چیئرمین سینیٹ کون

چیئرمین سینیٹ کیخلاف گیلانی کی درخواست خارج

Spread the love

گیلانی کی درخواست خارج

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کے خلاف

یوسف رضا گیلانی کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دی ۔ بدھ کو چیف جسٹس اطہر

من اﷲ نے کیس کا تحریری حکمنامہ جاری کرتے ہوئے کہاکہ عدالت درخواست کو ناقابل سماعت

قرار دے کر خارج کرتی ہے۔ عدالت نے کہاکہ امید کرتے ہیں کہ پارلیمنٹ اس معاملے کا حل نکالے

گی۔سپریم کورٹ کے دیگر فیصلوں کے حوالہ جات کو بھی حکم نامے میں شامل کیا گیا ہے ۔ عدالت

نے کہاکہ امید کرتے ہیں کہ مجلس شوریٰ اس معاملے میں عدلیہ کو شامل نہیں کریگی،پارلیمنٹ ملک

کی قانون سازی میں سب سے برتر ہے،درخواست گزار پی ڈی ایم کا امیدوار ہے جسکی سینیٹ میں

اکثریت ہے۔ عدالت نے کہاکہ ایوان بالا میں پی ڈی ایم کے اکیاون جبکہ مخالف جماعتوں کے سینتالیس

سینیٹرز تھے۔ قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اﷲ سینیٹ انتخاب کے نتائج

کے خلاف سابق وزیراعظم کی دائر درخواست پر سماعت کی جس میں سینیٹر یوسف رضا گیلانی کے

وکیل فاروق ایچ نائیک اور جاوید اقبال پیش ہوئے۔درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے فاروق ایچ

نائیک نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کے 7 ووٹس مسترد کیے گئے حالانکہ بیلٹ پیپر پر لگائی گئی

مہر یوسف رضا گیلانی کے نام پر لگی لیکن اسی خانے کے اندر تھی۔انہوں نے عدالت میں مؤقف

اختیار کیا کہ پریزائیڈنگ افسر نے کہا کہ ووٹس مسترد کرنے کے میرے فیصلے کے خلاف عدالت

سے رجوع کر لیں۔چیف جسٹس اطہر من اﷲ نے کہا کہ یہ بتائیں کہ چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کس

قانون کے تحت ہوئے جس پر فارق ایچ نائیک نے بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 60 کے تحت چیئرمین

سینیٹ کا الیکشن ہوا۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ صدر پاکستان نے سینیٹر مظفر شاہ کو سینیٹ الیکشن

میں پریزائیڈنگ افسر مقرر کیا تھا۔چیف جسٹس اطہر من اﷲ نے استفسار کیا کہ کیا چیئرمین سینیٹ

کے انتخاب میں الیکشن کمیشن کی کوئی شمولیت نہیں؟ جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ جی اس

میں الیکشن کمیشن کا کوئی کردار نہیں جس پر چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ پھر پارلیمان کی

اندرونی کارروائی کے استحقاق سے متعلق آئین کے آرٹیکل 69 سے کیسے نکلیں گے، کیا پارلیمان

کی اندرونی کارروائی عدالت میں چیلنج کی جا سکتی ہے؟جس پر فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ اگر

پروسیجر میں کوئی بے ضابطگی ہو تو وہ عدالت میں چیلنج نہیں کی جا سکتی، قواعد میں بیلٹ پیپر یا

ووٹ سے متعلق کچھ نہیں، رولز اس حوالے سے خاموش ہیں۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیئرمین

سینیٹ کے الیکشن میں پارلیمان کا بزنس یا پروسیجر شامل نہیں، میں عدالت میں پروسیجر نہیں بلکہ

الیکشن کو چیلنج کر رہا ہوں، پروسیجر یا رولز آف بزنس میں چیئرمین سینیٹ کا الیکشن شامل نہیں۔

فاروق ایچ نائیک کے مطابق سیکرٹری سینیٹ نے ہدایات دیں تھیں کہ خانے کے اندر کہیں بھی مہر

لگائی جا سکتی ہے، شیری رحمن، سعید غنی اور میں نے عدالت میں بیان حلفی دیا ہے کہ سیکریٹری

سینیٹ نے خانے کے اندر کہیں بھی مہر لگانے کا کہا تھا جس پر ہم نے اپنے سینیٹرز کو کہیں بھی

مہر لگانے کا کہا تھا۔فاروق ایچ نائیک کے مطابق یہ تاریخ میں پہلی بار ہے کہ چیئرمین سینیٹ کا

الیکشن عدالت میں چیلنج ہوا ہے، اس کیس میں یہ عدالت تاریخی فیصلہ دے گی۔چیف جسٹس اطہر من

اﷲ نے استفسار کیا کہ چیئرمین سینٹ کو ہٹانے کا کیا طریقہ ہے؟ فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ

چیئرمین سینیٹ کو صرف عدم اعتماد سے ہٹایا جا سکتا ہے، ہم نے ابھی الیکشن کے پراسس کو چیلنج

