گیس بحران کا سبب اور قائمہ کمیٹی توانائی میں نیا انکشاف

Spread the love

( تجزیاتی رپورٹ:– احمد بلال ) گیس بحران کا سبب

Ahmad Bilal

سردیاں شروع ہوتے ہی تمام بڑے شہروں میں گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ

شروع ہو گئی، اگرچہ حکومت بار بار اعلان کر رہی ہے کہ گھریلو صارفین اور

برآمدی شعبے کی صنعتوں کو گیس کی فراہمی جاری رہے گی، مگر حکومت

اپنے اس اعلان پر عملدرآمد میں ناکامی رہی ہے، ملک میں گیس پر چلنے والی

بیشتر صنعتیں بند ہو گئیں، جبکہ گھریلو صارفین بھی شدید پریشانی کا شکار ہیں،

لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، کراچی، سیا لکوٹ، پشاور، کوئٹہ، حیدر آباد اور

دوسرے متعدد شہروں میں گیس کی فراہمی معطل ہونے کی شکایات مسلسل

موصول ہو رہی ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ کئی برسوں سے موسم سرما میں گھریلو

اور تجارتی صارفین کو گیس کی قلت کا سامنا رہا ہے۔ گھریلو صارفین سمیت

صنعتوں اور گاڑیوں میں گیس بطور ایندھن استعمال کی جاتی ہے، ملک بھر میں

سردیوں کی آمد کیساتھ ہی گیس کی کھپت میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس بار

حکومت کی جانب سے گھریلو و تجارتی صارفین کے لئے، سردیوں میں گیس

بچانے کے لئے بجلی کے اضافی استعمال پر رعایتی پیکج کا اعلان کیا گیا ہے،

جس میں یکم نومبر سے فروری کے اختتام تک بجلی کے نرخوں میں کمی کی گئی

ہے۔ اس کے باوجود پورے ملک میں گیس کے شدید بحران کا سامنا ہے۔

=-،-= پاکستان کو روزانہ 4 بلین کیوبک فٹ گیس کی ضرورت

پاکستان میں پیدا ہونے والی گیس ملکی ضروریات کے لئے ناکافی ہے، اور اس

کمی کو پورا کرنے کے لئے گیس درآمد کر کے اسے سسٹم میں شامل کیا جاتا ہے۔

گیس کے ملکی ذخائر میں مسلسل کمی بھی ہو رہی ہے، اور درآمدی گیس کا حصہ

بڑھتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں اس وقت درآمدی گیس ( ایل این جی) کے دو ٹرمینل

پورٹ قاسم کراچی پر کام کر رہے ہیں، جو اینگرو اور پاکستان گیس پورٹ کی

جانب سے لگائے گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے گیس کے موجودہ بحران کی وجہ طویل

مدتی منصوبہ بندی نہ ہونے کے ساتھ ساتھ فوری نوعیت کے فیصلوں کا فقدان بھی

ہے۔ پاکستان میں گیس کا بہترین انفراسٹرکچر موجود ہے، جو معیاری ٹرانسمشن

اور ڈسٹری بیوشن نظام پر مشتمل ہے، معیشت میں بھی گیس کا بہت بڑا کردار ہے۔

ملک میں اس وقت 13315 کلومیٹر ٹرانسمیشن لائن 149715 کلومیٹر ڈسٹری

بیوشن اور 39612 کلومیٹر گیس پائپ لائن کا نیٹ ورک موجود ہے، جو ملک کے

کروڑوں صارفین کو گیس فراہمی کا کام کرتا ہے، گزشتہ 30 برسوں میں ملک میں

گیس کی طلب اس کی رسد سے بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، جس کی ایک وجہ گیس

کی کھپت میں اضافہ اور مقامی سطح پر گیس کی پیداوار میں کمی ہے، پاکستان کو

2015ء میں پہلی بار گیس درآمد کرنا پڑی۔

=–= ایسی ہی مزید تجزیاتی رپورٹس، کالمز اور بلاگ ( =–= پڑھیں =–= )

پاکستان میں اس وقت پورٹ قاسم پر بنائے گئے دو ٹرمینلز کے ذریعے ایل این جی

درآمد کر کے اسے ملک بھر میں تقیسم کیا جاتا ہے۔ اگر مقامی طور پر گیس کی

پیداوار کا جائزہ لیا جائے تو ادارہ شماریات کے مطابق 2017-18ء میں گیس کی

مقامی پیداوار 1458933 ایم ایم سی ایف ٹی تھی، جس میں مسلسل کمی دیکھی جا

رہی ہے، جو 2020ء تک 962397 ایم ایم سی ایف ٹی تک پہنچ گئی، مقامی

پیداوار کی اس کمی کو پورا کرنے کے لئے ایل این جی درآمد کی جاتی ہے، جو

اس وقت گیس کی کھپت کا 23 فیصد پورا کرتی ہے، پاکستان میں یومیہ چار بلین

کیوبک فٹ گیس کی ضرورت ہے، جس میں سے 2 اعشاریہ آٹھ بلین فٹ مقامی

ذرائع سے پیدا ہوتی ہے، اور ایک اعشاریہ دو بلین کیوبک فٹ گیس درآمد کی

جاتی ہے۔

=-،-= گیس بحران کا بڑا سبب ایل این جی کی بروقت درآمد میں ناکامی

اس سال ایل این جی کی درآمد کے لئے حکومت بروقت منصوبہ بندی کرنے میں

ناکام رہی، اور فیصلہ سازی کی اسی تاخیر نے پورے ملک میں گیس کا بحران پیدا

کر دیا۔ بحران کی دوسری بڑی وجہ عالمی سطح پر گیس کی قیمتوں میں اضافہ

ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کو درآمدی گیس کے کچھ ٹینڈر منسوخ کرنا پڑے۔

عالمی سطح پر ایل این جی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں جہاں دنیا کے دیگر ممالک

متاثر ہوئے ہیں، وہیں پاکستان بھی اس سے بری طرح متاثر ہوا ہے، برطانیہ میں

گیس کے 20 بڑے سپلائرز گروپ صرف اس وجہ سے ڈیفالٹ کر گئے، کہ وہ

پرانے نرخوں پر گیس فراہم کرنے سے قاصر تھے۔

=-،-= ایل این جی خریداری کیلئے شارٹ و لانگ ٹرم معاہدے لازمی

پاکستان میں ان سردیوں میں اگر کچھ صنعتوں اور گھروں کو گیس ملے گی، تو وہ

بھی ان لانگ ٹرم معاہدوں کی بدولت ہو گی، جو مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے

اپنے دور حکومت میں قطر کی حکومت کے ساتھ 10 سے 15 سال کے لئے کئے

تھے، کیونکہ معاہدے کے مطابق قطر 10 سے 15 سال تک پاکستان کو پرانے

نرخوں پر گیس فراہم کرنے کا پابند ہے۔ تاہم پاکستان گیس منگوانے کے لئے ہر

سال جو شارٹ ٹرم معاہدے کرتا تھا ان کے تحت گیس نہیں منگوائی جا سکے گی،

کیونکہ سپاٹ کارگو اتنے مہنگے ہیں کہ انہیں برداشت کرنا مشکل ہو گا۔ پاکستان

نے حال ہی میں جو ایل این جی خریدی ہے وہ 30 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو خریدی

ہے، اس سے زیادہ ریٹ پر خرید کر صارفین کو سستے داموں دینے سے شعبے

کے گردشی قرضوں میں بے پناہ اضافہ ہو جائےگا۔ پاکستان نے قطر کے ساتھ جو

لانگ ٹرم معاہدے کئے ہوئے ہیں، وہ 9 سے 10 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے ہیں-

=-،-= ماضی میں گیس بحران سے بچنے کیلئے سپاٹ کارگو خریدے جاتے تھے

پاکستان کو ان سردیوں میں روزانہ 400 ملین کیوبک فٹ گیس کی قلت کا سامنا

کرنا پڑے گا۔ سردیوں میں گیس کی زیادہ کھپت کی وجہ سے حکومت سپاٹ کارگو

خریدتی ہے، تاہم س سال جب کرونا کے بعد تیل اور گیس کی طلب بڑھی تو اس

کی قیمتیں اتنی بلندی پر پہنچ گئیں، کہ اب درآمدی گیس خرید کر اسے مقامی

صارفین کو بیچنا مشکل نظر آتا ہے۔ دوسری طرف گزشتہ دور حکومت میں ایل

این جی کی درآمد کے سلسلے میں کئے گئے اقدامات، اور فیصلوں کے سلسلے

میں نیب اور ایف آئی اے کی کارروائی کے بعد، ایل این جی معاہدے پر کام کرنے

والے ادارے اور افراد اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں، اور سمجھتے

ہیں کہ اگر وہ کسی نرخ پر سودا کر لیں، اور بعد میں قیمت کم ہو جائے تو انہیں

پیشیاں بھگتنا پڑیں گی، اس لئے معاہدہ کرنے سے کتراتے ہیں۔

=-،-= بروقت معاہدے نہیں کرنے سے گیس کے نرخ 30 ڈالر تک پہنچ گئے

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پاکستان میں ایل این جی کی درآمد شروع

کی، اس وقت پاکستان کو گیس کی ضرورت تھی، پاکستان پہلی بار ایل این جی کی

خریداری کے لئے مارکیٹ میں جا رہا تھا، اس کے باوجود پاکستان نے 13 ڈالر پر

سودے کئے، اس ریٹ پر پاکستان اب تک 100 سے زیادہ کارگو خرید چکا ہے،

جبکہ اس کے بعد ندیم بابر نے تحریک انصاف کے دور میں سودے کئے، تو کرونا

کے باعث عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہو چکی تھیں، اس لئے یہ سودے 10 ڈالر

میں طے کئے گئے۔ پاکستان پی ایس او گیس درآمد کرتا اور آگے بیچتا ہے۔ سپاٹ

کارگو کے لئے آپ کو فوری فیصلہ کرنا ہوتا ہے، مگر پاکستان میں پیپرا رولز

آڑے آ جاتے ہیں۔ یہ تو طے ہے کہ رواں سردیوں میں عوام اور صنعتوں کو شدید

مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ ائندہ سردیوں سے

قبل اس مسئلے کو مستقل حل کرنے پر ابھی سے کام شروع کر دیا جائے، تاکہ

سابقہ حکومتوں جیسی غفلت و لاپرواہی موجودہ حکومت میں عوام کو نظر نہ آئے-

=-،-= آئندہ ماہ گیس کی مزید لوڈشیڈنگ کا انکشاف

کیونکہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم میں انکشاف ہوا ہے، جنوری

میں گیس لوڈشیڈنگ میں مزید اضافہ ہو گا، ملک میں 20 فیصد گیس کی کمی کا

سامنا ہے، ایس این جی پی ایل او ر ایس ایس جی پی ایل کو 600 ایم ایم سی ایف

ڈی گیس کی کمی کا سامنا ہے، جنوری میں 10 کارگو بک کئے تھے جن میں سے

ایک ڈیفالٹ کر گیا، اب جنوری میں 9 کارگو آئیں گے، ایل این جی گھریلو صارفین

کو دینے سے اس سے گردشی قرضے میں 80 ارب کا اضافہ ہو گا، جبکہ گیس کا

کل گردشی قرض 1.2 کھرب روپے ہو گیا ہے، سوئی نادرن میں 19 فیصد اور

سوئی سدرن میں 10 فیصد سالانہ قدرتی گیس کم ہو رہی ہے۔ پاکستان میں 21 ٹی

سی ایف گیس کے ذخائر ہیں۔ جبکہ قائمقام چیئرمین کمیٹی نے کہا وزارت پٹرولیم

کے حکام نے کمیٹی کو بتایا سردیوں میں کوئی گیس کی لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی-

اس طرح گیس کی لوڈشیڈنگ پہلے کبھی نہیں تھی، جس کی وجہ سے سیاست

دانوں کو گالیاں پڑ رہی ہیں۔ حماد اظہر نے وزیراعظم کو کہا کمیٹی چیئرمین

اوگرا سے زبردوستی چیزیں منواتی ہے، وزیرخود کمیٹی میں نہیں آتے کہ ان کے

سامنے پوچھا جائے کمیٹی نے کون سے بات زبردستی منوائی ہے۔ آئندہ اگر کمیٹی

کا اجلاس وقت پر نہ بلایا گیا تو ریکوزیشن کر کے بلائیں گے-

گیس بحران کا سبب ، گیس بحران کا سبب ، گیس بحران کا سبب ، گیس بحران کا سبب

گیس بحران کا سبب ، گیس بحران کا سبب ، گیس بحران کا سبب ، گیس بحران کا سبب

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

= نوٹ => ہماری نئی سایٹ ” جتن اردو ” کا وزٹ کریں ، آراء دیکر مشکور فرمائیں

Leave a Reply

%d bloggers like this: