دوسری ٹور ڈی خنجراب انٹرنیشنل سائیکل ریس، واپڈا سرفہرست

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گلگت بلتستان،ہنزہ،پشاور(جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ)

دوسری ٹور ڈی خنجراب انٹرنیشنل سائیکل ریس کے تیسرے مرحلہ میں بھی واپڈا

کے کھلاڑی سرفہرست رہے۔ واپڈا کے اویس خان نے مطلوبہ فاصلہ 2:23:23

میں طے کرکے اپنے نام کرلیا۔ بائیکستان کے سائیکلسٹ شاہ ولی2:23:24 وقت

کے ساتھ دوسرے، واپڈا کے سائیکلسٹ عزت اللہ 2:25:08 وقت کے ساتھ تیسرے

نمبر پر رہے، دوسرے مرحلے میں چوتھی پوزیشن نثار احمد( واپڈا )، پانچویں

پوزیشن گلام حسین (ایس ایس جی سی) جبکہ چھٹی پوزیشن عابد صدیق( آرمی)

کے نام رہی۔ تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان حکومت اور پاکستان سائیکلینگ

فیڈریشن کے زیر اہتمام منعقدہ دوسری ٹور ڈی خنجراب انٹرنیشنل سائیکل ریس

کے تیسرے مرحلے کا آغاز ہنزہ سے ہوا جو سست کے مقا م پر اختتام کو پہنچا یہ

مرحلہ 92 کلو میٹر پر محیط تھا۔ایونٹ کے پہلے مرحلے میں 83 میں سے77 نے

کھلاڑیوں نے ریس مکمل کی تھی جبکہ چھ کھلاڑی ڈس کوالیفائی ہوگئے تھے۔

گذشتہ روز مکمل ہونے والی ریس کے دوسرے اور خطر ناک ترین مرحلے میں

شریک سبھی سائیکلٹس نے ریس فنش کی۔ ریس کے اختتام پر گزشتہ رات ڈی سی

ہنزہ بابر سبطین کی جانب سے ریس کے شرکاء کے اعزاز میں پر تکلف ڈنر کا

اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر ٹورڈی خنجراب کے آفیشلز، پاکستان سائیکلینگ فیڈریشن

کے آفیشلز، سائیکلٹس اور علاقہ عمائدین نے بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب میں

دوسرے مرحلے کے فاتح کھلاڑی سمیت ٹاپ چھ کھلاڑیوں کو کیشن انعام سے

نوازا گیا جبکہ ایونٹ کے دوسرے مرحلہ کے فاتح کھلاڑی پاکستان واپڈا کے

نجیب اللہ کو ونر جرسی بھی پہنائی گئی۔ گزشتہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے ڈنر

یہ بھی پڑھیں:….بکنگھم پیلس لندن کی سڑک پرعالمی کرکٹ میلے رنگا رنگ افتتاحی تقریب

کے بعد رنگا رنگ تقریب بھی سجائی گئی، تقریب کے مہمان خصوصی وقار علی

خان سابق سیکرٹری اورڈی سی ہنزہ بابر سبطین تھے دیگر مہمانان گرامی میں

نائب صدر پاکستان سائیکلینگ نثار احمد، یو سی آئی میچ کمشنرماجد نصیری شامل

تھے، ایونٹ کا چاتھا اور آخری مرحلہ آج سُست سے شروع ہوکر خنجراب میں

اختتام پذیر ہوگا۔

دوسری ٹور ڈی خنجراب انٹرنیشنل سائیکل ریس کے دوسرے مرحلے کے ونر

واپڈا کے نجیب اللہ نے مطلوبہ فاصلہ 1:19:37 میں طے کیا تھا۔ ایس ایس جی سی

کے سائیکلسٹ رزاق 1: 19: 46 کے وقت کے ساتھ دوسرے، کے سائیکلسٹ

ہنزلہ 1:21:14 کے وقت کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے، چوتھی پوزیشن عبداللہ،

پانچویں پوزیشن عابد جبکہ چھٹی پوزیشن صفی اللہ کے نام رہی۔ دوسرے مرحلے

کا آغازغلمت سے ہوا، ایونٹ کا یہ مرحلہ ٹائم ٹرائل کا تھا جو دوہیکر ہنزہ تک 35

کلو میٹر تک محیط تھا۔ کم فاصلہ ہونے کے باوجود یہ ایونٹ کا مشکل ترین مرحلہ

تھا کیونکہ آخری سات کلو میٹرمسلسل چڑھائی کے پر خطر راستے تھے جنہیں

کھلاڑیوں نے ہمت اور بہادری کے ساتھ طے کیا۔ ایونٹ کے پہلے مرحلے میں 83

میں سے77 نے کھلاڑیوں نے ریس مکمل کی تھی جبکہ چھ کھلاڑی ڈس کوالیفائی

ہوگئے تھے۔اس مرحلے میں بھی پہلی پوزیشن واپڈا کے نجیب اللہ، دوسری آرمی

کے عبداللہ خان، تیسری پوزیشن سری لنکا کے ویران رمیش، چوتھی پوزیشن

آرمی کے عابد صدیق جبکہ پانچویں اور چھٹی پوزیشن ایس ایس جی سی کے غلام

حسین اور عبدلرزاق کے حصہ میں آئی تھی۔ پہلے مرحلے کے ونر سائیکسٹس

کے اعزاز میں ڈی سی نگر کی جانب سے پر تکلف ڈنر کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع

پر ٹورڈی خنجراب کے آفیشلز، پاکستان سائیکلینگ فیڈریشن کے آفیشلز،

سائیکلیسٹوں اور علاقہ عمائدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ فاتح کھلاڑی سمیت

ٹاپ چھ کھلاڑیوں کو کیشن انعام سے نوازا گیا جبکہ ایونٹ کے پہلے مرحلہ کے

فاتح کھلاڑی پاکستان واپڈا کے نجیب اللہ کو وائٹ جرسی بھی پہنائی گئی۔ تقریب

کے مہمان خصوصی ڈاکٹر محمد اقبال منسٹر ورکس جی بی، میر محفل منسٹر ٹور

مزید پڑھیں:…پاکستان کی بھارت کو شکست، پہلا وہیل چیئر ایشیاء کرکٹ کپ جیت لیا

زم فدا خان فدا جی بی تھے جبکہ دیگر مہمانان گرامی میں نائب صدر پاکستان

سائیکلینگ نثار احمد، یو سی آئی کومیشر ماجد نصیری، حاجی رضوان علی ایم ایل

اے،یاوت حسین ایم ایل اے۔ سابق سیکر ٹری ٹورزم وقار احمد، موجودہ سیکرٹری

سپورٹس ایند ٹورزم آصف اللہ خان، چیف آرگنائزر ٹورڈی خنجراب عثمان احمد،

ڈی سی حسین احمد چوہدری، کیپٹن (ر) اُسامہ شامل تھے،

دوسری ٹور ڈی خنجراب انٹرنیشنل ریس کے پہلے مرحلے کے آغاز سے قبل

گلگت میں ایونٹ کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر

اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظٖ الرحمن نے کہا انکی حکومت صوبہ میں کھیلوں

اور ٹورزم کو فروغ دینے کے لئے اسے ایڈونچر ٹورمنٹس کا حب بنانے کے لئے

کام کر رہی ہے، ٹورڈی خنجراب کا دوسرا ایڈیشن،سر فرنگا کولڈ ڈیثرٹ جیپ

ریلی اسکی روشن مثال ہیں، دوسری ٹور ڈی کنجراب انٹر نیشنل سائیکل ریس کے

دوسرے ایڈیشن میں سری لنکا اور افغانستان کی ٹیموں کے علاوہ مغربی ممالک

کے کھلاڑیوں کی انفرادی حثیت میں شرکت اور یو سی آئی کی جانب سے اس

ایونٹ کے لئے انٹرنیشنل کومیشر کی تقرری خوش آئند ہے جس کے لئے ہم

پاکستان سائیکلینگ فیدریشن اور یو سی آئی کے مشکور ہیں۔ ایونٹ میں شرکت کے

لئے آنے والے کھلاڑیوں اور پی سی ایف و یوسی آئی آفیشلز کو خوش آمدید کہتے

ہوئے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے توقع ظاہر کی کہ پاکستان سمیت دنیا بھر سے

آئے ہوئے سائیکلسٹ اور میڈیا نمائندگان نہ صرف سائیکلینگ کو انجوائے کریں

اور اس ایونٹ کی بھرپور کوریج کریں گے بلکہ گلگت بلتستان کی حسین وادیوں

کو بھی دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ ہم پی سی ایف کی

مدد سے اس ایونٹ کو یو سی آئی کلینڈر میں شامل کرائیں تاکہ دنیا بھر سے

سائیکلیسٹوں کو یہاں لایا جاسکے اور گلگت بلتستان کی خوبصورتی دکھاسکیں،

وزیراعلی کا کہنا تھا جی بی حکومت کیساتھ ساتھ اس ایونٹ کے انعقاد میں سرینا

ہوٹل، ایس سی او، قراقرم بینک،اپنا بینک، بینک الفلاح اور ایف پی سی سی آئی نے

بھرپور تعاون کیا جسکے لئے وہ ان سب اداروں کے شکر گزار ہیں۔ ہم ماحولیاتی

جانیئے:…. لیجنڈ عالمی فٹبالر پیلے کا مداحوں سے مذاق اورشکریہ

بہتری کے لئے صوبہ میں سائیکلینگ کے کلچر کو فروغ دینا چاہتے ہیں یہی وجہ

ہے کہ وہ سائیکلینگ کے ایونٹ کے دوسرے ایڈیشن پر بے حد خوش ہیں۔ تقریب

سے خطاب کرتے ہوئے سیکر ٹری سپورٹس آصف اللہ خان نے سپورٹس و ٹورزم

کے محکمہ کی کارکردگی بتاتے ہوئے کہا انکا محکمہ صوبوں میں نوجوانوں کو

کھیلوں کی جانب متوجہ کرنے کے ساتھ ساتھ سیاحت کے فروغ کے لئے سال بھر

ایکٹویٹی کرتا رہتا ہے۔ افتتاحی تقریب میں صوبائی وزیر کھیل وسیاحت فدا محمد

فدا، آرگنائزنگ سیکرٹری پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن کے نائب صدر نثار احمد ،

کمشنر گلگت عثمان احمد اور سابق سیکر ٹری ٹورزم جی بی وقار احمد خان بھی

موجود تھے۔ بعد ازاں گلگت کے مرکزی پارک میں رنگارنگ تقریب میں اس

تاریخی ریلی کا آغاز ہوا۔ مقامی بینڈ نے شرکا کو اپنے فن کے زبردست مظاہرے

سے لطف اندوز کیا۔ نظر توڑنے کے لیے دھونی اور خوش بینی کے لیے مکھن

روٹی کا بندوبست تھا۔ رنگ برنگے غباروں نے آسمان کو سجا دیا جبکہ گلگت کے

لوگوں نے بھرپور انداز میں سائیکل سواروں کو اس کے روٹ پر سڑک کے دونوں

جانب تالیاں بجا کر داد دی اور ہمت بڑھائی۔ بچوں نے اپنی زبان میں نعرے لگا کر

اور جملے کس کر خوب مزا اڑایا۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply