لاک ڈاؤن، چلی میں بھوک پر ہنگامے، برازیلی عوام عدم تحفظ پرسراپا احتجاج

یومیہ 21 بھارتی ناریوں کا آگ کے شعلوں کی نذر ہونا یا خود کشی کرنا معمول کیوں؟

Spread the love

نئی دہلی (جے ٹی این آن لائن او مائی گاڈ) یومیہ 21 بھارتی ناریاں

بھارت یوں تو دنیا کا واحد ملک ہے، جہاں جہیز کی رسم قانونا جرم ہے مگر اس

کے باوجود یومیہ اکیس دلہنیں جہیز کی خاطر آگ کے شعلوں کی نذر کر دی جاتی

ہیں یا خود کشی پر مجبور ہو جاتی ہیں،2001ء میں یومیہ اموات کی اوسطا تعداد

انیس تھی جواب بڑھ کر اکیس ہوگئی ہے، سخت ترین قانون سازی کے باوجود

جہیزی اموات کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مودی کے دیس کی ستائی بھارتی ناریوں کی دہائی

بھارتی نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق ہرسال سات ہزار سے زیادہ دلہنیں

جہیز کی بھینٹ چڑھا دی جاتی ہیں، تاہم یہ امر تشویشناک ہے کہ جہیز و ہنڈہ (

شادی کے وقت دلھے کو دی جانیوالے موٹی رقم ) کی قبیحہ لعنت مسلم معاشرے

کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، جہاں ان گنت لڑکیاں بِنا شادی ہی اپنی زندگی

کے ایام گن رہی ہیں، وہیں دوسری طرف جب ان کی بیٹی جوانی کی دہلیز پر قدم

رکھتی ہے تو والدین کا جہیز کی وجہ سے چین وسکون چھِن جاتا ہے۔ انہیں یہ فکر

دامن گیر رہتی ہے کہ اگر رشتہ آتا ہے تو پتہ نہیں جہیز کا کتنا بڑا مطالبہ ہو گا؟

اور کیا وہ اس مانگ کو پورا بھی کر سکیں گے؟

= قارئین =ہماری کاوش پسند آئی ہو گی،اپ ڈیٹ رہنے کیلئے ہمیں فالو کریں

اس سماجی برائی کے سدباب کیلیے انسداد جہیز کیلئے 1961ء میں ایک قانون

وضع کیا گیا تھا، جس کے تحت جہیز کے مطالبہ کی صورت میں پانچ سال تک

جیل کی سزا اور پندرہ ہزار روپے یا جہیز کی مالیت کے برابر جرمانہ ادا کرنا

پڑتا ہے۔ مزید برآں اس قانون میں فوجداری قانون کی شق 304 بی بھی شامل کی

گئی ہے، جس میں جہیز کے مطالبات کی وجہ سے ہونیوالی اموات کی صورت

میں کم از کم سات سال یا عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے، سخت ترین قانون سازی

کے باوجود جہیزی اموات کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔

حال ہی میں ایک پی ایچ ڈی سکالر اور ایئر ہوسٹس انیسا بترا کی خود کشی کا

معاملہ سرخیوں میں آیا تھا، بترا نے اپنے مکان کے ٹیرس سے چھلانگ لگا کر

خود کشی کر لی تھی، دہلی اور بنگلورو جیسے بڑے شہروں اور انتہائی تعلیم یافتہ

خاندانوں میں سسرال والوں کی طرف سے اپنی نئی نویلی بہو کو ذہنی اذیت دینے

کے معاملات آئے دن خبروں کی زینت بنتے ہیں۔دولت مند اور امیر طبقات کے

لیے جہیز کوئی مسئلہ نہیں ہے، اس سے سب سے زیادہ پریشانی متوسط اور

غریب طبقات کو لاحق ہوتی ہے، جہیز اور اسی طرح کی دیگر معاشرتی برائیوں

کے خاتمے کیلئے مسلمانوں کی کئی بڑی تنظیمیں جیسے کل ہند مسلم پرسنل لا

بورڈ، جمعیتہ علما ہند وغیرہ اصلاح معاشرے کا کام کر رہی ہیں، جب والدین اس

بات پر سختی سے عمل کریں کہ وہ اپنی بیٹی کو جہیز دیں گے اور نہ ہی اپنے

بیٹے کیلئے جہیز کا مطالبہ گے، یہ قبیح رسم دو طرفہ رویے سے ہی ختم ہو گی

ورنہ دلہنیں اسی طرح جہیز کی آگ کا ایندھن بنتی رہے گی۔

یومیہ 21 بھارتی ناریاں

Leave a Reply