کے سب سے

بڑے مرکز خیرپورکے چیمبر آف کامرس کی بانی صدراورایف پی سی سی آئی

کی سابق نائب صدرشبنم ظفر نے بھارتی کسٹمز حکام سے بارہا ملاقاتیں کرکے

روکی گئی کھجور کی کلیئرنس کیلئے جدوجہد کی اور جب ایسا نہ ہوا تو انہوں نے

اسے ری ایکسپورٹ کرنے کی بھی جدوجہد کی مگر بھارتی کسٹم حکام اپنی

حکومت کی ایماء پر پاکستان سے آنے والے سامان کو کسی بھی صورت میں

کلیئرنس پر آمادہ نہ ہوئے۔ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر اور ٹڈاپ کے سابق

چیف ایگزیکٹو ایس ایم منیر نے گزشتہ روز گورنر ہائوس میں وزیراعظم کے

مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور چیئرمین ایف بی آر شبرزیدی سے ملاقات

کرکے انہیں تمام تر صورتحال سے آگاہ کیا اور بتایا کہ کھجور کے ایکسپورٹرز

چھوٹے پیمانے پر کام کرتے ہیں اور اگر بھارت برآمد ہونے والی کھجور کو

نیلامی سے نہ بچایا گیا اور وہ ری ایکسپورٹ نہ ہوئی تو یہ ایکسپورٹرز تین سال

پیچھے چلے جائیں گے۔