128

50 برس پہلے ایسا فیصلہ آتا تو مارشل لا ء نافذ ہوتے نہ مشرقی پاکستان جدا ہوتا،سیاسی جماعتیں

Spread the love

اسلام آباد/کراچی ، لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک،سٹاف رپورٹر) مسلم لیگ(ن) کے

سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ 50 برس پہلے ایسا فیصلہ آتا تو مارشل

لا جیسی چیزیں ہم پر مسلط نہ ہوتیں، مشرقی پاکستان ہم سے کبھی جدا نہ ہوتا۔لیگی

رہنما احسن اقبال نے پرویز مشرف کے خلاف فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا

یہ فیصلہ 50 سال قبل ہوتا تو کبھی مشرقی پاکستان ہم سے جدا نہ ہوتا، انشا اللہ

مستقبل میں آئین توڑنے کی روایت ختم ہو گی۔بلاول بھٹو زرداری مشرف کے

خلاف سزا کے فیصلے پر اپنی والدہ کا قول دہرایا اور کہا جمہوریت بہترین انتقام

ہے، جئے بھٹو۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ 72سال میں پہلی

بارآئین کی بالا دستی کے لیے تاریخی فیصلہ آیا ہے، اس سے جمہوریت محفوظ

ہوگئی ۔انہوں نے کہا کہ اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مجرم کو واپس لائے

جبکہ مشرف کوباہر بھیجنے والے بھی قوم کو جواب دیں۔پیپلز پارٹی کے سینئر

رہنمااورقانون دان بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ مشرف کیس پاکستان کی

تاریخ کا پہلا فیصلہ ہے جس میں عدالت نے نظریہ ضرورت پر انحصار نہیں کیا،

وہ کیا جو اس نے قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھا ہے۔ خصوصی عدالت کے

فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا مشرف نے دوسری بار یہ کام

کیا تھا کہ وہ بھول گئے کہ انہوں نے وزیراعظم نوازشریف کو12 اکتوبر1999ء

کو گرفتار کیاتھا،ان کے ساتھ ان کے خاندان اور وزرا کو گرفتار کیاتھا۔تین نومبر

کی ایمرجنسی بھی سنگین جرم تھا۔آرمی چیف کو یہ اختیارکس نے دیا۔انہوں نے

کہا مشرف نے دو مرتبہ مکمل غداری کااقدام کیا حالانکہ وزیراعظم نے اسے

معطل کررکھا تھا۔ایک سوال کے جواب میں اعتزاز احسن نے کہا جن لوگوں نے

مشرف کی اعانت کی ان کی مدد کے مطابق انہیں جوابدہ ہونا پڑے گا۔اعتزاز نے

کہا نظریہ ضرورت ابھی بھی چل رہا ہے تاہم اس فیصلے میں پاکستان کی تاریخ

میں پہلی بارعدالت نے نظریہ ضرورت پر انحصار نہیں کیا۔ مسلم لیگ (ن )کے

رہنما پرویز رشید نے کہا ہے کہ پرویز مشرف جب ملک میں تھے تب بھی

عدالتوں میں پیش نہیں ہوتے تھے، وہ عدالت کیلئے گھر سے نکلتے اورہسپتال میں

چلے جاتے تھے، ان کو پناہ دی جاتی تھی، فیصلے کے راستے میں رکاوٹ بننے

والی قوتیں پاکستان کے اندر موجود ہیں ۔پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے

کہا کہ خصوصی عدالت کا فیصلہ شخص نہیں،رویے کیخلاف ہے،اس فیصلے کو

کسی ادارے کیخلاف نہیں لیناچاہیے،اس فیصلے کے نتیجے میں آئین کی عملداری

بڑھے گی۔انہوں نے کہاکہ آمریت کے دورمیں کابینہ کی کوئی حیثیت نہیں

ہوتی،پرویزمشرف کا ٹرائل 5سال سے چل رہاتھا،عدالت نے پرویزمشرف کو بار

بار موقع دیا،پیپلزپارٹی کے رہنما نے کہاکہ پاکستان میں سزاوں پر عملدرآمد

ہوناچاہیے تاکہ آئینی حکومتیں قائم رہیں۔پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما مولا بخش

چانڈیو نے کہا ہے کہ ملک میں ماحول تبدیل ہورہاہے،وزیراعظم کے بیان مایوس

کن ہیں،مشرف صاحب اب مکے ہلائیں،بہادرہیں تو آئیں نا میدان میں ۔ نجی ٹی وی

کے مطابق مولابخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کے معاملے پرسپریم کورٹ

کافیصلہ درست ہے۔ پیپلزپارٹی کے سینئرہنما میاں رضا ربانی نے پرویز مشرف

کے خلاف عدالتی فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں

پہلی مرتبہ آئین توڑنے والے شخص کو سخت سزا سنائی گئی ہے، اس فیصلے کے

قانونی اور سیاسی دور رس نتائج نکلیں گے۔انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کو

سزائے موت سنائے جانے کا تفصیلی فیصلہ ابھی آنا باقی ہے جس کے بعد ہم اس

فیصلے کو دیکھیں گے تاہم اس فیصلے سے قانونی اور سیاسی طور پر گہرے

نتائج ہوں گے۔جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ یہ آرٹیکل 6

کے تحت تاریخ ساز فیصلہ ہے، فیصلے سے آئین کی بالادستی قائم ہو گی، آمریت

کا راستہ بھی رکے گا۔انہوں نے پرویز مشرف کو فوری طور پر پاکستان لانے کا

مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ کے لیے کوئی بھی آئین میں دی گئی حدود کو

عبور نہ کرے۔پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے کہا کہ پاکستان میں کسی فوجی

آمر کو پہلی بار عدالت نے سزا سنائی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت میں

پرویز مشرف صدر تھے، ہم نے انہیں نکالا جس کے بعد وہ باہر ملک چلے گئے

لیکن ہماری مخلوط حکومت تھی اس لیے ہم ایسے فیصلے نہیں کر سکتے تھے۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی اطلاعات ونشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا

ہے کہ فیصلے کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔ پرویز مشرف کی سزائے موت کے

فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا حکومت لیگل ٹیم کے ساتھ اس فیصلے کو

دیکھے گی، تفصیلی جائزہ لینے کے بعد حکومتی بیانیہ سامنے لایا جائے گا۔ فواد

چودھری نے کہا ہے کہ ملک کو جوڑنے کی ضرورت ہے، ایسے فیصلے جس

سے قوم اور ادارے تقسیم ہوں ان کا کیا فائدہ۔وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد

چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا وقت کے

تقاضے ہوتے ہیں ملک کو جوڑنے کی ضرورت ہے، ایسے فیصلے جس سے قوم

اور ادارے تقسیم ہوں ان کا کیا فائدہ، مسلسل کہ رہا ہوں گفتگو کی ضرورت ہے،

نیو ڈیل کی طرف جائیں، ایک دوسرے کو نیچا دکھانا کسی کے مفاد میں نہیں،

ملک پر رحم کریں۔وفاقی وزیر اعظم سواتی نے فیصلے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا

کہ قانونی ٹیم آن بورڈ ہے جبکہ سیاسی طور پر بھی حکومت مشاورت کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں ملک کے اداروں کی بہتری ہو گی حکومت وہی کرے گی،

وقت کا تقاضہ ہے ریاست کے سارے اداروں کو ساتھ لے کر چلیں۔

سیاسی جماعتیں/ردعمل

Leave a Reply