Pm Imran Khan and Parliament of Pakistan1

کپتان پراعتماد یا نہیں، ارکان قومی اسمبلی آج فیصلہ سنائیں گے، اپوزیشن کا اعلانِ بائیکاٹ

Spread the love

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن پاکستان نیوز) کپتان پراعتماد یا نہیں

وزیراعظم عمران خان آج ہفتہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اعتماد کا ووٹ لیں

گے۔ وزیراعظم نے تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے اراکین کو حاضری

یقینی بنانے کی ہدایت کر دی ہے۔ وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے

لیے 172 ارکان کی حمایت درکار ہو گی۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اجلاس

کی صدارت کریں گے۔ اجلاس کے آغاز پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی

جانب سے اعتماد کے ووٹ سے متعلق تحریک پیش کی جائیگی۔ تحریک منظور

ہونے پر ایوان میں کچھ دیر کیلئے گھنٹیاں بجائی جائیں گی تاکہ ارکان ایوان کے

اندر پہنچ جائیں۔ مقررہ ٹائم کے بعد گھنٹیاں اور ہال کے تمام دروازے بند کردیئے

جائیں گے۔

=-= یہ بھی پڑھیں: یہ کیسی جمہوریت؟ وزیراعظم عمران خان 

سپیکر قومی اسمبلی وزیراعظم عمران خان پر اعتماد کرنیوالے ارکان کو دائیں

جانب والی لابی جبکہ عدم اعتماد کرنیوالے ارکان اسمبلی کو بائیں جانب والی لابی

میں جانے کا کہیں گے۔ اس کے بعد سپیکر گنتی کا عمل شروع کریں گے۔ عمران

خان نے مقررہ نمبرز حاصل کر لیے تو اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہو جائیں

گے، وزیراعظم کی 172 ارکان کو حمایت ملنے یا نہ ملنے سے متعلق رپورٹ

سپیکر قومی اسمبلی صدر مملکت کو بھجوائیں گے۔ اعتماد کا ووٹ نہ لینے کی

صورت میں صدر مملکت اپوزیشن لیڈر کو اکثریت دکھانے کیلئے کہیں گے۔

اپوزیشن لیڈر اکثریت نہ دکھا سکے تو صدر مملکت اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے۔

==-== آج کے قومی اسمبلی اجلاس کی کوئی سیاسی اہمیت نہیں، فضل الرحمان

دوسری طرف اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے آج

ہونیوالے قومی اسمبلی کے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ بائیکاٹ کا

فیصلہ پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں نے متفقہ طور پر کیا۔ پی ڈی ایم کے

سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا اپوزیشن کی عدم شرکت کے بعد اجلاس کی

کوئی اہمیت نہیں ہو گی، کوئی اپوزیشن رکن آج قومی اسمبلی اجلاس میں شریک

نہیں ہو گا، آپ اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں، دوبارہ صدر مملکت بھی اعتماد

کھونے کی بات کر رہے ہیں، قومی اسمبلی کے اجلاس کی کوئی سیاسی اہمیت نہیں

ہو گی۔ موجودہ حکومت کو عوام کی نمائندہ تسلیم نہیں کرتے، وزیراعظم کے قوم

سے خطاب میں شکست جھلک رہی تھی- فضل الرحمن نے کہا عمران خان کو

سینیٹ میں شکست ہوئی تو پوری حکومت الیکشن کمیشن کے پیچھے پڑ گئی اور

مورد الزام ٹھہرا دیا- عمران خان کا الیکشن کمیشن کو مورد الزام ٹھہرانے کا

مقصد فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے دباﺅ ڈالنا ہے، ہم حکومت کی تمام چالوں

کو جانتے ہیں لہذا اب قوم کو آپ مزید بیوقوف نہیں بنا سکتے۔

==-== اپنے فیصلوں، اعلانات پر قائم، سربراہی اجلاس 8 مارچ کو طے،پی ڈی ایم

ہم اپنے فیصلوں اور اعلانات پر قائم ہیں، آٹھ مارچ کو سربراہی اجلاس ہو گا اور

اسمیں آئندہ کے لائحہ عمل پر بات چیت کی جائیگی، چیئرمین سینٹ، ڈپٹی چیئرمین

کے ناموں کی منظوری دی جائیگی، لانگ مارچ سے متعلق مشاورت ہو گی، تمام

فیصلے اجلاس میں ہونگے، اسوقت ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، لہٰذا

نئے انتخابات کرانے کا فوری اعلان کیا جانا چاہیے۔

=قارئین=: خبر اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

کپتان پراعتماد یا نہیں

Leave a Reply