khabar i Hai jtnonline

گریٹر اسرائیل، صہیونی سیاسی آپریٹر کی امریکی اشرفیہ کو سزاء

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور( خصوصی رپورٹ،عرفان شہزاد) گریٹر اسرائیل

کرونا وائرس کے پھیلاﺅ کے حوالے سے دنیا بھر کے، سائنسدان تاحال تذبذب کا شکار ہیں، کہ یہ جانوروں سے انسان میں کیسے منتقل ہوا؟ کیا اس وائرس کو لیبارٹری میں تیار کیا گیا؟ یا پھر یہ قدرتی آفت کا نتیجہ ہے؟۔ سینئرطبی محققین ابھی تک اس بات پر بضد ہیں، کہ کرونا وائرس کو تخلیق کیا گیا، ورنہ اس صورت کا خطرناک وائرس پیدا ہونا تقریباً ناممکن ہے۔ ادھر بھارتی سائنسی و طبی محققین کی سب سے اعلیٰ ٹیم نے دعویٰ کر دیا ہے، کہ کرونا وائرس کو چمگادڑ کے اندر ہی، تبدیل کرکے خطرناک حد تک تبدیل کیا گیا ہے۔

——————————————————————————-
یہ بھی پڑھیں : بائیولوجیکل جنگ کا تجربہ کیسا رہا ….. ؟
——————————————————————————-

مسلمان طبی محققین نے بھی اپنے خدشات کھل کر ظاہر دیئے ہیں، کہ کرونا وائرس کو تخلیق کرکے باقاعدہ پلاننگ کے ذریعے پھیلایا گیا ہے، اس کا فائدہ صرف اور صرف یہودیوں ہی کو ہوا، جنہوں نے اپنے مالی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے، لاکھوں کی تعداد میں انسانیت کو موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے۔ ان تمام باتوں کے پیش نظر زمینی حقائق کیا کہتے ہیں، یہودیوں کی سازش، یہودی بستی کی آباد کاری اور اس حوالے سے فنڈنگ، ایسے سوالا ت ہیں جن کو پس پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔

حقائق کیا کہتے ہیں؟

کرونا وائرس کا سب سے زیادہ مالی فائدہ کس کو پہنچا۔؟
دنوں میں اربوں کھربوں ڈالرز کس نے کمالئے۔؟

یہ وہ حقائق ہیں جنہیں کوئی بھی محقق نظر انداز نہیں کر سکتا۔ اس حوالے سے حقائق یہ بتاتے ہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم، گزشتہ تین برسوں سے امریکی صدر سے یہ مطالبہ شدت سے کرتے چلے آ رہے ہیں، کہ اسرائیل کی آباد کاری کو مکمل اخلاقی و مالی سپورٹ فراہم کی جائے۔ اس حوا لے سے ٹرمپ نے اسرائیل کو اپنی مکمل اخلاقی و سفارتی سپورٹ فراہم کی، اگرچہ اسے دنیا بھر سے مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا، لیکن صدر ٹرمپ نے گریٹر اسرائیل کے خواب کی بنیاد رکھ ہی دی۔

منفرد خبروں سے اپ ڈیٹ رہنے کیلئے: جے ٹی این آن لائن کو فالو کریں

تاہم اس سے قبل 13 ستمبر2016ء میں صدر باراک اوباما اور اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو، کے مابین بھی گریٹر اسرائیل منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ایک معاہدے، میں امریکہ نے یروشلم کو اگلے 10 برس کےلئے 38 ارب ڈالر کی فوجی امداد کے پیکیج کو حتمی شکل دی۔ یہ دنیا بھر میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی فوجی ڈیل تھی، اور یہ پیکیج ایران کے جوہری معاہدے کیخلاف وزیراعظم نیتن یاہو کی بڑی کامیابی تھی۔

اوباما، یاہو معاہدہ گریٹر اسرائیل کو عملی جامہ پہنانے کیلئے پہلا قدم

معاہدے میں طے پایا کہ اس فوجی پیکیج کوامریکہ کا آئندہ صدر پایہ تکمیل تک پہنچائے گا، لیکن اسرائیلی وزیراعظم نے اسوقت یہ فوجی پیکیج اگلے امریکی صد ر کے گلے میں ڈالنے کی بجائے، اس معاہدے کو بہترین شرائط پر مستحکم کرنے کےلئے متعدد مراعات کی مد میں طے کر لیا، جس کے مطابق امریکہ اسرائیل کو اگلی دہائی کے دوران اوسطاَ ایک سال میں 3.8 بلین ڈالر فراہم کرے گا۔ اس میں میزائل دفاعی نظام کےلئے مالی اعانت بھی شامل تھی۔ یہاں یہ بات انتہائی دلچسپ تھی، کہ اسرائیل اور امریکہ کا پچھلا 10 سالہ امدادی معاہدہ 2018ء میں ختم ہورہا تھا، جس کے مطا بق امریکہ ہر سال اسرائیل کو 3 بلین ڈالر مہیا کرنے کا پابند تھا۔

نیتن یاہو کا امریکی خارجہ پالیسی اسٹیبلشمنٹ پر ببانگ دہل اظہار عدم اعتماد

2016ء میں اسی دوران صدر اوباما کے آخری دنوں میں کانگریس نے ایک بل کے ذریعے، اسرائیل کی سالانہ فوجی امداد میں مزید 500 ملین ڈالر کا اضافہ کر دیا۔ ادھردسمبر 2019ء میں جیسے ہی کرونا وباء پھیلنا شروع ہوئی، تو اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاھو نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، کہ وہ غیر ملکی رہنماؤں کیساتھ اپنے ذاتی تعلقات کے ذریعے، بڑے مالی فوائد کی خا طر بات چیت کرتے ہیں، اور انہیں اپنی سفارتی صلاحیتوں پر فخر ہے، مزید براں انہوں نے انتہائی پراسرار انداز میں دنیا کے میڈیا کے سامنے یہ اعتراف بھی کیا، کہ وہ ایک منحرف اور دلکش سیاسی آپریٹر ہیں۔ انہوں نے اچانک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی، اشرافیہ اور خارجہ پالیسی اسٹیبلشمنٹ کے ممبروں پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کر دیا۔ اس عدم اطمینان کو ابھی صرف تین ماہ ہوئے کہ کرونا وائرس سے امریکہ کا شیرازہ بکھرنا شروع ہو گیا ہے۔

یہودی مہاجرین کی آبادکاری کیلئے امریکی معاہدے پر یاہو کا عدم اطمینان

اسرائیلی وزیراعظم نے ببانگ دہل امریکی اشرافیہ کو ایسی سزا دی کہ اسے پتہ چل گیا ہے۔ امریکہ نے یہودی مہاجرین کی آبادکاری کیلئے 5 ملین ڈالر اور ہوم لینڈ سکیورٹی گرانٹ کی مد میں 2 ملین ڈالردینے کا معاہدہ کر رکھا ہے، جس پر اسرائیلی وزیراعظم مطمئن نہ تھے۔ اسرائیل امریکہ میں آبادکار اپنے یہودی سپورٹرز سے مالی امداد حاصل کر رہا تھا، لاکھوں ڈالر ماہانہ چندے کے باوجود اسرائیل کو گریٹر اسرائیل کیلئے بڑی رقم درکار تھی، جو اس کیلئے یکدم مہیا ہونا ناممکن تھی۔ امریکہ میں کاروبار کرنیوالے زیادہ تر یہودی، جو کہ گریٹر اسرائیل کے خفیہ و ظاہری ممبرز بھی ہیں، انکا کاروبار طبی تحقیق اور دواساز کمپنیوں سے وابستہ ہے۔ ان کمپنیوں کی ماہانہ بچت لاکھوں ڈالر میں ہے، مگر کھپت محدود پیمانے پر ہے۔

کرونا وائرس سے اسرائیل کو ہونیوالے مالی فوائد

اب دیکھتے ہیں کہ کرونا وائرس سے اسرائیل کو کیا مالی فوائد حاصل ہوئے ہیں، امریکہ میں یہودی دوا ساز کمپنیوں میں دس بڑی کمپنیاں ایسی ہیں، جو دنیا بھر کے ہسپتالوں کیلئے سرجری کے دوران حفاظتی عمل کیلئے سینی ٹائزر اور دستانے بناتی ہیں۔ ان میں دس بڑی کمپنیوں میں پرائیو یٹ لیبل، پیوریل ایڈوانسڈ، جرم ایکس، ویٹ ونز، پیوریل ایڈوانسڈ نیچرل، پیوریل، نائس اینڈ کلین، ایوری ون اور ویٹ ونس بگ ونس شامل ہیں۔ ان کمپنیوں کی ماہانہ آمدن لاکھوں ڈالر ہے ، لیکن کرونا وائرس پھیلنے کے بعد ان کو آئندہ دس سالوں میں ہونیوالی آمدن صرف تین ماہ میں ایڈوانس حاصل ہو گئی، رپورٹ کے مطابق ان کمپنیوں نے کرونا وائرس پھیلنے سے قبل ہی بڑی مقدار میں سٹاک اکٹھا کیا تھا۔ آخر کیوں؟ ۔

گر یٹر اسرائیل، اب نیتن یاہو کو امریکہ کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں

اسی طرح میڈیکل دستانے بنانے والی دس بڑی یہودی سرجیکل کمپنیوں کی سالانہ سب سے بڑی بچت 250 ملین ڈالر بتائی گئی ہے، جو کرونا وائرس پھیلنے کے بعد 100 گنا اوپر چلی گئی ہے، اور ان کمپنیوں نے مال تیار کرنے کیلئے ایڈوانس کی مد میں سو فیصد رقم وصول کی ہے۔ گویا گر یٹر اسرائیل کیلئے اب وزیر اعظم نیتن یاہو کو امریکہ کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں، بلکہ گریٹر اسرائیل کے ممبران ہی نے سینی ٹائزر اور سرجیکل دستانوں کی مد میں، ایڈوانس اربوں ڈالراپنے اکاﺅنٹس میں جمع کر لئے ہیں۔ ان حالات میں یہ کہنا کہ کرونا وائرس قدرتی آفت ہے ٹھیک نہیں، بلکہ یہ اسرائیل کی انسانیت کیخلاف منظم سازش، اور اپنے دجال کے آمد کیلئے راہ ہموار کرنے کی طرف بڑی پیش رفت ہے-

صہیونی سب کچھ کرنے کے باوجود ظہور امام زمانہ علیہ السلام سے خائف

اسے یہ بھی معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ، نے اپنی آخری حجت امام مہدی علیہ السلام کے ظہورکا بھی وعدہ کر رکھا ہے، جنہوں نے آکر صہیونیت کو صفحہ ہستی سے مٹانا ہے، اسی لئے وہ امام زمانہ علیہ السلام اور ان کے حواریوں، جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسی ہستیاں شامل ہیں، سے خائف بھی ہے، اور دنیا بھر کے امن پسند انسانوں کو امام زمانہ علیہ السلام کا ساتھ نہ دینے کیلئے، انہیں اپنی شیطانی قوت سے مرعوب کرکے اپنا غلام رکھنا چاہتا ہے، جبکہ آخری زمانے میں ایسی وباؤں کے آنے کی پیش گوئیاں بہت پہلے ہی پیغمبر اسلام ختمی مرتبت حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کر گئے، جن سے آج بچہ بچہ واقف ہوتا جا رہا ہے-

گریٹر اسرائیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply