یوم ولادتِ محسن سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابوطالب ؑ

یوم ولادتِ محسن سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابوطالب ؑ

Spread the love

راولپنڈی، لاہور (جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ ) یوم ولادتِ ابوطالب ؑ

محسن اسلام و آنحضور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا، والد محترم

مولا علی حضرت ابوطالب علیہ السلام کے 1481 ویں یوم ولادت کے سلسلے میں

مرکزی امام حسین کونسل کے زیراہتمام پنجاب آرٹس کونسل کے اشتراک سے

ولادت حضرت ابوطالب علیہ السلام کانفرنس منعقد ہوئی۔ ممتاز سکالر ڈاکٹر

غضنفرمہدی نے کانفرنس کی صدارت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے

ڈاکٹرغضنفرمہدی نے کہا حضرت ابوطالب علیہ السلام ریاست مدینہ کے مورث

اعلیٰ تھے، ان کی خدمات کو شامل نصاب کیا جائے تاکہ نئی نسل ان سے رہنمائی

حاصل کر سکے۔

=–= ایسی ہی مزید تجزیاتی رپورٹس، کالمز اور بلاگ ( =–= پڑھیں =–= )

ممتازسکالر خانم مدیحہ حسین عابدی نے کہا کہ آنحضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ

وآلہ وسلم سے حضرت ابوطالب علیہ السلام کی محبت کا یہ جملہ کافی ہے جو

انھوں نے کفارمکہ سے کہا تھا کہ اگرایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے ہاتھ پر چاند

رکھ دیا جائے تب بھی میں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ نہیں

چھوڑوں گا۔ سردار بابرعلی بلوچ ،علامہ اظہار بخاری، اخلاق زیدی، سید فواد علی

بخاری، رقیہ شاہ بی بی، رضا کاظمی و منظر عباس نقوی نے سیمینار سے خطاب

کیا اور سیرت ِ حضرت ابوطالب علیہ السلام پر سیر حاصل گفتگو کی۔ ڈائریکٹر

آرٹس کونسل وقاراحمد نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ کانفرنس کے آخرمیں ایک

قرارداد پیش کی گئی جس میں اسلام فوبیا کے خاتمے کے لیے آپس میں اتحاد و

یگانگت کی فضا پیدا کرنے کے لیے راہ ہموار کی جائے۔

=-.-= مسلم حاکم و شہری کا طرز زندگی برابر ہونا چاہیے، ریاض نجفی

وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے

کہا ہے کہ مال و دولت فقط علم و فن سے مشروط نہیں۔ دولت کا زیادہ یا کم ہونا

بھی ایک آزمائش ہے۔ علمی و عقلی لحاظ سے کم استعداد والوں کے پاس بے پناہ

دولت ہوتی ہے جبکہ کافی صاحبانِ علم و ہنرمفلس و نادار ہوتے ہیں۔ اسلامی

حکومت میں حاکم کا طرزِ زندگی عام شہری کے برابر ہونا چاہیے۔ آج غیر مسلم

ممالک میں عام آدمی کو تقریبا ً تمام ضروریات ِ زندگی دستیاب ہیں جبکہ مسلم

ممالک میں طبقاتی تقسیم کے مظاہر بہت واضح ہیں۔ امیر المومنین حضرت علی ؑ

نے بھی جناب مالک اشتر کے نام امور حکومت سے متعلق ہدایات میں بھی یہی

لکھا تھا کہ عوام اور اپنے مابین کسی دربان، پہرے دار کو حائل نہ ہونے دینا۔ عام

آدمی کی بھی افسر، صاحبِ منصب، حاکم تک بآسانی رسائی ہو اور وہ کھل کر

اپنی بات ان سے کر سکے۔

=-.-= قصہ حضرت سلیمان ؑ میں قابلِ توجہ امور

مولا علی ؑ نے تو حاکم کی بہت سی صفات بیان فرمائی ہیں جس میں حاکم کی

خصوصیات، رہن سہن بھی بیان کیا گیا۔ فرمایا میرے لئے مناسب نہیں کہ وہ کھاؤں

اور پہنوں جو عوام کو دستیاب نہ ہو۔ جامع علی مسجد جامعتہ المنتظر ماڈل ٹاؤن

میں خطبہ جمعہ میں حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ قرآن مجید میں حضرت سلیمان ؑ

کے قصے میں کافی قابلِ توجہ امور ہیں۔ ان کے لشکر کو آتا دیکھ کر چیونٹی کا

اپنے ساتھیوں کو خبردار کرنا کہ کہیں حضرت سیلمان ؑ کا لشکر انہیں روند نہ دے

اور حضرت سلیمان کے چیونٹی کی زبان سمجھنے پر اللہ کا شکر ادا کرنا۔ اسی

طرح ھُدھُد پرندے کی غیر حاضری کا نوٹس لینے میں انتطامی لحاظ سے نکتہ ہے

کہ ماتحت کی حاضری اور فرائض کی بجا آوری کو چیک کرنا ہر صاحبِ منصب

کا اختیار ہے۔

=-.-= طاقتور حاکم میں کمزور ماتحت کی بات سننے کا حوصلہ ہونا چاہئے

اللہ کے نبی کا یہ فرمانا کہ اگر ھدھد اپنی غیر حاضری کا معقول عُذر پیش نہ کر

سکا تو اسے ذبح کریں یا دیگر سخت سزا دیں گے،اس سے ماتحت کے احتساب و

تادیبی کارروائی کا اشارہ ملتا ہے۔ ھد ھد نے اپنی غیر حاضری کی وجہ بیان کی

اور حضرت سلیمان ؑ جیسے حاکم کے سامنے جرات سے کہا کہ اسے یمن کی ملکہ

اور لوگوں کے بارے وہ کچھ معلوم ہے جو انہیں ( حضرت سلیمانؑ ) کو نہیں۔ یعنی

سلیمان جیسے طاقتور ترین حاکم میں بھی ایک کمزور ماتحت کی بات سننے کا

حوصلہ ہونا چاہئے اور ملزم کی وضاحت، صفائی اور تحقیق کے بغیر سزا نہیں

دی جا سکتی۔ حضرت سلیمان ؑ کے واقعہ میں ھدھد نے توحید پر اپنے ایمان کا

ذکر کیا جو کہ اہل یمن میں نہ تھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بہت سے انسانوں کے

بر عکس پرندے اور اس طرح کی مخلوقات اللہ پر ایمان رکھتی ہیں۔ حضرت

سلیمان کا ھد ھد کے دعوے اور مشاہدے کی تصدیق کے لئے اسے خط دے کر

یمن بھیجنا اور اس کا ملکہ کو جا کر خط دینے کی تفصیل قرآن میں ذکر کی گئی

ہے۔

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

خط ملنے اور ارباب حکومت سے مشورہ کے بعد بلقیس کا شام میں حضرت

سلیمان کی خدمت میں حاضر ہونے میں خاص واقعہ اس کے تخت کا منگوایا جانا

ہے۔ ایک عفریت جِن نے کچھ دیر میں یمن سے شام تخت لانے کا دعویٰ کیا جبکہ

حضرت سلیمان کے وزیر جناب آصف بن برخیا نے پلک جھپکنے میں تخت پیش

کر دیا۔ حضرت سلیمان خود بھی یہ کام کر سکتے تھے لیکن اپنے وزیر کے ذریعہ

کرایا جس کے پاس ” کتاب “ کا کچھ علم تھا۔

یوم ولادتِ ابوطالب ؑ ، یوم ولادتِ ابوطالب ؑ ، یوم ولادتِ ابوطالب ؑ

Leave a Reply