عید کے دن عجیب قسم کا حادثہ ” ہمارا کوئی نہیں ہوتا ” —– ( قسط نمبر 2 )

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارا کوئی نہیں ہوتا

وزیرستان پہنچتے ہی ایک اور خبر ہماری منتظر تھی

کرنل رفیع اللہ کو دورانِ اغواء ہی ذبح کر کے صرف اُن کا سر فوجی یونٹ کو

دہشت گردوں کی طرف سے تحفے میں ملا تھا اور مسئلہ یہ تھا کہ ان کے

خاندان سے یہ بات کیسے چھپائی جائے۔

یونٹ کے سی او ایک دین دار قسم کے انسان تھے، انہوں نے ایک عالم کو بلایا

اس نے جنگ کے دوران ایسے جھوٹ پہ چھوٹ دینے والی حد یث سنائی۔

مشورے کے بعد اس سر کو تابوت میں بند کر دیا گیا اور دھڑ ( جسد خاکی ) کی

جگہ ریت کا بورا رکھوا دیا گیا تاکہ تابوت انسان کے جسم جتنا بھاری لگے۔

ایک فوجی افسر کو شہید کے جسد خاکی کیساتھ بھیجا گیا جس کو سختی سے

حکم دیا گیا کہ لواحقین کو تابوت کھولنے یا غسل دینے سے باز رکھے تاکہ انکو

حقیقت جان کے اور زیادہ تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

یہ بھی پڑھیں : مجھے شہید ہوئے 12 سال کا عرصہ بیت چُکا، یہ ہے 2032ء . . . . . ( پہلی قسط )
———————————————————————

وہ دن گزر گیا۔

اس دوران کتنی دفعہ ہم پہ حملہ ہوا اور شہادتیں ہوتی رہیں۔

ایک دن عید الفطر کا دن تھا

میں نے سفید کپڑے بنوائے تھے

میں خوش تھا

میرا بہت دل کر رہا تھا کہ آج میں اپنے گھر والوں سے بات کروں

ہم سے 500 میٹر دور ایک جگہ پہ سگنل آتے تھے

میں صبح سویرے ہی نہا کے وضو بنا کے اس طرف چلا گیا تاکہ امی کو عید

کی نماز سے پہلے کال کروں اور خوش کر دوں

میں نے ابھی کال کی ہی تھی کی نمازِعید کا خطبہ شروع ہو گیا

تھوڑی بہت بات کی اور واپس عید نمازپڑھنے یونٹ کی مسجد کی طرف آنے ہی

والا تھا کہ جس پہاڑی پہ ہماری یونٹ تھی اسکی طرف تین سو کے قریب مسلح

افراد کو تیزی سے چڑھتے دیکھ لیا۔

مرتا کیا نہ کرتا —– موبائل کے سگنل یونٹ میں نہ تھے کہ کال کرتا

میں نے پوری قوت سے شور مچانا شروع کر دیا ” حملہ حملہ “

مرتے مرتے میری آواز میرے یونٹ کے دیرینہ دوست عنایت نیازی تک جا

پہنچی۔

اس کو شبہ ہوا اس نے جب اپنے مورچے سے نیچے جھانکا تو تین سو کا لشکر

اس کو عید مبارک کرنے کیلئے آ رہا تھا

فوراً جوابی کارروائی ہوئی لیکن دشمن بہت قریب آ چکا تھا، مسجد میں نمازی

موجود تھے

دشمن کے راکٹ لانچروں نے مسجد کے مینارے اُڑا کے رکھ دیئے

خوش قسمتی سے نمازیوں کو سمبھلنے کا موقع مل چکا تھا اور سب سول

کپڑوں میں ہی ہتھیار بند ہو چکے تھے

اگر عنایت نیازی ذرا سی دیر کر دیتا تو دشمن اور اوپر آ چکا ہوتا اورراکٹ

میناروں کی جگہ صحن میں گرتے

دشمن نے مجھے دیکھ لیا تھا اور مجھ پہ شدید فائرنگ بھی کی لیکن مجھے سادہ

کپڑوں کی وجہ سے سولین سمجھ کے میرا پیچھا نہ کیا اور میں بچ گیا۔

تین سو کے لشکر سے یہ جنگ صرف 25 منٹ تک جاری رہی اس کے بعد وہ

تمام حملہ آور اپنی پرانی حکمتِ عملی کی طرح وہاں سے اُتر کر غائب ہو گئے۔

دونوں طرف سے شدید نقصان ہوا تھا اور عنایت نیازی معجزانہ طور پہ زندہ

سلامت اور بغیر کسی زخم کے بچ گیا تھا کیونکہ اس نے مشین گن کیساتھ اندھا

دھند گولیوں کا سپرے کیا تھا جس کی وجہ سے دشمن کو آگے بڑھنے کی

بجائے رک کے پوزیشن لینا پڑی تھی۔

ہیلی کاپٹر بلوئے گئے اور شہیدوں کے جسد خاکی ان کے گھر روانہ کر دیئے

گئے

عید کے دن یہ بہت ہی عجیب قسم کا حادثہ تھا

شہیدوں میں میرا ٹریننگ کا دوست جواد بھی تھا جو سات بہنوں کا اکلوتا بھائی

تھا اس کے والد پچھلے سال ہی گردے ختم ہونے کی وجہ سے اللّٰہ کو پیارے

ہو چکے تھے اور اس کی ماں اس کی جلد شادی کرنا چاہتی تھی جبکہ جواد

پہلے اپنی بہنوں کی ذمہ داری سے خود کو سرخرو کرنا چاہتا تھا۔

جواد کی وہ ارمانوں کے طوفانوں سے کھلی آنکھیں میں نے اپنے ہاتھوں سے

بند کی تھیں۔

میرے جذبات تھے کہ اللہ سے شکوہ تھا کہ اے اللہ ہم میں سے کسی کو بلا لیتا

پر جواد کو کچھ مہلت دے دیتا تاکہ وہ اپنی بہنوں کے سروں پہ ہاتھ رکھ کے

رخصت کر پاتا۔

مگر اللہ کی بے نیازیاں اور اس کی قدرت میں ہاتھ ڈالنے والے ہم کون ہوتے ہیں

جواد کی بھی سات بہنوں اور بوڑھی ماں کو عید کا تحفہ جواد کی شہادت ملنی

تھی جو مل کے رہی

ہم جب علاقے کا سرچ آپریشن کر رہے تھے تو ان تین سو دہشت گردوں کے

فائر کئے گئے گولیوں کے خالی خول ملے جن کی کیپ پہ ” میڈ ان یو ایس

اے”… Made In USA … لکھا ہوا تھا اور مُردار دہشت گردوں کے پاس اتنا

زیادہ اور جدید اسلحہ ملتا تھا جیسے وہ سپر پاور کے فوجی ہوں۔

ان کے پاس حشیش اور نشہ آور دوائیاں بھی ہمیں ملی تھیں جو کہ دماغی طور

پہ انسان کو مفلوج کر کے روبوٹ کی طرح حکم کا پابند بنانےوالی تھیں۔

کیسی عجیب جنگ تھی یا فتنہ تھا۔ ( ہمارا کوئی نہیں ہوتا )

ہم نے دو سال وہاں گزار دیئے

دو سالوں بعد اچانک ہمیں مکران سے آگے ایران بارڈر کے پاس لورا لائی کے

علاقے میں حرکت کا حکم ملا۔

میں ایک دفعہ پھر گھر آیا تو میری میرے بچپن کے دوستوں سے ملاقات ہوئی

میں ان کو اپنے حالات سنا رہا تھا کہ ایک دوست نجیب جو اب پڑھ کے وہاں

ڈگری کالج میں پروفیسر بن چکا تھا وہ مجھ سے بہت ہی عجیب ا نداز میں بولا

کہ بھائی ہمیں یہ کہانیاں نہ سناؤ یہ آپ لوگوں کی ڈیوٹی ہے، کوئی احسان

نہیں کر رہے، آپ لوگ اربوں روپے کا بجٹ بھی تو لے رہے ہو۔

مجھے ایک دم ایسا لگا جیسے نجیب نے یہ بات نہیں کی بلکہ جواد شہید اور

حوالدار زاہد شہید اور کرنل رفیع اللّٰہ کے کٹے ہوئے سر اور روحوں کا مذاق

اُڑایا ہو۔

مجھے اس کے جملے سن کے کانوں پہ یقین نہ آیا کہ وہ کیا بولے جا رہا تھا۔

یہ وہی نجیب تھا جس نے میرے ساتھ ٹیسٹ پاس کیا تھا لیکن بواسیر کی بیماری

کی وجہ سے وہ میڈیکل میں آگے نہ جا سکا اور پڑھائی جاری ر کھتے ہوئے

آج پروفیسر بنا بیٹھا تھا

وہ تین ہو چکے تھے جن میں میرا چھوٹا بھائی بھی شامل ہو چکا تھا

میرے بھائی نے میری طرف دیکھا اور کہا کہ بھائی ان پاگل فوجیوں کو بجٹ تو

بُوٹ پالش، کنگھا شیشہ کرنے اور افسروں کی بیویوں کی چاکری کا ملتا ہے۔

یہ سننا تھا کہ میں وہاں سے اُٹھ گیا

آج مجھے یقین ہو چکا تھا کہ میرا تعلق اس پاگل فوج سے ہے جو اپنے اوپر

ایسے غلیظ باتیں کرنیوالوں اور اپنے شہیدوں کی ناقدری کرنیوالوں کی ہی

محافظ ہے۔

ایک فوجی کی کہانی—– جاری —–

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

ہمارا کوئی نہیں ہوتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply