130

آئی ایم ایف معاہدہ میں 3،4چیزیں غریب طبقہ کیلئے فائدہ مند،حفیظ شیخ

Spread the love

کراچی(سٹاف رپورٹر، )وفاقی مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے

پاکستان معاشی مشکلات کا شکار ہے کیونکہ غیر ملکی ذخا ئر 10 بلین ڈالر سے

بھی کم رہ گئے ہیں، تاہم حالات بہتر بنانے کیلئے حکومت نے مشکل فیصلے کیے

ہیں۔ آئی ایم ایف کیساتھ معاہدے کے بعد عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے

بھی کم شرح سود پر قرض ملے گا۔آئی ایم ایف کیساتھ 6 بلین ڈالرز کا معاہدہ کیا گیا

ہے ، معیشت کی بہتری کیلئے سخت فیصلے کئے ہیں ، آ ئی ایم ایف پروگرام میں

جانا اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے، عالمی مالیاتی فنڈ سے معاہدے میں تین چار

چیزیں ایسی ہیں جو پاکستان کے کمزور طبقے کے فائدے میں ہیں۔ آئی ایم ایف نے

این ایف سی ایوارڈ پر بات کی اور نہ یہ اْن کا حق ہے۔ ڈالر کی قدر میں اضافے پر

ان کا کہنا تھا یہ ان کا نہیں بلکہ اسٹیٹ بینک کا دائرہ اختیار ہے۔ایمنسٹی سکیم میں

مختلف ریٹس پر کالادھن سفید کیا جاسکتا ہے اور سب سے کم ریٹس رئیل اسٹیٹ

میں کالادھن سفید کرنے کیلئے ہیں۔شرح نمو کم اور مہنگائی بڑھ ر ہی تھی، ہم

معاشی استحکام کی جانب آرہے ہیں، عا لمی اور ایشین ڈویلپمنٹ بینکوں سے 2 تا

3 ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے،خسارہ کم کرنے کیلئے بیرون ملک پیغا م دے رہے

ہیں۔ گزشتہ روز یہاں گورنر ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران مشیر

خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کا مزید کہنا تھا تاجروں سے بجٹ معا ملے میں بات چیت

کی ہے ،جب حکومت آئی تو ملکی قرض 31 ہزار ارب ، بیرونی قرض 97 ارب

ڈالر تھا، درآمدات و برآمدات کا فرق 20 ارب ڈالر سالانہ سے زیادہ ہوچکا تھا۔

زرمبادلہ بہت کم سطح پر آگئے تھے جبکہ تجارتی خسارہ زائد تھا ۔ شرح نمو کم

اور مہنگائی بڑھ رہی تھی،ان حالات میں آئی ایم ایف معاہدے سمیت مختلف اقدامات

کیے۔ بجلی قیمت بڑھے گی لیکن 300 یو نٹس سے کم کھپت والے صارفین کو اثر

نہیں ہوگا۔اس مقصد کیلئے 216 ارب روپے رکھے جارہے ہیں۔ایمنسٹی میں بے

نامی آمدن یا اثا ثے رکھنے والوں کیلئے سہولت ہے۔ترقیاتی بجٹ بڑھا کر 700

سے 800 ارب روپے تک کیا جارہا ہے۔ حکومت نے تجارتی خسارہ کم کیا

ہے،زرمبادلہ پر دبائو کم ہوا،کمزور طبقہ کی معاونت کیلئے تمام سکیموں کو ملا

کر احساس پروگرام بنایا گیا، معاشی صورتحال کی بہتری کیلئے متعدد اقد ا مات

کیے ،حکو مت نے گورننس بہتر کی،حکومت پر کرپشن کے الزام نہیں ہیں، بجٹ

میں تین بڑی ترجیحات ہیں ،اول مشکل حا لا ت میں عوام کی بنیادی ضر و ر ت

پوری کرنا ،دوم معاشی بحران حل ،سوم اخراجات میں کمی اور ٹیکس وصولیاں بڑ

ھا نا شامل ہیں ،قرضوں کا بوجھ عوام پر کم از کم رکھنے کی کوشش کی جائیگی ،

بجٹ میں اولین ترجیح عام آدمی کو ریلیف دینا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی

ہدایت ہے تمام پالیسیاں عوامی مفاد کیلئے بنائی جائیں۔انہوں نے روپے کی قدر کے

حوالے سے بتایا لوگ جانتے ہیں حکو مت کی نیت کیا ہے ،رضا باقر دنیا کے

مانے ہو ئے ماہر ،شبر زیدی ٹیکس امور میں ماہر ہیں انہیں بااختیار بنایا

گیا،زرمبادلہ کی قدر کو مستحکم رکھنا اسٹیٹ بینک کی ذمہ داری ہے۔قبل ازیں

گورنر سندھ عمران اسماعیل کی زیر صدارت گورنر ہائوس میں مشیر خزانہ ڈاکٹر

حفیظ شیخ ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین شبر زیدی اور تاجر برادر ی کا

اجلاس ہوا، جس میں مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ اور چیئرمین ایف بی آر ریونیو

شبر زیدی نے معاشی اصلاحات ، آئی ایم ایف ، ایمنسٹی سکیم اور فرینڈلی بز نس

ماحول کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ، اجلاس میں گورنر سندھ عمران

اسماعیل کا کہنا تھا تاجر برادری کے مسائل انکی دہلیز پر حل کرنا چا ہتے ہیں۔

سندھ انڈسٹریل لائڑن کمیٹی کا قیام بھی تاجروں کے مسائل جلد حل کرانے کیلئے

عمل میں لائے ہیں۔ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا ملکی معیشت کی بہتری کیلئے آئی ایم

ایف کے پاس گئے۔معاشی استحکام کیلئے قلیل ، وسط اور طویل مدتی پروگرام

تشکیل دیئے گئے ہیں جبکہ شبر زیدی نے کہا ایمنسٹی سکیم کو تمام کاروباری

برادری کی مکمل حمایت حاصل ہے، انہوں نے ہی اسے ملکی معیشت کیلئے سود

مند قرار دیا۔