کیا ہاﺅسنگ سوسائٹیاں بنانا فوج کا کام ہے ؟ چیف جسٹس پاکستان

Spread the love

سپریم کورٹ میں ایڈن گارڈن ہاﺅسنگ سکیم سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کیا ہاﺅسنگ سوسا ئٹیا ں بنانا آرمی کا کام ہے ؟ کیا کسی اور ملک کی فوج یہ کام کرتی ہے ؟ فوج کا کام ہے وہ سرحدوں پر ملک کی حفاظت کرے نہ کہ کمرشل سرگرمیوں میںحصہ لے، ڈی ایچ اے شہداءکیلئے کچھ کرتا تو الگ بات تھی یہ لوگ بیواﺅں اور شہداءکو شیڈ کے طورپر سامنے رکھ کر رائلٹی لیتے اور اپنا کاروبار چلاتے ہیں ، چیف جسٹس نے نمائندہ ڈی ایچ اے کو مخاطب کرتے ہوئے کہاجب جب آپ سکیموں میں گئے آپ کا نام خراب ہوا ایسا کرکے آپ نے اپنی گڈ ول بھی بیچ دی، ڈی ایچ اے کے نام پر لوگوں سے پیسے لئے گئے جس کا جتنا حق بنتا ہے اس کو ملنا چاہیے۔ ایڈن ہاﺅسنگ نے جتنی اراضی دی اس کی بھی ادائیگی ہونی چاہیے، ڈی ایچ اے کا نام لیکر 113 ارب روپے اکھٹے کئے گئے ،چار سال سے لوگوں کا پیسہ لیکر بیٹھے ہیں عدالت ڈی ایچ اے اور ایڈن گارڈن کے درمیان تمام معاہدے کالعدم قرا دیتی ہے، ڈی ایچ اے اور ایڈن ہاﺅسنگ کی جانب سے بیچی گئی گیارہ ہزار فائلوں کو بھی پانچ سال میں تعمیرکرکے دینے کی پابند ہوگی ،چیف جسٹس کے سوال پر نمائندہ ڈی ایچ اے نے بتایاملائیشین آرمی ہاﺅسنگ سوسائٹیوں کا کام کرتی ہے جس پر چیف جسٹس برہم ہوئے اور کہا کیا آپ نے صرف ایک ہی ملک کی فوج کو ماڈل کے طور پر اپنا لیا ہے، عدالت نے معاملہ پر عمل درآمد بینچ بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔بعدازاںسپریم کورٹ نے بیرون ملک پاکستانیوں کی جائیدادوں اور اکا ﺅ نٹس سے متعلق 14 جنوری کو ایف بی آر اور ایف آئی اے سے دبئی جائیدادوں پر رپورٹ طلب کرلی،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے دبئی میں جائیداد خریدی گئی، پاکستان سے پیسہ اڑا کر باہر لے جایا گیا، جائیدادوں کی معلومات ڈی جی ایف آئی اے نے حاصل کیں، ایف بی آر پر ہم ذمے داری ڈال رہے ہیں، خدا کا واسطہ ہے ملک کا پیسہ خزانے میں لانے میں کردار ادا کریں۔دریں اثناءسپریم کورٹ میں 2005 کے زلزلہ متاثرین کے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے اگر ڈیم نہ بنا اور ان لوگوں کی امداد نہ ہوئی تو وہ بھی متاثرین کےساتھ مل کر احتجاج کریں گے۔ ایک سانحہ گزر گیا، کٹے پھٹے لوگوں کی مدد کےلئے دنیا اٹھ کھڑی ہوئی، امداد کےلئے آنےوالی رقم حکومت کے پاس امانت تھی، لیکن نہ تو کوئی سکول کھلا، نہ ہسپتال بن سکا اور نہ نیا بالاکوٹ بنا، لوگ آج بھی خیموں اور ٹین کے گھروں میں بدترین حالات میں جی رہے ہیں۔ ’25 اپریل کو ہم نے دورہ کیا اور رپورٹ وزیراعظم کو بھیجی آج تک اس پر کیا عمل ہوا؟ ہم چار گھنٹے کے نوٹس پر بالا کوٹ جا سکتے ہیں تو وزیراعظم کیوں نہیں؟’جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا ‘ایک ہفتے کی مہلت دیں پھر آپ کو رپورٹ دیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا ‘اب ایک ہفتہ نہیں ملے گا۔بعدازاں کیس کی سماعت پیر 14 جنوری تک ملتوی کردی ۔

Leave a Reply