کیا ہے۔عدالت نے دریافت کیا کہ کیا ڈپٹی چیئرمین کے ووٹ میں بھی یہی ہوا تھا جس پر درخواست

گزار کے وکیل نے بتایا کہ ڈپٹی چیئرمین کے کیس میں صورتحال مختلف ہے۔چیف جسٹس اطہر من

اﷲ نے کہا کہ یہ عدالت پارلیمنٹ پر غیر ضروری تنقید نہیں کرتی، کیا آپ کی سینیٹ میں کمیٹی ہے

جو اس معاملے کو دیکھ سکے؟ فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ کمیٹی کے پاس اختیار نہیں کہ وہ

چئیرمین کو ہٹا سکے۔چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ درخواست گزار کہتا ہے کہ ان کے 7 ووٹس غلط

طریقے سے مسترد کیے گئے، کیا سینیٹ کی اپنی کوئی استحقاق کمیٹی ہے؟فاروق ایچ نائیک نے بتایا

کہ اس کمیٹی کے تاحال رولز ہی نہیں بن سکے وہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹا نہیں سکتی، اس عدالت نے

طے کرنا ہے کہ جو سات ووٹ مسترد ہوئے وہ درست ہوئے یا غلط ہوئے۔عدالت نے ریمارکس دیے

کہ پارلیمنٹ قومی سطح پر مسائل حل کرنے کا فورم ہے کیا اپنا معاملہ حل نہیں کر سکتے؟ عدالت

پارلیمنٹ کی خود مختاری سے متعلق بہت زیادہ احتیاط سے کام لیتی ہے۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ

جب راستے بند ہو جائیں تو آئین خود راستہ نکالتا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی

کیس میں سپریم کورٹ نے پارلیمان کی اندرونی کارروائی سے متعلق آبزرویشن دی تھی۔فاروق نائیک

نے دلیل دی کہ آصف علی زرداری کو چیئرمین سینیٹ نے سینیٹ میں جا کر حلف لینے سے روک دیا

تھا جس پر سندھ ہائی کورٹ نے قرار دیا تھا کہ یہ پارلیمان کا اندرونی معاملہ نہیں ہے۔انہوں نے

عدالت کو بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ کے 4 رکنی بینچ نے چیئرمین سینیٹ کو آصف زرداری سے حلف

لینے دینے کا حکم دیا تھا۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کا الیکشن پریزائیڈنگ افسر نے

کرایا، چیئرمین سینیٹ خود بھی اس وقت امیدوار تھے، سیکرٹری سینیٹ نے کہا کہ پریزائیڈنگ افسر

کو کہہ دیا ہے کہ خانے کے اندر کہیں بھی مہر لگائی جا سکتی ہے۔فاروق ایچ نائیک نے استدعا کی

کہ اس درخواست کو سماعت کے لیے منظور کیا جائے۔چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ کیا یوسف

رضا گیلانی کا کیس یہ ہے کہ وہ الیکشن جیت گئے تھے اور بدنیتی سے ان کے ووٹ منسوخ کیے

گئے، کیا آئین میں اس معاملے سے متعلق کوئی فورم بتایا گیا ہے کہ اگر چیئرمین سینیٹ غلط منتخب

ہو جائے تو اسے ہٹانے کا طریقہ کار کیا ہے؟فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے

کے لیے تحریک عدم اعتماد کا طریقہ کار موجود ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر یوسف رضا

گیلانی کو لگتا ہے کہ ان کے پاس ووٹ زیادہ ہیں تو چیئرمین سینیٹ کو اس طرح کیوں نہیں ہٹایا جا

رہا؟جس پر فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ اس کے لیے ہمیں پہلے صادق سنجرانی کو چیئرمین

سینیٹ ماننا پڑے گا، ہم نے تو انہیں چیئرمین سینیٹ تسلیم ہی نہیں کیا۔بعدازاں عدالت نے چییرمین

سینیٹ الیکشن کے خلاف درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا خیال رہے کہ سابق

وزیراعظم اور چیئرمین سینیٹ کے لیے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم ) کے مشترکہ

امیدوار یوسف رضا گیلانی نے فاروق ایچ نائیک کے توسط سے عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ یوسف رضا گیلانی کے حق میں پڑنے والے ووٹ مسترد کرنے کا

فیصلہ غیر آئینی ہے۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں پی ڈی ایم سے تعلق رکھنے والے

اراکین کی اکثریت تھی، ناجائز طریقے سے چیئرمین سینیٹ کی سیٹ ہم سے چھینی گئی۔درخواست

گزار نے دعویٰ کیا کہ صادق سنجرانی کو چیئرمین سینٹ بنانے کے لیے 12 مارچ کو جاری کردہ

نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے۔درخواست گزار نے استدعا کی کہ چئیرمین سینیٹ کے انتخابات کو کالعدم

قرار دیا جائے اور صادق سنجرانی کو بھی چیئرمین سینیٹ بنانے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

گیلانی کی درخواست خارج

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply