0

ہمارے بغیر ریاست طالبان کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی، مولانا فضل الرحمن کا دعویٰ

Spread the love

سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمن نے دعویٰ کیا ہے طالبان کا سب سے زیادہ مقابلہ ہم نے کیااور ان کی نظریاتی سپلائی لائن بھی ہم نے کاٹی ،ہم یہی کر سکتے تھے باقی اسلحہ تو فوج اور ریاست نے استعمال کرنا تھا ،ہم نے نہیں ،ساتھ ہی انکا یہ بھی کہنا تھا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ریاست ہمارے موقف کے بغیر طالبان کا مقابلہ کر سکتی ۔گزشتہ رات ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو میں انکا کہنا تھا یہی وجہ ہے طالبان ہمارے دشمن بن گئے ، ہمارے کئی علماکو شہید کیا اور کئی پر حملے ہوئے ،اب بھی ہماری زندگیاں خطرے میں ہیں ،یہ سب ہم نے اسلئے کیا کہ ہم پاکستان میں عسکریت کےخلاف ہیں۔ اگر خدا نخواستہ کل کو پاکستان کےلئے کوئی مشکل وقت آیا تو یہ خاکسار ہی خاکی و ردی والوں کےساتھ کھڑا ہو گا ،یہ دودھ پینے والے تو پھر اپنے گھروں کو چلے جائیں گے۔ سڑکوں کے ذریعے میدان میں آنا بھی ایک جمہوری عمل ہے ، جہاں جمہوری ماحول ہو وہاں سڑکوں کو بھی آباد کرنا پڑتا ہے۔ عمران خان شوکت عزیز کی طرح ہیں، انکی کوئی حیثیت نہیں ، ا حتسا ب کا موجودہ نظام مشکوک ہے ،حقیقی احتساب تو شائد ہم ہی کریں گے پھر کون بچے گا؟ جن پر کوئی کیس نہیں وہی احتساب کر سکتا ہے ،اس نظام میں اپنے آپ کو میں فٹ نہیں سمجھتا ،عمران خان ،آصف زرداری اور نواز شریف سمیت کسی کو بھی کرپٹ نہیں سمجھتا ،چائینہ کےساتھ 70 سالہ دوستی اقتصادی دوستی میں تبدیل ہو گئی لیکن طویل مدت کی دوستی کا جب فائدہ اٹھانے کا موقع آیا تو حکومت نے سارے منصوبے ملیا میٹ کر دیئے، تمام اپوزیشن پارٹیوں کا اصولی موقف ہے الیکشن میں بدترین دھاندلی ہوئی اور جعلی مینڈیٹ ملک پر حکمران ہے ،حکومت کو وقت دینا مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے،دیکھنا یہ ہے ملکی حالات اس حکومت کو کتنا ٹائم دیتے ہیں ؟میرے خیال میں تو ایک دن بھی اس جعلی مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کرنا چاہیے،معاشی لحاظ سے یہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین دور ہے ،ہماری ایک آواز پر پشاور میں 50 لاکھ لوگ جمع ہو سکتے ہیں، حکومت گرانے کےلئے کسی بڑے دھرنے کی ضرورت نہیں ،یہ خود ہی گر جائے گی۔ میں عمران خان کو پاکستانی سیاست کا حصہ نہیں سمجھتا ،وہ باہر کے ایجنڈے پر ہیں۔ مذہبی جماعتوں نے جزوی طور پر جہاں جہاں اتحاد میں مل کر حکومت کی وہ سنہری ادوار تھے ،میری پہلے بھی کوئی سیا ست نہیں تھی ، اسمبلی سے باہر زبر دستی رکھنے کا مطلب یہ ہے ہماری سیاست زندہ ہے ۔ساتھی کہتے ہیں اسمبلی سے باہر رہنا اچھا ہے کیونکہ اس سے ہم پبلک میں آ گئے ہیں ،پہلے پارلیمنٹ کی وساطت سے لوگوں سے ملتے تھے اب براہ راست لوگوں سے رابطے ہیں ۔ میری آواز پہلے سے زیادہ بلند اور اس میں نئی تازگی آ گئی ہے۔آصف زرداری اور نواز شریف کےخلاف ہی مقدمات کیوں؟جن کی 32 ،32 کمپنیاں ہیں ان کا نام کیوں نہیں لیا جاتا ؟8 ہزار لوگوں نے این آر او سے فائدہ اٹھایا ان کا نام کیوں نہیں لیا جاتا ؟کتنے لوگوں نے قر ضے معاف کرائے ان کا تو نام ہی نہیں لیا جاتا ،جنرلز ،بیورو کریٹس اور وفاداری کرنےوالے سیاستدانوں کا نام کیوں نہیں لیا جاتا ؟جو سیا ستدا ن اسٹیبلشمنٹ کو سپورٹ اور وفا داری کرتے ہیں ان کا نام کیوں نہیں لیا جاتا؟۔ کیا صرف مالیاتی کرپشن ہی کرپشن ہوتی ہے؟اخلاقی کر پشن کوئی معیار نہیں ؟ریاست مدینہ میں اخلاقی جرم کی کوئی حیثیت نہیں ؟ہم نے صرف مالی کرپشن پر ہی فوکس کر رکھا ہے جو کسی طور درست نہیں ،قانون کے مطا بق جو کمائی ہے آپ کے ملک میں وہ تو سود کی کمائی کو بھی حلال قرار دے دیتے ہیں جو شرعی طور پر جائز ہی نہیں ،پوری دنیا میں اسوقت بلیک ما رکیٹ کا کاروبار 60 فیصد اور وائٹ مارکیٹ کا بزنس 40 فیصد ہے ، آپ دنیا کے اس سسٹم کو کس طرح چلائیں گے؟ حکومت کے کرپشن کو ا س انداز میں ختم کرنے کے رویے کی وجہ سے کوئی افسر اور بڑا بیورو کریٹ کسی فائل کو ہاتھ لگانے اور دستخط کرنے کےلئے تیار نہیں ۔حیات ٹاور کو ریگو لرائز اور غریبوں کے گھروں کو گرایا جا رہا ہے ،کیایہ انصاف ہے؟۔ علیمہ خان نے اپنے اثاثوں کو چھپایا کیوں تھا ؟عمران خان کو ان کے اپنے نعرے ہی کھا رہے ہیں۔ اسلام میں انتہا پسندی ہے ہی نہیں ۔

Leave a Reply