سانحہ رحیم یارخان مندر، بولنے سے روکنے پر کے پی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی

سانحہ رحیم یارخان مندر، بولنے سے روکنے پر کے پی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی

Spread the love

پشاور(بیورو چیف، عمران رشید ) کے پی اسمبلی ہنگامہ

Journalist Imran Rasheed

خیبرپختونخوا اسمبلی میں شدید ہنگامی آرائی، ڈپٹی سپیکرمحمودجان نے سکیورٹی

اہلکاروں کو اقلیتی رکن رنجیت سنگھ کو ایوان سے باہرنکالنے کا حکم دیا لیکن

اپوزیشن اراکین نے رنجیت سنگھ کا گھیراﺅ کر کے سکیورٹی اہلکاروں کو آنے

سے روک دیا، تاہم ڈپٹی سپیکر کے رنجیت سنگھ کو ایوان سے نکالے جانے پر

بضد رہنے پر اپوزیشن اراکین نے ایوان سے احتجاجاً واک آﺅٹ کر دیا۔

=-،-= خیبر پختونخوا سے متعلق مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

یہ صورتحال اس وقت پیش آئی جب صوبائی اسمبلی اجلاس میں وقفہ سوالات کے

دوران جے یوآئی کے اقلیتی رکن رنجیت سنگھ اپنی نشست پر کھڑے ہو کر نکتہ

اعتراض پر رحیم یار خان کے مندر سے متعلق بولنا چاہ رہے تھے تاہم ڈپٹی

سپیکر نے انہیں بولنے کی اجازت نہیں دی اور واضح کیا کہ وہ رولز کے تحت

چلیں گے کسی کو نکتہ اعتراض پر بولنے کی اجازت نہیں دے سکتا، اپوزیشن کے

دباﺅ میں آنے والا نہیں ہوں، جس پر رنجیت سنگھ نے ایوان میں شورشرابہ شروع

کر دیا، نگہت اورکزئی نے بھی انکا بھرپور ساتھ دیا- دوسری جانب اے این پی

کے رکن صلاح الدین نے بھی اقلیتی رکن رنجیت سنگھ کے رویے کو تنقید کا

نشانہ بنایا کہ جب بھی انکا کوئی سوال آتا ہے، اپوزیشن کا کوئی رکن ہنگامہ آرائی

شروع کر دیتا ہے، انہوں نے ایجنڈے کی کاپیاں میز پردے ماریں- ایوان میں شدید

بدنظمی کے باعث ڈپٹی سپیکر نے سارجنٹ آف آرمز کو ہدایات دی کہ وہ رنجیت

سنگھ کو ایوان سے باہرنکال دیں لیکن نگہت اورکزئی نے ہاتھ پھیلا کر سکیورٹی

اہلکاروں کو ان کے قریب آنے سے منع کیا-

=-،-= کے پی گڈ گورننس، سرکاری محکموں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری

ڈپٹی سپیکر بار بار کہہ رہے تھے رنجیت سنگھ کو ایوان سے نکالا جائے لیکن

نگہت اورکزئی سمیت کئی اپوزیشن کے دیگراراکین رنجیت سنگھ کے اردگرد جمع

ہو گئے، اس موقع پر کئی صوبائی وزراء بھی ان کے قریب آئے اور درخواست کی

کہ دو منٹ کے لئے ایوان سے باہر چلے جائیں، اس موقع پر ڈپٹی سپیکر نے رولز

227 کے تحت دونوں ایم پی ایز رنجیت سنگھ اورنگہت اورکزئی کو وارننگ

جاری کر دی، ڈپٹی سپیکر کے رویے پر اپوزیشن نے ایوان سے واک آﺅٹ کیا،

ڈپٹی سپیکرنے واضح کیا کہ مینارٹی کو پاکستان میں تمام حقوق حاصل ہیں اور ہم

انہیں مکمل تحفظ دینگے، بعدازاں ڈپٹی سپیکرمحمود جان کی ہدایت پر صوبائی

وزراء شوکت یوسفزئی اور فضل شکور اپوزیشن اراکین کو منا کر دوبارہ ایوان

میں لے آئے۔

=-،- نیا جان لیوا نشہ ” دس ویلر“ پر بحث کیلئے تحریک التواء متفقہ منظور

خیبرپختونخوااسمبلی نے نیا جان لیوانشہ ” دس ویلر“ پر تفصیلی بحث کے لئے

تحریک التواء کی متفقہ طو ر پر منظوری دیدی۔ ایوان نے ایس ایچ او تھانہ ٹیری

کے خلاف تحریک استحقاق کو بھی متعلقہ کمیٹی کے حوالے کر دیا، جماعت

اسلامی کے رکن عنایت اللہ نے تحریک التواء پیش کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں

میں پشاور اور اسلام آباد میں مختلف قسم کی ادویات کے میلاپ سے دس ویلر کے

نام سے ایک نیا جان لیوانشہ مارکیٹ میں آنے اور اسکے استعمال سے چند ماہ کے

دوران درجنوں نوجوانوں کا ہاٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں

عوام میں تشویش پائی جاتی ہے، اہم محکموں کی موجودگی کے باوجود دس ویلر

نشہ کس طرح پھیل رہا ہے متعلقہ وزراء اس بارے میں اصل حقائق قوم کے

سامنے لائیں۔

=-،-= پشاور کا نظامِ صفائی، سیاسی کرپشن کا شکنجہ اور حکومت وقت

جے یوآئی رکن میاں نثارگل نے تحریک استحقاق پیش کرتے ہوئے کہا کہ 20

جولائی کو تھانہ ٹیری کے ایس ایچ او ظہورخان کو کال کی اور اپنا تعارف کر کے

بات شروع کی کہ آپ نے ایک معزز شہری کا موٹر سائیکل فقط اس لئے تھانہ میں

بند کیا ہے کہ اس نے موٹرسائیکل لاک نہیں کی، لیکن اس کے باوجود اور میرے

دو دفعہ تعارف کرانے کے بعد بھی میری بات سننے تک انکار کیا اور میرے ساتھ

گستاخانہ الفاظ کا استعمال بھی کیا اور یہ کہتے ہوئے فون بند کر دیا کہ میرے پاس

ٹائم نہیں جس سے میرا اور اس ایوان کا استحقاق مجروح ہوا ہے، انہوں نے مطالبہ

کیا پولیس کو لگام دیا جائے، وزیر محنت شوکت یوسفزئی نے ایوان کو بتایا کہ

مذکورہ ایس ایچ او کو چارج شیٹ کر کے انکوائری شروع ہو چکی ہے اس کے

باوجود بھی تحریک کمیٹی جاتی ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں۔

=-،-= رحیم یار خان میں مندر میں توڑ پھوڑ کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ منظور

خیبر پختونخوا اسمبلی میں رحیم یار خان میں شرپسند عناصر کی جانب سے مندر

میں توڑ پھوڑ کیخلاف مذمتی قرارداد کی متفقہ طور پر منظوری دیدی۔ ایوان نے

نیشنل کمیشن آف مینارٹی کی تشکیل سے متعلق قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور

کر لی- پی ٹی آئی کے اقلیتی رکن روی کمار نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ

رحیم یار خان میں دلسوز واقعہ پیش آیا جہاں چند شرپسندوں کی جانب سے گنیش

مندر کو توڑا گیا، واقعے سے ہندو برادری کی دل آزاری ہوئی ہے یہ اسمبلی اس

افسوسناک واقعے کی بھرپور مذمت کی ہے، اسلام پرامن دین ہے اور مذہب اسلام

میں اس قسم کے عوامل کی کوئی گنجائش نہیں، پاکستان مذہبی اقلیت کیلئے پرامن

ملک ہے اس قسم کے شرپسند عناصرہندو مسلم بھائی چارے کو نقصان پہنچنے کی

کوشش کرتے آئے ہیں، اسمبلی صوبائی و مرکزی حکومتوں سے مطالبہ کرتی ہے

کہ ایسے عناصر کو کڑی سے کڑی اورعبرتناک سزادی جائے اور انہیں قانون

کے تابع لایا جائے تاکہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام ہو سکے- مینارٹی

کمیشن سے متعلق دوسری قرارداد صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے پیش کی

دونوں قراردادیں متفقہ طو رپر منظوری کرلی گئیں۔

=-،-= خیبر پختونخوا فیکٹریز ترمیمی بل مجریہ2021ء منظور

خیبر پختونخوا اسمبلی نے خیبر پختونخوا فیکٹریز ترمیمی بل مجریہ 2021 ء کی

منظوری دیدی، بل میں اپوزیشن کی ترامیم مسترد کردی گئیں۔ بل صوبائی وزیر

محنت شوکت یوسفزئی نے پیش کیا، خیبرپختونخوامیڈیکل ٹرانسپلانٹیشن ریگولیٹری

اتھارٹی ترمیمی بل، خیبرپختونخواایمپلائزسوشل سکیورٹی بل اور خیبرپختونخوا

سنٹینسنگ بل مجریہ2021ء کو بھی پیش کر دیا گیا، یہ تینوں بل صوبائی وزیر

تیمور سلیم جھگڑا نے پیش کئے، فیکٹریز ترمیمی بل کے تحت خواتین ملازمین کو

کم ازکم اجرت 21 ہزار روپے ماہانہ ادائیگی ہو گی، انہیں ٹرانسپورٹ کی سہولت

فراہم کی جائیگی اس کے علاوہ ہر فیکٹری کا مالک یا منیجر اس بات کاپابند ہو گا

کہ وہ خواتین کوملازمت دیتے وقت ان کے ساتھ کنٹریکٹ کرے گا تمام فیکٹریز

مالکان اس بات کے پابند ہونگے کہ وہ خواتین کو ہر حال میں بھرتی کرینگے، اس

کے علاوہ ان کی ڈیلیوری یا دیگر بیماریوں سے متعلق بھی چھٹیاں دی جائیں گی

خواتین سے فیکٹریوں میں بھاری بھرکم کام نہیں لیا جائے گا اس کے علاوہ اگر

کوئی خاتون اپنی مرضی سے سات بجے کے بعد بھی ملازمت کرنا چاہے تو کر

سکتی ہے۔

=-،-= حکومت، اپوزیشن پولیو قطروں کی حمایت میں یک زباں

خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن پولیو قطروں کی حمایت میں یک

زبان ہو گئے، اپوزیشن نے مطالبہ کیا پولیو کیسزسے متعلق ایم پی ایز پر مشتمل

فیکٹ اینڈ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی جائے، پولیو کو کسی مذہب یا قوم پرستی کے

ساتھ جوڑنا غلط ہے، پولیو قطرے پلانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے حکومت

نے واضح کیا کہ پولیو خاتمے کے بہت قریب آن پہنچے ہیں، 99 فیصد بچو ں کو

پولیو قطرے پلائے جارہے ہیں، گزشتہ ایک سال میں کارکردگی کی بنیاد پرہی

کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ پولیو قطرے پلانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے

وزیرصحت تیمورسلیم جھگڑا نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پولیو سنگین چیلنج ہے،

انکاری والدین کو راضی کرنے کے لئے مہمات میں بات ہو رہی ہے، پشاور میں

18 یونین کونسل اور ساﺅتھ کے پانچ چھ اضلاع میں رسک کا سامنا ہے، پولیو مہم

میں تمام عوامی نمائندے اپنا کردار ادا کرتے ہیں، ڈپٹی سپیکر نے ہدایت کی کہ

محرم الحرام کے بعد پولیوٹیم کی اراکین اسمبلی کے ساتھ میٹنگ کا نعقاد کیا جائے

جس پر وزیرصحت نے اتفاق کیا۔

کے پی اسمبلی ہنگامہ ، کے پی اسمبلی ہنگامہ ، کے پی اسمبلی ہنگامہ

کے پی اسمبلی ہنگامہ ، کے پی اسمبلی ہنگامہ ، کے پی اسمبلی ہنگامہ

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply