55

باغ صفائی، ایم کیو ایم اور مساج رسید (ایجنٹ 909) دوسری قسط

Spread the love

اس نے ہاں میں جواب دے کر فون بند کر دیا اور پھر سو گیا،دوپہر12 بجے فون

پر الارم بجتے ہی وہ اٹھ گیا، سگریٹ سلگایا اور باتھ روم میں چلا گیا،35 منٹ کے

بعد وہ باہر نکلا تو تروتازہ نظر آرہا تھا رات کے واقعے کے کوئی اثرات دکھائی

نہیں دے رہے تھے، سیڑھیاں اتر کر وہ کچن میں چلا گیا اور چارعدد ہاف فرائی

انڈے بیک وقت تیار کئے، ٹوسٹر میں بریڈ گرم کی، مائیکرو اوون میں چائے بنائی

اور میز پر بیٹھ کر سکون سے تناول کرنے لگا، ناشتے سے فارغ ہو کر اس نے

دوبارہ سگریٹ سلگا لیا، جیب میں ہاتھ ڈال کر سکنک کا پیکٹ چیک کیا،ابھی دو

روز کا سٹاک موجود تھا،اس نے سگریٹ پی کر رولنگ پیپر نکالا، تمباکو اس کے

اوپر ڈال کر تھوڑا سا سکنک مکس کیا اور رول بنا کر بیڑی سلگا لی،اسی دوران

اس کے فون کی گھنٹی بجی،اس نے فون اٹھا کر ہیلو کہا تو دوسری جانب ایک

معمر خاتون بولی’’آپ نے گارڈن کی صفائی کا اشتہار دیا تھا،مجھے اپنا گارڈن

مکمل صاف کروانا ہے، لمبائی بارہ اور چوڑائی پانچ میٹر ہے،اس نے اسے دو

پائونڈ فی سکو ئیر فٹ بتایا جو ایک ہزار اسی پائونڈ بنتے تھے، معمر خاتون نے

کہا ’’یہ بہت زیادہ ہیں، میں صرف آٹھ سو پائونڈ دوں گی،کیا آپ کو منظور ہے؟

اس نے بغیر ہچکچاہٹ حامی بھر لی اور ایک روز بعد دوبارہ کال کرنے کا کہہ کر

فون بند کر دیا، وہ جانتا تھا اس نے سستے میں سودا کیا ہے، گورے مزدور اس کام

کا اٹھارہ سو اور پولینڈ کے مزدوربارہ سو پائونڈ چارج کرتے تھے لیکن اس کے

لئے یہ مشکل نہ تھا،اس کے پاس باغ کی صفائی کے جدید آلات تھے اور برطانیہ

میں پیسہ کمانے کا یہ بڑا ہی آسان اور وسیع روزگار تھا،

ایک خاص کام کیلئے اسے شام کو اجویر روڈ جانا تھا، بتایا گیا تھا وہاں پاکستان

کی سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے کچھ لوگ کراچی سے آ رہے تھے ان کے اعزاز

میں ڈنر تھا۔ ان لوگوں کو حال ہی میں برٹش قونصل کراچی کی جانب سے ویزہ

جاری کیا گیا تھا،2003ء ہی میں برطانیہ اور امریکہ نے پاکستانیوں کیلئے ویزہ

پابندیاں ختم کر دی تھیں، ہزراوں پاکستانی طلبہ کو برطانیہ کا سٹوڈنٹ ویزہ جاری

کیا گیا تھا، کراچی کے علاقے کلفٹن میں امریکی قونصل خانے کی سرگرمیاں بڑھ

گئی تھیں، برطانیہ کو بھی صرف کراچی سے ہزاروں طلبہ کو ویزہ جاری کرنے

کے احکامات دئے گئے تھے، یہ ایم کیو ایم قیادت کی جانب سے دھمکی تھی کہ

کراچی میں رہنا ہے توہمارے بندوں کو برطانیہ کا ویزہ دو، بہت سے طلبہ ایسے

تھے جو انتہائی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے، پولیس و رینجرز کو مطلوب

تھے، یہ وہی طلبہ تھے جو میٹرک، ایف اے اورپھر بی اے تک نقل مار کرپاس

ہوئے تھے، ایم کیو ایم کی جانب سے انہیں ملک چھوڑنے کا حکم تھا تاکہ وہ

برطانیہ اور امریکہ میں جا کر کمائیں اور وہاں سے پارٹی فنڈنگ کریں، بتایا گیا

تھا کہاانہی میں سے چار لڑکے جن کی عمریں تیس سے تینتس کے درمیان تھیں

اور جو ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے وہ لندن آ رہے تھے ،یہ کراچی میں سیکٹر

انچارج تھے، لندن آنے سے قبل ان کی کلفٹن کے ایک ہوٹل میں برطانیہ کے تھرڈ

سیکرٹری سے ملاقات ہوئی تھی جہاں رقص و سرور کی محفل بھی ہوتی رہی ،ان

لڑکوں کو ایم کیو ایم کے لیڈر الطاف حسین کی جانب سے اس کے تیسرے نمبر

کے باڈی گارڈ نے ہیتھرو ایئر پورٹ سے اٹھانا تھا اور ان کی لیڈر سے پہلی اور

شاید آخری ملاقات بھی کروانی تھی۔ اس سے قبل تکبیر کے مدیر اعلیٰ سید صلاح

الدین کے قتل میں ملوث چار میں سے دو لڑکے لندن پہنچ چکے تھے ان میں سے

ایک کینیڈا روانہ ہو گیا تھا، ایک قاتل کراچی ہی سے دبئی چلا گیا تھا، ایک کی

موت کراچی میں ہوئی تھی، مقتول صلاح الدین کے متوالے موٹر سائیکل پر اس کا

پیچھا کر رہے تھے، ان کی گولی کا نشانہ بننے سے قبل ہی وہ ایک کھلے مین ہول

میں گر گیا اور وہیں دم توڑ گیا تھا جبکہ لندن میں رہائش پذیر چوتھا لڑکا یوسف

نامی شخص کی دستاویزات پر لندن کے مشہور علاقے بالم میں ایک دکان پر کام

کر رہا تھا، سید صلاح الدین کے قتل میں ملوث تین افراد تاحال زندہ تھے، تینوں ایم

کیو ایم کو دلی طور پر چھوڑ چکے تھے، پارٹی سیکرٹریٹ والے اکثر یوسف کو

دھمکیاں دینے بالم پہنچ جاتے تھے اور اس سے فنڈنگ کا مطالبہ کرتے تھے۔ لندن

پہنچنے والے چار سیکٹر انچارج بھی قتل اور تشدد کی وارداتوں میں ملوث تھے،

اسے ان سے کسی طور ملنا تھا اور ان کی وقتاً فوقتاً نگرانی کرنی تھی۔

اس سے قبل کہ شام ہوتی وہ یزالی کے مساج سنٹر پہنچنے کیلئے تیار ہونا شروع

ہو گیا، ٹھیک پانچ بجے وہ یزالی کے مساج سنٹر پہنچ چکا تھا، یزالی نے اسے

دیکھتے ہی انتہائی گرمجوشی سے جپھی ڈالی اور اسے ایک خاص کمرے میں لے

گئی جہاں اس نے پردے کے پیچھے اپنا لباس تبدیل کیا، لباس کیا تھا بس ایک تولیہ

پہنا، ہاتھوں پر دستانے چڑھائے، سفید رنگ کی چست قمیض پہنی اور یزالی کے

ہمراہ مساج والے خاص کمرے میں چلا گیا، اس نے یزالی سے مساج کی رسید

مانگی جو اس نے دکھا دی، رسید پر تمام شرائط و ضوابط درج اورسروسز لینے

والی خاتون کے دستخط تھے جبکہ یہ بھی واضح لکھا تھا کہ یہ صرف مساج کی

رسید ہے اس میں جسمانی تعلق شامل نہیں اور مساج سنٹر سروسز مہیا کرنے

والے کی گارنٹی دیتا ہے کہ وہ تندرست ہے اور اسے کوئی مہلک بیماری لاحق

نہیں، کمرے میں ایک گوری خاتون تولیہ لپیٹے سٹریچر پر اوندھی لیٹی تھی ،اس

نے کانوں میں ہیڈ فون لگا رکھے تھے، کمرے میں آمد محسوس کرتے ہی وہ اٹھ

کھڑی ہوئی اور ہیلو کہہ کر استقبال کیا، خاتون گوری تھی اور لگ بھگ 35 برس

کی تھی،یزالی کمرے سے باہر نکل گئی اور ’’909‘‘ نے کمرے کو اندر سے لاک

کر لیا،،،،،،،،،، جاری ،،،،،،،،،،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں