Nawaz-Fareed-Sanwal-Folk-Singer-of-Pakistan 98

معروف سرائیکی لوک گلوکار نواز فرید سانول ٹریفک حادثے میں جاں بحق

کراچی(جے ٹی این آن لائن شوبز نیوز) گلوکار نواز فرید سانول

سرائیکی گلوکاری کے مداحوں کے لئے ایک اور بُری خبر آئی ہے، کہ معروف

سرائیکی لوک گلوکار نواز فرید سانول حیدر آباد کے قریب ٹریفک حادثے میں جاں

بحق ہو گئے-

—————————————————————————–
یہ بھی پڑھیں : شاعر، ڈرامہ نگار و اداکار اطہر شاہ خان جیدی ہمیں چھوڑ گئے
—————————————————————————–

تفصیلات کے مطابق سرائیکی لوک گلوکار نواز فرید کرونا وباء کے باعث لاک

ڈاؤن کی وجہ سے اپنی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر کوٹلہ موسیٰ خان سے کراچی

آ رہے تھے کہ حیدر آباد کے قریب ٹریفک حادثے کا شکار ہو گئے۔ گلوکار کو

طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔

بہاولپور کے نواز فرید سانول کراچی میں رکشہ چلاتے تھے

سرائیکی گلوکار بہاولپور کی تحصیل احمد پور شرقی کے علاقے کوٹلہ موسیٰ خان

کے رہائشی تھے۔ نواز فرید سانوال کراچی میں سرائیکی لوگ گیت گاتے تھے اور

ساتھ میں رکشہ بھی چلاتے تھے۔

——————————————————————————
دوستو : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر کریں، فالو کریں اپڈیٹ رہیں
——————————————————————————

واضح رہے اس سے قبل سرائیکی اور مارواڑی زبان کے مقبول لوک گلو کار

کرشن لعل بھیل انتقال کر گئے تھے، 55 سالہ گلو کارکرشن لعل گردوں کے

عارضہ میں مبتلا تھے، جن کی طبیعت سنبھل نہ سکی اور وہ دنیائے فانی سے

کوچ کر گئے۔ کرشن لعل بھیل نے نہ صرف پاکستان میں اپنی آواز کا جادو جگایا

بلکہ متعدد ممالک میں پاکستان کا نام بھی روشن کیا۔ انہیں18 زبانوں پر عبور

حاصل تھا۔

مزید پڑھیں : نامور اداکار رنگیلا کی 15 ویں برسی 24 مئی کو منائی جائیگی

نامور گلوکار و سابق انچارج پی ٹی وی ملتان سینٹر پروفیسر راحت ملتانیکر نے

رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے سرائیکی لوک فنکار گلوکار کرشن لعل بھیل

چولستان کی سرزمین کی پہچان سرائیکی و مارواڑی گائیکی میں وسیب کا ایک

لعل اور ہیرا تھے-

انجہانی کرشن لعل بھیل اور نواز فرید سانول سرائیکی ثقافت کی پہچان تھے

وہ اپنے ثقافتی رنگوں، مخصوص لباس اور انداز کی وجہ سے موسیقی کی دنیا میں

منفرد مقام رکھتے تھے، گلوکار آنجہانی کرشن لعل بھیل دھرتی سے محبت

کرنیوالے سچے اوربڑے ثقافتی فنکار ہونے کیساتھ ساتھ بہت ملنسار انسان تھے۔

اسی طرح معروف سرائیکی گلوکار نواز فرید سانول بھی اپنی مثال آپ تھے، ان

کی خوداری کا اندازہ اسی بات سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ وہ گلوکاری کیساتھ

ساتھ رکشہ چلاتے تھے اور اہل خانہ کی کفالت کرتے تھے-

حکومت دونوں لوک فنکاروں کو تمغہ امتیاز سے نوازے، پروفیسر راحت ملتانیکر

وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے استدعا ہے کہ دونوں فوک گلوکاروں کے فن اور

خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں تغمہ امتیاز سے نوازیں اور ان کے لواحقین

کی مالی مدد کریں-

گلوکار نواز فرید سانول

Leave a Reply