2019 ،پاکستان میں کرپشن بڑھ گئی،نیب کی کارکردگی بہترین رہی،ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جنیوا(مانیٹرنگ ڈیسک)ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے 2019میں کرپشن سے متعلق

رپورٹ جاری کردی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2019میں زیادہ تر ممالک کی

کرپشن کم کرنے کے حوالے سے کارکردگی بہتر نہیں رہی اور ٹرانسپیرنسی

انٹرنیشنل کی کرپشن پرسیپشن انڈیکس کے 180رینکس میں پاکستان کا رینک

120ہے،رپورٹ کے مطابق موجودہ چیئرمین جاوید اقبال کی زیر قیادت قومی

احتساب بیورو (نیب)کی کارکردگی بہتر رہی،نیب نے بدعنوان عناصر سے

153ارب روپے وصول کیے، ۔رپورٹ کے مطابق 2019میں پہلا نمبر حاصل

کرنے والے ڈنمارک کاسکور بھی ایک پوائنٹ کم ہو کر 87رہا جب کہ امریکا،

برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کا انسداد بدعنوانی کا سکور بھی کم رہا۔رپورٹ کے

مطابق امریکا کا سکور 2، برطانیہ، فرانس کا 4 اورکینیڈا کا انسداد بدعنوانی سکور

4 درجہ ہوگیا جب کہ جی7کے ترقی یافتہ ممالک بھی انسداد بدعنوانی کی کوششوں

میں پھنسے ہوئے ہیں۔کرپشن روکنے کے لیے سفارشات دیتے ہوئے ٹرانسپیرنسی

انٹر نشنل نے کہا کہ ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل نے دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی کرپشن

روکنے کے لیے اپنی سفارشات بھی دی ہیں جو درجہ ذیل ہیں۔سیاست میں بڑے

پیسے اور اثرورسوخ کو قابو کیا جائے۔بجٹ اور عوامی سہولیات ذاتی مقاصد اور

مفاد رکھنے والوں کے ہاتھوں میں نہ دی جائیں۔مفادات کے تصادم اور بھرتیوں کا

طریقہ تیزی سے بدلنا قابو کیا جائے۔دنیا بھر میں کرپشن روکنے کیلیے لابیز کو

ریگولیٹ کیا جائے۔الیکٹورل ساکھ مضبوط کی جائے اور غلط تشہیر پر پابندی

لگائی جائے۔ شہریوں کو با اختیار کریں، سماجی کارکن، نشاندہی کرنے والوں اور

جرنلسٹ کو تحفظ دیں۔کرپشن روکنے کے لیے چیک اینڈ بینلنس اور اختیارات کو

علیحدہ کیا جائے۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں قومی احتساب بیورو

کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال

کی سربراہی میں نیب نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل

کے مطابق اکیاون سالہ عدالتی تجربہ رکھنے والے چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ

جاوید اقبال کے زیر نگرانی بدعنوانی کے تدارک کیلئے نیب کی پالیسیاں متاثر کن

ثابت ہوئیں، جن میں متعارف کروایا گیا کمبائینڈ انویسٹی گیشن ٹیم سسٹم سرفہرست

رہا۔عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ قومی احتساب بیورو کے اقدامات بدعنوانی کے

گھٹا ٹوپ اندھیرے میں امید کی شمع کے طور پر جلتے رہے۔ رپورٹ میں اس بات

کا اعتراف کیا گیا ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی مثالی اور جرات مندانہ

قیادت میں کارکردگی کے اعتبار سے بہتر نتائج حاصل کر کے ادارے میں ایک

نئی روح پھونکی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اجتماعی سوچ، مربوط تحقیقاتی اور

اصلاحتی نظام متعارف کر اکے ادارے کی ساکھ اور اعتماد بڑھانے میں مثالی کام

کیا گیا۔ نیب نے بدعنوان عناصر سے 153 ارب روپے وصول کرکے قومی خزانے

میں جمع کرائے اور 530 ریفرنسز عدالتوں کو بجھوائے۔نیب کیسز میں احتساب

عدالتوں کی جانب سے دی گئی سزاؤں کا تناسب 70 فیصد رہا۔ عوام الناس کو

کرپشن کی لعنت سے بچانے کے لئے نیب کی چلائی گئی میڈیا مہم بھی قابل

تعریف رہی جس سے عوام کو کرپشن کیخلاف آگاہی ملی۔بین الاقومی طور پر

بدعنوانی میں اضافہ نظر آیا تاہم انسداد بدعنوانی کے دیگر اداروں کیلئے نیب کے

اقدامات مشعل راہ کے طور پر نمایاں ہوئے ہیں۔ بدعنوانی کے پھیلاؤ میں دیگر

عوامل بھی کردار ادا کرتے ہیں جن کا بلا واسطہ اثر کرپشن انڈیکس پر اثر انداز

ہوتا ہے۔ تاہم نیب سارک ممبر ممالک کیلئے بھی قابل تقلید کردار ادا کر رہا ہے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply