217

حضرت سلیمان علیہ السلام، چیونٹی اور مینڈک

Spread the love

(تحریر:… مامن بتول)

پیارے بچو!

جیسا کہ آپ جانتے ہیں حضرت سلیمان علیہ السلام اللہ تعالی کے محبوب انبیا کرام

میں سے ایک ہیں اور انکی حکومت انسانوں، جنوں، پرند چرند ، ہوا اورپانی پر

بھی تھی جو انہیں رب تعالیٰ نے خصوصی طور پر عطا کی تھی، اپنے دور بنوت

میں وہ ایک روز نہر کے کنارے بیٹھے تھے کہ ان کی نگاہ ایک چیونٹی پر پڑی

جو گیہوں کا ایک دانہ لے کر نہر کی طرف جا رہی تھی۔ حضرت سلیمان علیہ

السلام اس کو بہت غور سے دیکھنے لگے۔ جب چیونٹی پانی کے قریب پہنچی

تواچانک ایک مینڈ ک نے اپنا سر پانی سے نکالا اور اپنا منہ کھولا تو یہ چیونٹی

اپنے دانہ کے ساتھ اس کے منہ میں چلی گئی. مینڈک پانی میں داخل ہو گیا اور پانی

ہی میں بہت دیر تک رہا۔ سلیمان علیہ السلام اس کو بہت غور سے دیکھتے رہے۔

ذراہی دیر مینڈک پانی سے نکلا اور اپنا منہ کھولا تو چیونٹی باہر نکلی البتہ اس

کے ساتھ دانہ نہ تھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کو بلا کر معلوم کیا کہ

’’ماجرہ کیا تھا اور وہ کہاں گئی تھی۔‘‘

چینوٹی بولی اے اللہ کے نبی علیہ السلام آپ جو نہر کی تہہ میں ایک بڑا کھوکھلا

پتھر دیکھ رہے ہیں، اس کے اندر بہت سے اندھے کیڑے مکوڑے ہیں۔ اللہ تعالیٰ

نے ان کو وہاں پر پیدا کیا ہے، وہ وہا ں سے روزی تلاش کرنے کے لیے نہیں نکل

سکتے۔ اللہ تعالی نے مجھے ان کی روزی کا وکیل بنایا ہے۔ میں ان کی روزی کو

اٹھا کر لے جاتی ہوں جبکہ اللہ نے اس مینڈک کو میرے لیے مسخر کیا ہے تاکہ وہ

مجھے لے کر جائے۔ اس کے منہ میں ہونے کی وجہ سے پانی مجھے نقصان نہیں

پہنچاتا۔ وہ اپنا منہ بند پتھر کے سوراخ کے سامنے کھول دیتا ہے میں اس میں داخل

ہو جاتی ہوں۔ جب میں ان اندھے کیڑے مکوڑوں کی روزی ان تک پہنچا کر پتھر

کے سوراخ سے اس کے منہ پر آتی ہوں تو مینڈک دوبارہ مجھے منہ میں ڈال کر

میری مطلوبہ جگہ پر لا کر مجھے اپنے منہ سے باہر نکال دیتا ہے۔

حضرت سلیما ن علیہ السلام نے کہا ’’کیا تو نے ان کیڑوں کی کسی تسبیح کو سنا؟

چیونٹی نے بتایا‘ہاں! وہ سب کہتے ہیں‘اے وہ ذات جو مجھے اس گہرے پانی کے

اندر بھی نہیں بھولتا۔ تو ہی سب کا پالنہار ہے تو ہی سب کا رازق ہے ،تو ہم سے

راضی ہو جا ہم تہمارا دیا ہی کھاتے اور تہماری دی حیات جیتے ہیں

+++++ خلاصہ حکایت +++++

مولانا رومی فرماتے ہیں

اے انسان رزق کا غم ہرگزنہ کھا، اللہ نے رزق کا وعدہ کیا ہے، جو اللہ رب العزت

نے آپ کے مقدر میں لکھا ہے وہ آپ کو ضرور ملے گا۔ بس اپنی محنت، صبر اور

ایمانداری سے اس رزق کو حاصل کیجئے۔ تاکہ حلال لقمہ جسم کی غذا بنے اور

آپ کی ہر نیکی کو شرف قبولیت ملے، بدی سے بچائو کا ساماں ہو اور شیطان آپکو

لقمہ حرام نہ ہونے کی وجہ سے کسی طور بھی بہکانے میں ناکام و نامراد رہے.

اس ضمن میں مولا کائنات امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا قول ہے

” اے بندے اگر تمہیں یقین ہوجائے کہ تمہارا رازق اللہ تعالیٰ ہے تو تُو رزق کی

تلاش کے بجائے اللہ کی تلاش میں لگ جائو جس کے پاس تمہارا رزق ہے