113

عالمی امن کی علمبردار طاقتیں ہی امن کیلئے خطرہ، انٹرنیشنل کانفرنس آن گلوبل پیس

Spread the love

استنبول(خصوصی رپورٹ)ترقی پذیر دنیا کے بڑے حصہ میں ترقی و تعمیر کے

سازگار حالات پیدا ہونے کے باوجود بعض دیرینہ تنازعات نے خطو ں میں

ناصرف عوامی خوشحالی کی راہ روکی ہوئی ہے بلکہ غلبے کی سیاست کے

زور پر ان تنازعات کی طوالت سے عالمی امن بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے

جس کے باعث دہشت گردی کا دائرہ بڑھ رہا ہے اس تشویشناک صورتحال کا

تقاضا ہے دنیا کے مختلف خطوں میں امن کے علمبردار اجتماعی دانش اور

دوسرے پر امن ذرائع سے عالمی امن کو یقینی بنانے کیلئے اپنے تعاون و اشتراک

کو بڑھائیں۔ ان خیالات کا اظہا ر دنیا کے مختلف خطوں کے پیس سکالرز نے

لاہور سینٹر فارپیس ریسرچ کے زیر اہتمام ترکی کے تھنک ٹینک ساؤنوایشیاء

سٹریٹیجک ریسرچ سنٹر (جسام) کے اشتراک سے استنبول میں ہونیوالی دوسری

سالانہ “انٹرنیشنل کانفرنس آن گلوبل پیس”میں کیا۔ کانفرنس میں بڑی تعداد میں تر

ک دانشوروں، پارلیمنٹرینز، ترک اور پاکستانی صحافیوں، سفارتکاروں اور

یونیورسٹیوں کے پی ایچ ڈی سکالرز نے شرکت کی، افتتاحی اجلا س کی صدارت

ترک پارلیمنٹ میں پاک ترک پارلیمنٹیرین فرینڈ شپ گروپ کے چیئرمین علی

شاہین نے کی اور اس کے علمی سیشنز سے ا مر یکہ، فرانس، چین، ترکی،

پاکستان، ملائیشیا، آزربائیجان، بھارت، پولینڈ، سری لنکا، کوسو اور رومانیہ کے

پیس سکالرز کانفرنس کی تھیم “امیرجنس آف ریجنل کواپریشن: شیپنگ پاتھ آف

سٹیبلٹی اینڈ پراسیرٹی” پر اپنے مقالے پیش کئے۔ ممتاز ترک سیاستدان اور

پارلیمنٹرین علی شان نے کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے عالمی امن انسانیت کی

فلاح اور ہرگلوبل سٹیزن کیلئے ناگزیر ہے ،لیکن عالمی امن خطرات سے گھرا

ہوا ہے اور لاکھوں معصوم شہری تنازعات ، خانہ جنگی اور دہشت گردی میں

اپنی زندگیاں گنوا بیٹھے ہیں۔ وقت آگیا ہے ایسے تمام علاقائی تنازعات و دیگر

وجوہات کو پوری سنجیدگی اور متحدہ کوششوں سے ایڈریس کیا جائے جو عالمی

امن میں برسوں سے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، یہ ہی رکاوٹیں دنیا میں دہشت گردی

کا سبب بن رہیں ہیں۔ ناگزیر ہو گیا ہے کہ عالمی برادری کے ذمہ دار حلقوں کی

بڑی اور فوری ذمہ داری بن گئی ہے کہ وہ اس تشویشناک صورتحال میں

سرحدوں کے احترام ، اقوام کی خودمختاری ، آزادی اور جغرافیائی سرحدوں کو

نرم اور باہمی اقتصادی سرگرمیوں، سیا حت کے فروغ اور انسانی رشتوں کو

مضبوط بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ یہ ہی وجہ ہے ترک حکومت اور عوامی

انٹرریجنل کواپریشن کی نا صرف مکمل تائید اور حمایت کرتے ہیں بلکہ اس کیلئے

پرامن دوست ممالک سے مل کر عملا کوشاں ہیں۔ چار مرتبہ ترک پارلیمنٹ کے

رکن منتخب ہونیوالے ترک سیاستدان ادریس گوجے نے کہا جو طاقتورممالک

عالمی امن کی بات کرتے ہیں بدقسمتی سے وہ اپنی طاقت کے زور پر اپنے

“قومی مفادات”کیلئے اس کی تشریح بھی خود کر رہے ہیں، جو تنازعات کے

فیصلے نیو پارک میں ہونے چائیں وہ اب کہیں اور ہوتے ہیں پھر اسلحے کی

تیاری و فراہمی بھی ان ممالک سے جاری ہے جو دہشت گردی اور جنگوں میں

استعمال ہورہا ہے۔ پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے کہا

امن اور ترقی کا سفر ساتھ ساتھ ہوتا ہے، آج اس کی ایک بڑی شکل انٹر ریجنل

کواپریشن ہے سی پیک اسکی بڑی مثال ہے جو چین اور پاکستان کی ترقی کا ہی

منصوبہ نہیں بلکہ مختلف خطوں کے ممالک جیسے ایران، افغانستان حتیٰ کہ

بھارت بھی اس میں شامل ہو کر اس کا بینی فیشری بن سکتا ہے۔ عالمی امن کا

بڑے چیلنجزمیں فلسطین اور کشمیر جیسے دیرنیہ تنازعات کا حل بھی جس کیلئے

ایک پر امن عالمی مہم کا آ غاز کیا جائے اور انہیں اقوام متحدہ کی منظور کردہ

قرار داد وں کے مطابق حل کیا جائے۔ کانفرنس میں نیوزی لینڈ اور سری لنکا میں

دہشت گردی سے بڑے پیمانے پر جان گنوانے والے خاندانوں سے یکجہتی اور

ہمداردی کیلئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ کانفرنس کے اکیڈیمک

سیشن سے خطاب کر تے ہوئے پیس سکالرانٹر ریجنل کو اپریشن کو عالمی و

خطوں کے استحکام و خوشحالی کو لازم قرار دیا۔ سری لنکاکے کالج آف ڈ یفنس

سروسز کے کمانڈنٹ میجر جنرل کلاتوننگانے کہا یہ پاکستان کا سری لنکا کو

تعاون ہی تھا جس کے نتیجے میں سری لنکا میں باہر سے “برآمد ” کی گئی دہشت

گردی پر قابو پانا ممکن ہوا ۔