20 سالہ جنگ ختم

کابل پر قبضے کے بعد طالبان نے 20 سالہ جنگ ختم کرنے کا اعلان کردیا

Spread the love

20 سالہ جنگ ختم

کابل (جے ٹی این آن لائن نیوز) طالبان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں واقع صدارتی محل کا

کنٹرول سنبھالنے کے بعد ملک میں جنگ ختم ہونے کا اعلان کر دیاہے۔ غیر ملکی نشریاتی ادارے

’الجزیرہ ‘ کو دیئے گئے انٹرویو میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان محمد نعیم نے کہا کہ آج

افغان عوام اور مجاہدین کے لیے عظیم دن ہے۔ انہیں اپنی 20 برس کی قربانیوں اور جدوجہد کا پھل

مل گیا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ ملک میں جاری جنگ ختم ہوئی، ہم اپنے مقصد تک پہنچ چکے ہیں جو

کہ اپنے ملک اور عوام کی آزادی تھا۔ افغانستان کی نئی حکومت کی نوعیت جلد واضح ہو جائے گی،

ہم تمام افغان رہنماؤں سے بات چیت کے لیے تیار ہیں اور ان کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔ محمد

نعیم نے کہا کہ ہم کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ کوئی ہماری زمین پر کسی کو نشانہ بنائے اور ہم

دوسروں کو کوئی نقصان پہنچانا نہیں چاہتے۔ طالبان الگ تھلگ نہیں رہنا چاہتے، وہ دنیا کے ساتھ

پرامن تعلقات کے خواہاں ہیں، امید ہے غیر ملکی قوتیں افغانستان میں اپنے ناکام تجربے نہیں دہرائیں

گی۔

طالبان بغیر اجازت کسی گھر میں داخل نہ ہوں، سہیل شاہین

طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے بیان میں کہا کہ طالبان کو ہدایت دی گئی ہے کہ بغیر اجازت کسی

گھر میں داخل نہ ہوں جبکہ کسی کی جان، مال اور عزت کو نقصان نہ پہنچائیں۔ ہم افغانستان میں امن

چاہتے ہیں اس لیے کسی کو ہم سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی ملک چھوڑنا چاہیے۔ افغانستان

پر پیر 16اگست کی صبح صدارتی محل میں سورہ النصر کی تلاوت اور درود شریف کا ورد کیا گیا۔

غیرملکیوں کو کابل میں کوئی خطرہ نہیں. ذبیح اﷲ مجاہد

دوسرے ترجمان ذبیح اﷲ مجاہد نے تمام سفارتخانوں کو یقین دلایا ہے کہ غیرملکیوں کو کابل میں

کوئی خطرہ نہیں دوسری طرف دارالحکومت کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے شہریوں

سے اسلحہ جمع کرنا شروع کر دیا ۔ایک طالبان عہدیدار نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ

انہوں نے کابل میں شہریوں سے اسلحہ جمع کرنا شروع کر دیا ہے کیونکہ لوگوں کو اب ذاتی تحفظ

کی ضرورت نہیں ہے۔ مذکورہ عہدیدار نے مزید بتایا، “ہم سمجھتے ہیں کہ لوگوں نے ذاتی حفاظت

کے لیے ہتھیار رکھے تھے، اب وہ خود کو محفوظ محسوس کر سکتے ہیں، ہم یہاں معصوم شہریوں

کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں ہیں.

افغان عوام کی خدمت اور ان کے جان و مال کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے. ملا عبدالغنی
برادر

طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر نے کہا ہے کہ افغان عوام کی خدمت اور ان

کے جان و مال کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے،افغانستان میں جس طرح کامیابی حاصل کی ہے اس

طرح توقع بھی نہیں تھی،پہلے سے زیادہ ذمہ داری آگئی ہے، اب ہماری امتحان اور آزمائش کا وقت

آگیا ہے۔ اپنے وڈیو پیغام میں ملا عبدالغنی برادر نے کہا کہ مجاہدین کو ہمارا یہ پیغام ہے کہ ہم نے

افغانستان میں جس طرح کامیابی حاصل کی ہے یہ سوچا بھی نہیں تھا اور اس طرح توقع بھی نہیں

تھی۔ لیکن یہ اﷲ تعالی کی مدد اور نصرت تھی کہ اﷲ نے ایسی کامیابیاں ہماری نصیب میں کردی

ہیں۔ اس لیے ہم سب کو اﷲ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے اور ایسا نہ ہوں کہ ہم سے کوئی تکبر اور غرور

سرزد ہوجائے۔ ملا برادر نے طالبان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ پر پہلے سے زیادہ ذمہ داری

آگئی ہے۔ کیونکہ اب ہماری امتحان اور آزمائش کا وقت آگیا ہے۔ ہمیں اس بارے میں کام کرنا ہے کہ ہم

کس طرح اپنے عوام کے جان و مال، ملک کے امن و امان، اور عوام کے سکون کو یقینی بنا سکیں۔ ہم

عوام کو بھی یہ یقین دلاتے ہیں کہ جس طرح اﷲ نے ہمیں اتنی عظیم فتوحات سے نوازا ہے اسی طرح

ہم آپ کی جان و مال کے تحفظ کے لیے حتی الوسع کوشش کریں گے اور اس کو یقینی بنائیں گے۔

امریکا کا افغانستان میں افغان فوج کی ناکامی کا اعتراف

دوسری طرف کابل کے طالبان کے کنٹرول میں آنے کے بعد امریکا نے افغانستان میں افغان فوج کی

ناکامی کا اعتراف کرلیا۔امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ افغان فوج کی ناکامی ہماری توقع

سے کہیں زیادہ تیزی سے ہوئی، جس افغان فوج کوگزشتہ 20 برس سے تربیت دی، اسلحے سے لیس

کیا، امریکا ان کی طاقت اور صلاحیتوں کا درست اندازہ نہیں لگاسکا۔انہوں نے کہا کہ انسانی زندگی

کے تحفظ کے ذمے دار اور جوابدہ افغانستان میں طاقت اور اختیارات رکھنے والے ہیں۔امریکی

سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ امریکا افغانستان میں مستقبل کی حکومت کو صرف اس

صورت میں تسلیم کرے گا جب وہ اپنے لوگوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرے اور دہشت گردوں کو

ملک سے دور رکھے۔میڈیارپورٹس کے مطابق چین طالبان کی جانب سے طالبان کو ایک جائز

حکومت تسلیم کرنے کے حوالے سے میڈیا رپورٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مستقبل

کی افغان حکومت جو اپنے لوگوں کے بنیادی حقوق کو برقرار رکھے اور جو دہشت گردوں کو پناہ نہ

دے، اس حکومت کے ساتھ ہم کام کر سکتے ہیں اور تسلیم کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسی

حکومت جو اپنے لوگوں کے بنیادی حقوق کو برقرار نہیں رکھے، جو امریکا اور اس کے اتحادیوں

کے خلاف مذموم عزائم رکھنے والے دہشت گرد گروہوں کو پناہ دے، یقینی طور پر ایسا نہیں ہونے

دیں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر وہ بنیادی حقوق کا احترام نہیں کرتے ہیں اور دہشت گردوں کو

پناہ دینا بند نہیں کرتے ہیں تو کابل میں طالبان کی زیرقیادت حکومت کو بین الاقوامی امداد نہیں ملے

گی، پابندیاں نہیں ہٹائی جائیں گی اور وہ سفر نہیں کرسکیں گے۔

کابل ائیرپورٹ پر امریکی فوج کے اہلکاروں کی فائرنگ سے 5 افراد ہلاک

دریں اثناکابل ائیرپورٹ پر امریکی فوج کے اہلکاروں کی فائرنگ سے 5 افراد ہلاک ہو گئے۔غیر

ملکی میڈیا کے مطابق کابل ائیرپورٹ پر افغانستان چھوڑنے والے افراد کے ہجوم کو منتشر کرنے

کے لیے امریکی فوجیوں کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔خبر ایجنسی کے مطابق امریکی فوجی

اہلکاروں کی فائرنگ سے 5 افراد ہلاک ہو گئے۔

چین طالبان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے لیے تیارہے، چینی وزارت خارجہ

چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ چین طالبان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے لیے تیار ہیں، چین افغان

عوام کے حقوق کا احترام کرتا ہے، افغان عوام کو حق ہے کہ وہ اپنی منزل کا خود تعین کریں۔

افسوس ہے کچھ لوگ افغانستان سے واپس نہیں آ پائیں گے،برطانوی سیکرٹری دفاع

برطانوی سیکرٹری دفاع نے کہا ہے کہ انہیں افسوس ہے کچھ لوگ افغانستان سے واپس نہیں آ پائیں

گے ۔اپنے ایک بیان میں برطانوی سیکریٹری دفاع نے کہا کہ ان کام ہے کہ اپنے فرائض نبھائیں،

20برس کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے، برطانوی سیکریٹری دفاع بین والیس افغانستان کا

ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔امریکا اور اس کے اتحادیوں سمیت 65 ملکوں نے کہاہے کہ افغانستان

سے نکلنے کے خواہش مند لوگوں کو جانے کی اجازت دی جائے،غیرملکی خبررساں ادارے کے

مطابق امریکا اور اتحادیوں سمیت 65 ملکوں نے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر دستخط شدہ

مشترکہ بیان جاری کردیا۔امریکی محکمہ خارجہ نے اتحادیوں کی جانب سے دستخط شدہ بیان جاری

کیا، جس میں کہا گیا کہ افغانستان سے جانے کے خواہشمند افغانیوں اور غیر ملکیوں کو جانے کی

اجازت دی جائے۔امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انسانی زندگی کے

تحفظ کے ذمہ دار اور جوابدہ افغانستان میں طاقت اور اختیارات رکھنے والے ہیں۔افغان مصالحتی

کونسل کے چیئرمین عبدﷲ عبدﷲ کا وفد کے ہمراہ طالبان سے مذاکرات کے لیے قطر روانہ ہوگئے۔

برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق عبدﷲ عبدﷲ کا کہنا تھا کہ طالبان مذاکرات کے لیے کچھ وقت دیں۔

افغان وفد طالبان سے اقتدار کی منتقلی پر بات چیت کریگا، مذاکرات میں امریکی حکام بھی شریک

ہوں گے۔

20 سالہ جنگ ختم،20 سالہ جنگ ختم
،20 سالہ جنگ ختم

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply