گوگل، فیس بک، ٹوئٹرسربراہان لائن حاضر، کانگریس کمیٹی کی طویل انکوائری

گوگل، فیس بک، ٹوئٹرسربراہان لائن حاضر، کانگریس کمیٹی کی طویل انکوائری

Spread the love

واشنگٹن( جے ٹی این آن لائن ٹیکنالوجی نیوز) گوگل فیس بک ٹوئٹر

تین بڑے سوشل میڈیا اداروں کے سربراہوں کو امریکی کانگریس نے لائن حاضر

کیا جہاں انہیں ساڑھے پانچ گھنٹے طویل ورچوئل پیشی کے دوران مشکل سوالات

کا جواب دینا پڑا فیس بک، ٹوئٹر اور گوگل پر الزام بہت لگے جن میں سے سب

سے اہم الزام ایسا تھا جس سے کانگریس براہ راست متاثر ہوئی تھی۔ کانگریس

کمیٹیوں نے جو چارج شیٹ تیار کررہی تھی ان میں 6 جنوری کو کیپٹل ہل کی

عمارت پر ٹرمپ کے حامیوں کے حملے میں ان اداروں کا کردار تھا۔

=–= ٹیکنالوجی سے متعلق مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

کانگریس ارکان نے اعتراض اٹھائے کہ ان اداروں سمیت سوشل میڈیا میں ایسی

جعلی اور غلط اطلاعات پر مبنی پوسٹنگ ہوئی جن سے غلط طور پر تاثر بنا کہ

امریکی صدارتی الیکشن کا حتمی نتیجہ درست نہیں ہے کیونکہ منتخب ہونیوالے

صدر اور نائب صدر کیلئے الیکٹورل کالج کے ارکان کی گنتی میں جعلسازی ہوئی

ہے اس کے علاوہ ان تینوں اداروں کی استعمال کرنیوالوں کیلئے پوسٹنگ پالیسی

پربھی اعتراض اٹھائے گئے۔ ان سوشل میڈیا پر ہونیوالی پوسٹنگ اگر غلط

اطلاعات پر مبنی ہو تو اس کی مناسب گرفت کا کوئی اہتمام نہیں ہوتا، کانگریس

کے سامنے پیش ہونیوالے فیس بک، ٹوئٹر اور گوگل کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر

بالترتیب مارک زو کربرگ، جیک ڈورسی اورسندرپچائی تھے، ساری بحث کا

مرکزی نکتہ کمیونیکشن میں شائستگی کے ایکٹ کی دفعہ 230 تھی جو سوشل

میڈیا پلیٹ فارم کو ان کے صارفین کی پوسٹ کیخلاف تحفظ فراہم کرتی ہے اور

انتظامیہ کویہ پوسٹ مناسب طریقے سے معتدل بنانے کا اختیار دیتی ہے۔

=-= ایسی ہی مزید معلومات پر مبنی خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

شہادت کی کارروائی کی صدارت ایوان نمائندگان کی انرجی اینڈ کامرس کمیٹی کے

چیئرمین فرنیک پیلونی نے کی جن کے شریک صدر کمیونیکیشن اینڈ ٹیکنالوجی

اورصارفین کے تحفظ اور کامرس کی سب کمیٹیوں کے چیئرمین ڈوئیل اور سچا

کو وسکی تھے۔ اس کارروائی کا موضوع ” ڈس انفارمیشن قوم، انتہا پسندی اور

مس انفارمیشن کے فروغ میں سوشل میڈیا کا کردار“ تھا- کانگریس کمیٹی اور اس

کی دو سب کمیٹیوں کے چیئرمینوں کی طرف سے مکمل کانگریس کو سفارشات

پیش کی جائیں جو منظوری کے بعد قانون شکل اختیار کرلیں گی۔ لیکن اس طویل

پیشی میں بحث مباحثے کے بعد تینوں کمپنیوں کے سربراہ انتہا پسندی اورغلط

اطلاعات پرمبنی پوسٹنگ کیخلاف سخت ضابطے لاگو کرنے پر رضا مند ہوگئے

ہیں۔ اس بحث میں ڈیمو کریٹک اور ریپبلکن ارکان نے برابر حصہ لیا۔

=قارئین=ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

ریپبلکن کو خصوصاً اس بات پر تشویش تھی سوشل میڈیا پر پیش ہونیوالا مواد

بچوں پر برے اثرات مرتب کر رہا ہے دیگر زیربحث آنیوالے معاملات میں کووڈ

19 کے بارے میں مس انفارمیشن، نسلی تعصب، ٹارگٹ کیساتھ ایڈورٹائزنگ،

نفرت کے بیانات، ہراساں کرنے کی کارروائیاں اور امریکیوں میں شدت پسند

خیالات فروغ دینے والے پیغامات شامل تھے۔

گوگل فیس بک ٹوئٹر

Leave a Reply