گیس نایاب، فیکٹریاں، چولھے بند، صنعتکار، گھریلو صارفین پریشان

موسم سرما میں گیس بحران کا خدشہ ہے، حماد اظہر

Spread the love

گیس بحران کا خدشہ

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا ہے نومبر کیلئے ایل این

جی کے گیارہ کارگوز کے انتظامات کیے تھے جن میں سے دو کمپنیوں کی طرف سے غیر رسمی

طور پر دو ایل این جی کارگوز کی عدم فرا ہمی سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے ۔پیرکونجی ٹی وی سے

گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے بتایا گنور اور ای این آئی نے نومبر میں دو ایل

این جی کارگوز کی عدم فراہمی سے متعلق ابھی غیر رسمی طور پر بتایا ہے تاہم ہماری ان کمپنیوں

کیساتھ بات چیت جاری ہے۔وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا ایل این جی کا بحران تو پوری دنیا

میں ہے جب وفاقی وزیر سے پوچھا گیا اگر آپ کو یہ دو ایل این جی کارگوز نہیں ملتے تو کیا کریں

گے، اس پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا نومبر کیلئے ایل این جی کے گیارہ کارگوز کا انتظام تھا

دو کارگوز نہ ملے تو 9رہ جائیں گے ۔ ابھی ہماری بات چیت جاری ہے، گیس قلت کی صورتحال پر

قابو پانے کیلئے تمام اقدامات بروئے کار لا رہے ہیں۔دوسری طرف سابق وزیر خزانہ اور مسلم لیگ

(ن) کے رہنما مفتاح اسماعیل نے کہا سردیوں میں گیس بحران کی ذمہ دار حکومت کی مجرمانہ نااہلی

اور نالائقی ہے، کمپنیوں نے حکومت پاکستان کو ایل این جی دینے سے انکار کر دیا ، یہ وہی کمپنیاں

ہیں جن سے مسلم لیگ (ن) نے پانچ سال اور پندرہ سال کے ایل این جی کی فراہمی کے طویل المدت

اور سستے ترین معاہدے کئے تھے،یہ حکومت زراعت معیشت سمیت کچھ بھی ٹھیک نہیں کر سکی۔

پیر کو سابق وزیر خزانہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما مفتاح اسماعیل نے وفاقی وزیر حماد

اظہر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا سردیو ں میں گیس بحران کی ذمہ دار حکومت کی مجرمانہ

نااہلی اور نالائقی ہے،پہلے خبر آئی کہ ایل این جی کے حکومتی ٹینڈر کا کسی کمپنی نے جواب نہیں

دیا،ایل این جی کے حصول کیلئے پاکستانی ٹینڈر میں کسی کمپنی نے شرکت نہیں کی،اب خبر آئی ہے

کہ کمپنیوں نے حکومت پاکستان کو ایل این جی دینے سے انکار کر دیا ہے ،ای این آئی اور گن ور

کمپنیوں نے بھی آئندہ ماہ حکومت پاکستان کو ایل این جی دینے سے انکار کیا ہے،یہ وہی کمپنیاں ہیں

جن سے مسلم لیگ (ن) نے پانچ سال اور پندرہ سال کے ایل این جی کی فراہمی کے طویل المدت اور

سستے ترین معاہدے کئے تھے ،قوم کے لئے موسم سرما شدید مشکلات اور مسائل کا باعث

ہوگا،حکومتی مجرمانہ نااہلی کے باعث صنعت کا پہیہ بند رہے گا ،یہ حکومت زراعت معیشت سمیت

کچھ بھی ٹھیک نہیں کر سکی۔دریں اثناء نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے گیس بحران

پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ بحران کے بعد بحران سامنے آ رہا ہے۔اپنے بیان میں

شیری رحمن نے کہاکہ اب ایل این جی کمپنیاں پاکستان کو ایل این جی کارگو فراہم کرنے کے معاہدے

سے پیچھے ہٹ گئی ہیں، نتیجے میں اس ماہ گیس کا شدید بحران شروع ہو جائے گا، اگر کمپنیاں

ڈیفالٹر تھیں تو حکومت نے ان کے ساتھ معاہدہ کیوں کیا؟ ۔شیری رحمن نے کہاکہ یہ ڈیفالٹر بمقابلہ

ڈیفالٹر کیس لگتا ہے۔ شیری رحمن نے کہاکہ پہلے ہی حکومت نے اس سال ایک این جی کارگو کم

خریدہ ہے، تاریخ میں مہنگی ترین ایل این جی خریدنے کے بعد بھی بحران پیدا ہوا۔ شیری رحمن نے

بتایاکہ ان سے نااہل حکمران تاریخ میں نہیں ملے گے، سردیوں میں اس بحران کا ذمہ دار کون ہے؟ ،

آخر کب تک اس حکومت کی نااہلی کی سزا عوام اور ملک کو بھگتنا پڑے گی؟

گیس بحران کا خدشہ

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply