کیا پی ٹی سی ایل حکام پنشنرز کے مرنے کا انتظار کررہے ہیں؟ سینیٹ کمیٹی

Spread the love

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن نے پی ٹی سی ایل حکام کو پنشنر کے مسائل15جنوری تک حل کرکے رپور ٹ دینے کی ہدایت کردی ،15جنوری کے بعد متعلقہ حکام کےخلاف کمیٹی کااستحقاق مجروح کرنے کی کارروائی کی جائے گی ، کمیٹی نے پنشنر کے مسائل کے حوالے سے کمیٹی کی سفارشات پر عمل نہ کرنے پر شدیدبرہمی کااظہارکیا، چیئر پرسن سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کیاپی ٹی سی ایل وا لے پنشنر زکے مرنے کاانتظار کررہے ہیں اگر کمیٹی مسائل حل نہیں کرسکتی تو پنشنرکےساتھ مل کرپی ٹی سی ایل کے دفتر کے باہردھرنہ دیں گے ۔ نجکاری کمیشن کے حکام نے کمیٹی کوبتایا اتصالات کمپنی کوپی ٹی سی ایل کے اثاثوں کی غلط تفصیلات فراہم کی گئیں جس پر اس نے قسطیں روک دیں ۔ اثاثوں کی تعداد 3384نہیں 3248ہے، حکومت کی کوشش ہے اس دیرینہ مسئلہ کو خوش اسلوبی سے حل کیا جائے۔نجکاری کمیشن کے حکام نے کمیٹی کوبتایا چائنا موبائل نے 1ارب 40 کروڑ ڈالر کی بولی دی تھی اتصالات نے 2اعشاریہ چھ ارب ڈالر کی بولی دی، مارچ 2006 میں اتصالات کےساتھ معاہدہ ہوا ،پی ٹی سی ایل اور کے الیکڑک کو اگر ٹھیک کرلیا جائے تو یہ نجکاری کی مثال بن سکتے ہیں۔ ہم کمیٹی سے کچھ چھپانا نہیں چاہتے ۔قائمہ کمیٹی کو پاکستان ٹیلی کمیونیکشن ایمپلائز ٹرسٹ کے حکام نے بتایاپنشنر کے معاملے کو وزارت خزانہ کے پاس بھیج دیاہے جس پر کمیٹی کے ارکان نے شدیدبرہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاہم نے آ پ کو کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرنے کاکہاآپ نے کمیٹی کااستحقاق مجروح کیاہے۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہاجو قائمہ کمیٹی فیصلہ دے چکی ہے اس پر عمل کروائیں، قائمہ کمیٹی نے پنشنرز کے مسا ئل کے حل کےلئے مہلت دیتے ہوئے کہاکہ بہت ہوگیا جو مرگئے مرگئے جو زندہ ہیں ان پر رحم کریں۔ 15جنوری کو ہمیں تسلی بخش جواب چاہیے بصورت دیگر معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھیج کرمتعلقہ حکام کےخلاف کاروائی کی جائے گی۔

Leave a Reply