کیا ہم نے پڑھے لکھے بیروزگار بنانے کی ٹھان رکھی ہے؟

کیا ہم نے پڑھے لکھے بیروزگار بنانے کی ٹھان رکھی ہے؟

Spread the love

کیا ہم نے

انٹر نتائج کے آنے کی تاریخ جیسے جیسے نزدیک آ رہی تھی ویسے ویسے طلبہ

کے دلوں کی دھڑکنوں نے شور برپا کر رکھا تھا۔ جب کہ کچھ سٹوڈنٹس رابطے

میں تھے۔ وہ اکثر ڈراؤنے خواب آنے کی شکایت کرتے تھے۔ میں انہیں سمجھاتی

کے جو بویا ہے، اس کی فصل اٹھانی ہی پڑے گی۔ سو پریشان ناں ہوں۔ ۔ ۔ مگر

دل ہی دل میں واقعی ڈر سا لگ رہا تھا، کیونکہ کوڈ ۔19 کی وجہ سے سٹوڈنٹس

کو پڑھنے کا ٹائم نہیں مل رہا تھا اور وہ کم پڑھ کر پیپر دینے کا رونا روتے

ہوئے نظر آ رہے تھے۔

=–= تعلیم سے متعلق مزید خبریں (=–= پڑھیں =–= )

دوسری جانب حکومتی ادارے بھی چین کی بانسری بجا رہے تھے اور ادھر

ہمارے کانوں میں خطر ے کی گھنٹیاں بجے جا رہی تھیں۔ اللہ اللہ کر کے رزلٹ

کا دن آیا اور سب نے اپنے ارمانوں کے ساتھ رول نمبر ڈالے اور جو نمبر نکلے

وہ ہمارا دل، جگر سب کچھ نکال کر لے گئے۔ یعنی 1100 میں سے 1100 نمبر،

اللہ کی پناہ۔ اتنے نمبر آ کدھر سے گئے۔ کوئی خزانہ تو نہیں کھل گیا، اور پھر

ایک ایک کر کے تعلیمی بورڈز نے نتائج جاری کیے اور کرتے ہی چلے گئے

اور ہم کبھی اس کا منہ دیکھیں تو کبھی اس کا۔ یعنی آرٹس سبجیکٹ میں بھی

پورے پورے مارکس۔ اللہ ہم جیسوں کا تو ہی ہے۔

=-،-= نتائج دیکھ کر تلملا گئی، کہا کوڈ بھائی ہمارے وقتوں میں کہاں تھے

رائٹر اور تجزیہ نگار ہونے کی وجہ سے میں تمام تر صورت حال کا جائزہ لے

رہی تھی۔ بورڈز کے مطابق کوڈ ۔19 کی وجہ سے ایک فارمولا لگا کر سٹوڈنٹس

کو نمبر دیئے گئے ۔ ۔ ۔ مگر ایک بورڈ نے تو ہمیں بے ہوش کرنے کا فیصلہ کر

رکھا تھا۔ یعنی ایک سٹوڈنٹ کو 1100 میں سے 1150 نمبر دے دئیے۔ ذہن میں

فوراََ خیال آیا ہمارے دور میں کوڈ بھائی کدھر تھے؟۔ ہم تلملا کر رہ گئے۔ خیر

تمام تر صورت حال پاکستان کے نظام تعلیم پر انگلیاں ہی اٹھا رہی تھی۔

=-،-= مجھے نتائج پر انتہائی تشویش ہے، سر مرتضیٰ محمد

میں نے اپنے منٹور سر یعنی سر مرتضیٰ محمد نور صاحب کو کال کی وہ انٹر

سٹوڈنٹ کنسورشیم فار پرموشن آف سوشل سائنسز ( 70 جامعات کی ایک

آرگنائزیشن ہے جو جوانوں کی فلاح وبہبود کا کا بخوبی انجام دے رہے ہی ) کے

نیشنل کوآرڈی نیٹر ہیں، سے با ت چیت کے دوران انہوں نے بھی مارکس سکیم

پر اظہار تشویش کیا۔ ان کے مطابق ” اس سے رٹا سسٹم بڑھے گا اور سٹوڈنٹس

محنت کرنے سے جی چرائیں گے۔ ۔ ۔ اور آگے چل کر یونیورسٹی لیول پر

سٹوڈنٹس کو مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا ” ۔ ۔ ۔ اب کچھ یونیورسٹیوں نے ان نتائج

کو سامنے رکھتے ہوئے کڑے قسم کے داخلہ ٹیسٹ لینے کی نوید سنائی ہے۔

=-،-= مستقبل میں ایسے سٹوڈنٹس کہاں کھڑے ہونگے–؟

سوال یہ ہے کہ آنے والے سالوں میں یہ سٹوڈنٹس علم و شعور کو لے کر کہاں

کھڑے ہوں گے، ان کے نظریات (کونسپٹ ) تو ناں ہونے کے برابر ہیں۔ میڈیکل

اور انجینئرنگ یونیورسٹیوں کے ایڈمیشن ٹیسٹ میں ایسے ” پڑھے لکھوں ” کی

قلعی کھل جائے گی اور میرٹ کے نام پر یہ ” محقق ” آگے کھڑے ہوں گے تو

پاکستان ترقی کے نام پر کہاں ہو گا؟، کیا بی ایس ڈگری شروع کرنے کیلئے ہم

نے جو کڑوا ترین گھونٹ بھرا ہے، تاکہ انٹرنیشنل لیول پر ہمارے سٹوڈنٹس کو

مسائل کا سامنا ناں ہو۔ وہ محنت کہاں جائے گی۔ کیونکہ پاکستان میں نوکریوں

(جابز) کے نام پر نمبر گنے جاتے ہیں تو کم نمبروں والے سٹوڈنٹس کہاں جائے

عافیت تلاش کریں گے۔؟

=-،-= ہم مارکس سے ہٹ کر کب سوچیں گے، اللہ ہم پر رحم کرے

ایسے بہت سے سوالات ذہن میں گردش کر رہے تھے اور ہم سوچ میں پڑ گئے

کہ ہم مارکس سے ہٹ کر کب سوچیں گے، اور کب ہم ڈگری مگر تربیت یافتہ

( شعوری و معاشی ) سٹوڈنٹس کو مارکیٹ میں لائیں گے، یا پڑھے لکھے بے

روزگار ہی بنائے جانے ہیں۔ ۔ ۔ خدا ہی ہم پر رحم کرے، ورنہ ہمارا تو اللہ ہی

حافظ ہے۔

کیا ہم نے ، کیا ہم نے ، کیا ہم نے ، کیا ہم نے ، کیا ہم نے ، کیا ہم نے ، کیا ہم نے

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply