Brexit & United Kingdom , European Union flags 58

یورپی یونین،برطانیہ میں علیحدگی، ملکہ نے بریگزٹ کی منظوری دیدی

Spread the love

لندن،برسلز(جتن آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک) یورپی یونین برطانیہ علیحدگی

برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم نے ملک کی یورپی یونین سے علیحدگی کی باضابطہ منظوری دیدی،جبکہ یورپین کونسل و یورپی کمیشن کے سربراہان نے بھی برطانیہ کےاس ماہ کے آخر میں یورپی یونین سے نکلنے کے معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ مزید پڑھیں

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن جشن منانے کیلئے تیار

تفصیلات کے مطابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن بھی آئندہ چند روز میں معاہدے پر دستخط کر دیں گے۔ برطانوی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی جانب سے انخلا کے بل کی توثیق کے بعد بورس جانسن نے کہا تھا بعض اوقات ایسا لگتا تھا کہ ہم کبھی بھی بریگزٹ کی لائن عبور نہیں کرسکیں گے لیکن ہم نے ایسا کر دکھایا۔ اب ہم گزشتہ 3 برس کی تلخیاں اور تقسیم کو پیچھے ڈال سکتے ہیں اور ایک روشن، پُرجوش مستقبل کی فراہمی پر توجہ مرکوز کر سکتے ہیں۔ بورس جانسن 31 جنوری کو یادگاری سکے جاری اور کابینہ کے خصوصی اجلاس کی صدارت کرکے اپنی فتح کا جشن منائیں گے۔ برطانوی وزیراعظم ان شرائط کی وضاحت کریں گے جس کے تحت برطانیہ دیگر 27 یورپی ممالک کیساتھ تجارتی تعلقات استوار کرے گا۔ یورپی یونین برطانیہ علیحدگی

یورپی یونین سے باضابطہ مذاکرات مارچ میں متوقع

یورپی یونین سے باضابطہ مذاکرات مارچ میں متوقع ہے۔ ادھر بورس جانسن نے یورپی یونین کے دلائل کو مسترد کردیا کہ جامع معاہدے تک پہنچنے کیلئے سال کے اختتام پر مذاکرات کی آخری تاریخ بہت کم ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز برطانوی پارلیمنٹ کے بعد ہاس آف لارڈز نے بھی برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی بریگزٹ ڈیل منظور کر لی-

برطانیہ کے یو رپی یو نین سے بریگزٹ معاہدے پر دستخط ثبت

یورپین کمیشن کی صدر اروسولا وان ڈیر لین نے ٹویٹر پر کہا ہے کہ یو رپین کونسل کے صدر چارلس مائیکل اور میں نے یورپی پارلیمنٹ کی طرف سے توثیق کا راستہ کھولنے کے لئے برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے معاہدے پر دستخط کردیئے ہیں۔ خیال رہے کہ گزشتہ ماہ بریگزٹ بل کے حوالے سے برطانوی پارلیمنٹ میں کی جانے والی ووٹنگ میں بورس جانسن کی حمایت میں 358 اور مخالفت میں 234 ووٹ ڈالے گئے تھے۔ بریگزٹ بل کے حوالے سے کی جانے والی ووٹنگ میں کامیابی کے بعد وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا تھا اب وقت آگیا ہے کہ اپنے ملک کو دوبارہ متحد کریں۔

یورپی یونین برطانیہ علیحدگی

Leave a Reply