corona Special jtnonline3

یوکوہاما سٹی یونیورسٹی کی کووڈ-19 سے صحت یاب افراد کیلئے اچھی خبر

Spread the love

ٹوکیو(جے ٹی این آن لائن کرونا سپیشل) یوکوہاما سٹی یونیورسٹی

کووڈ 19 سے متاثر ہونا ایک خوفناک تجربہ ہو سکتا ہے تاہم اس سے صحت یاب

ہونے والے افراد کو ماہرین نے اچھی خبر سنا دی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپان

میں حال ہی میں ہونیوالی ایک تحقیق سے علم ہوا کہ کرونا وائرس کی وباء کے

آغاز میں کووڈ سے بیمار ہونیوالے 97 فیصد افراد میں ایک سال بعد بھی وائرس

کو ناکارہ بنانیوالی اینٹی باڈیز موجود ہوتی ہیں۔ یوکوہاما سٹی یونیورسٹی کی تحقیق

میں 250 ایسے افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا تھا جو فروری سے اپریل 2020ء

کے دوران کووڈ سے متاثر ہوئے تھے۔ تحقیق میں بتایا گیا اوسطاََ ان افراد میں 6

ماہ بعد وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی سطح 98 فیصد اور ایک سال بعد

97 فیصد تھی۔

=–= کرونا وائرس سے متعلق خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

تحقیق کے مطابق جن افراد میں کووڈ کی شدت معمولی تھی یا علامات ظاہر نہیں

ہوئیں ان میں 6 ماہ بعد اینٹی باڈیز کی سطح 97 فیصد جبکہ ایک سال بعد 96 فیصد

تھی، جبکہ سنگین شدت کا سامنا کرنیوالوں میں یہ شرح 100 فیصد تھی۔ تحقیق میں

یہ بھی دیکھا گیا کرونا وائرس کی مختلف اقسام سے متاثر ہونیوالے افراد میں اینٹی

باڈیز کی شرح کیا تھی۔ ماہرین نے دریافت کیا کہ مختلف اقسام سے بیماری کی

معتدل سے سنگین علاما ت کا سامنا کرنیوالے افراد میں 6 ماہ سے ایک سال بعد

اینٹی باڈیز کی شرح 90 فیصد تک تھی۔ تاہم جن افراد میں علامات ظاہر نہیں ہوئیں

یا شدت معمولی تھی، ان میں اینٹی باڈیز کی شرح گھٹ کر 85 فیصد اور ایک سال

بعد 79 فیصد ہو گئی۔ ماہرین نے بتایا نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ویکسین استعمال

کرنیوالے افراد میں وقت کیساتھ وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی سطح

گھٹ سکتی ہے، اسلئے ہو سکتا ہے انہیں ہر سال بوسٹر شاٹ کی ضرورت ہو۔

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

مئی 2021ء میں اٹلی کے سان ریفلی ہاسپٹل کی تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ

کووڈ 19 کو شکست دینے والے افراد میں اس بیماری کیخلاف مزاحمت کرنیوالی

اینٹی باڈیز کم از کم 8 ماہ تک موجود رہ سکتی ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا مریض میں

کووڈ 19 کی شدت جتنی بھی ہو اور اس کی عمر جو بھی ہو، یہ اینٹی باڈیز خون

میں کم از کم 8 ماہ تک موجود رہتی ہیں۔ دوران تحقیق 162 کووڈ کے مریضوں کو

شامل کیا گیا تھا جن کو اٹلی میں وبا کی پہلی لہر کے دوران ایمرجنسی روم میں

داخل کرنا پڑا تھا، ان میں سے 29 مریض ہلاک ہوگئے جبکہ باقی افراد کے خون

کے نمونے مارچ اور اپریل 2020ء میں اکٹھے کیے گئے اور ایک بار پھر نومبر

2020ء کے آخر میں ایسا کیا گیا۔ تحقیق میں بتایا گیا ان مریضوں کے خون میں

وائرس کو ناکارہ بنانیوالی اینٹی باڈیز موجود تھیں، اگرچہ انکی شرح میں وقت کے

ساتھ کمی آئی، مگر بیماری کی تشخیص کے 8 ماہ بعد بھی وہ موجود تھیں۔ صرف

3 مریض ایسے تھے جن میں اینٹی باڈی ٹیسٹ مثبت نہیں رہا تھا۔

یوکوہاما سٹی یونیورسٹی

Leave a Reply