0

دکھیاری لیجنڈ اداکارہ روحی بانودیار غیر میں خالق حقیقی سے جا ملیں

Spread the love

ماضی کی مشہور لیجنڈ اداکارہ روحی بانو شدید علالت کے بعد گزشتہ روزخالق حقیقی سے جا ملیں ۔اداکارہ کی بہن روبینہ یا سمین کے مطابق روحی بانو استنبول کے ایک ہسپتال میں زیر علاج اورگزشتہ 10 روز سے وینٹی لیٹر پر تھیں، رات گئے ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اور وہ دنیائے فانی سے چل بسیں،اعلیٰ تعلیم یافتہ اور صدارتی تمغہ برائے ح±سن کارکردگی حاصل کرنےوالی روحی بانو گردوں کے عارضے میں مبتلا اور طویل عرصے سے نفسیاتی مرض شیزوفرینیا اور مالی مسائل کا شکار تھیں۔گزشتہ برس نومبر میں روحی بانو کے لاپتہ ہونے کی بھی رپو ر ٹس سامنے آئی تھیں، تاہم ان کی بہن نے سابق اداکارہ کے لاپتہ ہونے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے بتایا تھا وہ اہلخانہ کےساتھ ہیں ۔ ر و حی بانو نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں بہت سی تکلیفیں جھیلیں۔ ازدواجی زندگی میں بے سکونی کےساتھ ساتھ اکلوتے بیٹے علی کے قتل کے بعد سے گویا زندگی کی تمام رعنائیاں ا±ن سے چھِن گئیں اور لاہور میں واقع نفسیاتی ہسپتال ،فاو¿نٹین ہاو¿س ان کا مسکن بن گیا۔لاہور کے علا قہ گلبرک تھری میں روحی بانو کا اپنا گھر بھی ہے، جو اب کھنڈر میں تبدیل ہو چکا ہے۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے سائیکالوجی میں ما سٹر ز کیا ہواتھا۔معروف اداکارہ10اگست 1951کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔وہ برصغیر کے مشہور طبلہ نوازاستاد اللہ رکھا کی صاحبزادی اور ذاکر حسین کی سوتیلی بہن تھیں۔انہیں پی ٹی وی لاہور مرکز کے پروڈیوسر یاورحیات نے اپنے ایک کھیل کے ذریعے متعارف کرایا تھا جس کے بعد انہوں نے کئی ڈراموں میں یادگار کردار کئے جن میں لانگ پلے کانچ کا پل،قلعہ کہا نی ، زردگلاب،حیرت کدہ اور کرن کہانی شامل ہیں۔ان کی زندگی کا آخری ڈرامہ’ ایک اور عورت‘ تھا جس کے رائٹرفصیح باری خان اور ڈائر یکٹر مظہر معین تھے اور یہ ڈرامہ ہم ٹی وی سے نشر کیا گیا تھا جس میں ان کےساتھ کام کرنےوالے فنکاروں میں اسماعباس،سلمان شاہداور نروان ندیم شامل ہیں۔ ٹیلی ویژن سے تعلق رکھنے والے افراد نے روحی بانو کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا ہے جن میں توقیرناصر ، منظو ر قر یشی ، طا ر ق جمیل،جاوید شیخ،عرفان کھوسٹ،سہیل اصغر،ماریہ واسطی،احسن خان ،امین اقبال،اسماعباس ،ثمینہ پیرزادہ ،قوی خان اور بشریٰ انصاری سمیت بہت سے دیگر لوگ شامل ہیں۔ یہ امرقابل ذکر ہے جب روحی بانو کو ان کے تمام رشتہ داروں نے فراموش کردیا تو اداکارہ اسماعباس نے انہیں دس سال تک اپنے پاس رکھا۔ اسی حوالے اسماعباس کا کہنا تھا میرا ان سے بہت گہرا تعلق رہا ہے اور شاید اسی لئے مجھے ان کی مو ت کا دکھ بہت زیادہ ہے۔اس سے بھی زیادہ دکھ کی بات ہے کہ کافی عرصے سے میری ملاقات بھی ان سے نہیں ہوسکی البتہ انہوں نے اپنی ز ندگی کا آخری ڈرامہ ’ایک اور عورت‘ میرے ساتھ ہی کیا تھا۔شوبز کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی دیگرشخصیات کا کہنا ہے روحی بانو ا یک لیجنڈ اداکارہ تھیں ایسی ورسٹائل اداکار روز روز پیدا نہیں ہوتیں ۔سید نور،میلوڈی کوئین آف ایشیاءپرائڈ آف پرفارمنس شاہدہ منی ، صا ئمہ نور،میگھا،ماہ نور،یار محمد شمسی صابری،سہراب افگن ،ظفر اقبال نیویارکر،عذرا آفتاب،عینی طاہرہ،عائشہ جاوید،میاںراشد فرزند،سدرہ نو ر ،نادیہ علی،شین،سائرہ نسیم،صبا ءکاظمی، ،سٹار میکر جرار رضوی،آغا حیدر،دردانہ رحمان ،ظفر عباس کھچی ،سٹار میکر جرار رضوی ،ملک طارق،مجید ارائیں،طالب حسین،قیصر ثنا ءاللہ خان ،مایا سونو خان،عباس باجوہ،مختار چن،آشا چوہدری،اسد مکھڑا،وقا ص قیدو، ارشدچوہدری،چنگیز اعوان،حسن مراد،حاجی عبد الرزاق،حسن ملک،عتیق الرحمن ،اشعر اصغر،آغا عباس،صائمہ نور،خالد معین بٹ ،مجاہد عباس،ڈائریکٹر ڈاکٹر اجمل ملک،کوریوگرافر راجو سمراٹ،صومیہ خان،حمیرا چنا ،اچھی خان،شبنم چوہدری،محمد سلیم بزمی،سفیان ،انوسنٹ اشفاق،استاد رفیق حسین،فیاض علی خاں،پروڈیوسر شوکت چنگیزی،ظفر عباس کھچی،ڈی او پی راشد عباس،پرویز کلیم اور نجیبہ بی جی نے کہا اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔روحی بانو نے ٹی وی کےساتھ ساتھ سٹیج اور فلموں میں بھی کام کیا۔ادھروزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے روحی بانوکے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے دعائے مغفرت کی۔

Leave a Reply