ہندو خواتین مسلمانوں سے مہندی نہ لگوائیں، شدت پسند تنظیم کرانتی سینا کا حکم

ہندو خواتین مسلمانوں سے مہندی نہ لگوائیں، شدت پسند تنظیم کرانتی سینا کا حکم

Spread the love

نئی دہلی (جے ٹی این آن لائن انٹرنیشنل نیوز) ہندو خواتین مسلمانوں سے

شدت پسند ہندو تنظیم کرانتی سینا نے ہندو عورتوں سے کہا ہے وہ مسلم نوجوانوں

سے مہندی نہ لگوائیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اس دوران اس تنظیم کے کارکنوں

نے ہنگامہ آرائی کی بھی کوشش کی۔ اترپردیش پولیس نے گیارہ افراد کے خلاف

کیس درج کر لیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) کی حکومت والی ریاست اتر

پردیش میں فرقہ وارانہ لحاظ سے حساس ضلع مظفر نگر میں گزشتہ دنوں ایک

شدت پسند ہندو تنظیم کرانتی سینا کے کارکنوں نے مختلف بازاروں میں مارچ کیا

اور دکانداروں کو حکم دیا کہ ہندو خواتین کو مہندی لگانے کے لیے اپنے یہاں

کسی مسلمان کو ملازمت پر نہ رکھیں اور اگر ایسا کوئی مسلمان ہو تو اسے فورا

نکال دیں۔

=-= دنیا بھر سے مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

کرانتی سینا کے جنرل سیکرٹری منوج سینی نے کہا کہ دراصل یہ مسلم نوجوان

مہندی لگانے کے آڑ میں ہندو لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر محبت کے دام میں پھنسا

لیتے ہیں۔ یہ دراصل لو جہاد کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے ہندو لڑکیوں اور

عورتوں کو بھی متنبہ کیا کہ وہ کسی مسلمان سے مہندی نہ لگوائیں۔ یہ واقعہ اس

وقت منظر عام پر آیا جب علی شان جعفری نامی ایک مقامی صحافی نے اپنے

سوشل میڈیا اکاﺅنٹ پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ

لوگ مظفر نگر کی مرکزی مارکیٹ میں دکانوں کی چیکنگ کر رہے ہیں۔ کرانتی

سینا سے وابستہ یہ لوگ دکانداروں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے یہاں کسی مسلمان

کو نہ تو مہندی لگانے کے لیے رکھیں اور نہ ہی ہیئر ڈریسر کے طور پر۔ ویڈیو

میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک دکاندار ان ہندو کارکنوں سے پوچھ رہا ہے،

ہم کسی کو مذہب کی بنیاد پر ملازمت پر کیسے رکھ سکتے ہیں؟

=–= خواتین سے متعلق مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

مظفر نگر کا واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مقامی پولیس نے کارروائی

کرتے ہوئے 51 افراد کے خلاف کیس درج کر لیا۔ ان میں گیارہ نامزد اور چالیس

نامعلوم افراد ہیں۔ مظفر نگر شہر کے پولیس سپرنٹنڈنٹ (ا یس پی ) ارپِت وجیہ

ورگیہ نے کہا کہ پولیس بازاروں میں مسلسل گشت کر رہی ہے، امن اور فرقہ

وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے والوں کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے

گی۔ ایس پی وجیہ ورگیہ نے بتایا ایک مہندی سٹال کے مالک پرکاش چندرا نے

شکایت درج کرائی تھی کہ اس نے ہندوں کے تہوار تیج پر مہندی لگانے کا ایک

سٹال لگایا تھا۔ ایک گروپ ان کی دکان پر آیا اور پوچھا کہ وہ یہاں کیا کر رہے ہیں

چندرا نے انہیں بتایا کہ تیج کا تہوار آنے والا ہے اور اس موقع پر عورتیں مہندی

لگواتی ہیں۔ اس پر وہ لوگ آپے سے باہر ہو گئے۔ انہوں نے چندرا کی تمام چیزیں

پھینک دیں، سٹال کو توڑ دیا اور کہا کہ مہندی لگانے کا کوئی سٹال نہیں لگایا

جائے گا۔

=-،-= سچی کہانیوں کے عنوان کے تحت مزید (=-= سٹوریز =-=)

پرکاش چندرا نے پولیس میں درج اپنی شکایت میں مزید کہا کہ جب میں وہاں سے

جانے لگا تو انہوں نے مجھے دھمکی دی کہ اگر ان لوگوں کی اجازت کے بغیر

سٹال لگایا تو وہ جان سے مار ڈالیں گے۔ ان لوگوں نے مجھے گالیاں بھی دیں اور

دھکے بھی دئیے۔ گو کہ اس واقعے کو تین دن گزر چکے ہیں اور پولیس نے

شکایت بھی درج کر لی ہے، تاہم ابھی تک کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی،

ایس پی وجے ورگیہ نے بتایا کہ انکوائری ہو رہی ہے اور اس کی بنیاد پر

کارروائی کی جائے گی۔

ہندو خواتین مسلمانوں سے ، ہندو خواتین مسلمانوں سے ، ہندو خواتین مسلمانوں سے

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply