کپتان صاحب میں جھوٹا،خیبرپختونخوا بلدیاتی الیکشن نتائج کھرا سچ
Spread the love

( تحریر:– صمد مرسلین آف پشاور) کپتان صاحب میں جھوٹا

Samad Mursaleen

صوبہ خیبر پختونخوا کے 17 اضلاع میں ہونیوالے بلدیاتی انتخابات میں حکمران

جماعت، پاکستان تحریک انصاف کی انتہائی بری شکست پر مبنی حیران کر دینے

والے نتائج نے، جہاں پی ٹی آئی مخالفین کو کُھل کر بولنے کا موقع فراہم کر دیا

ہے، وہیں پاکستان تحریک انصاف کے دیرینہ اور نظریاتی ورکرز کو بھی اپنی

قیادت کو، اندرونی حقائق کے بارے میں آگاہ کرنے کا موقع ہاتھ آ گیا ہے، تاکہ

موجودہ حکومت کے بچے کھچے وقت میں اپنی پارٹی کی رہی سہی ساکھ کو

بچانے کی سبیل کی جا سکے-

= پڑھیں = اُسے چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا

ایسے ہی ایک نظریاتی کارکن نے پارٹی چیئرمین عمران خان کے نام اپنے کھلے

خط میں لکھا ہے کہ، سوچنے کا مقام ہے پاکستان کی سب سے فیورٹ پارٹی کی

خیبرپختونخوا میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں اتنی بڑی ناکامی کی وجہ کیا

ہے؟ حالانکہ میں کافی پہلے سے ہی اپنے خدشات سے آگاہ کرتا چلا آ رہا ہوں-

= ضرور پڑھیں= موت پر کمائی،معاشرے کا دوہرا رویہ اور اندر کا شیطان

اسی لئے مجھے پارٹی میں وہ مقام بھی نہیں مل سکا، بلکہ مورد الزام ٹھہرایا جاتا

رہا ہوں کہ یہ پارٹی پالیسی کا مخالف اور مفادات کو مقدم رکھتا ہے، مگر ایسا نہیں

میں صرف سچ بولتا ہوں اور اسی کی مجھے سزا مل رہی ہے، کیونکہ میں منافق

ہوں نہ چاپلوس، بلکہ نظریاتی ورکر ہوں، اور پارٹی کی اتنی تیزی سے تنزلی دیکھ

کر دل خوں کے آنسو روتا ہے۔ تاہم صبر سے کام لیا اور وقت کا انتظار کرتا رہا-

=-،-= عوامی عدالت میں پیشی، دودھ کا دودھ پانی کا پانی

اب جب کہ پہلی بار عوام کی عدالت میں پارٹی پیش ہوئی ہے تو دودھ کا دودھ اور

پانی کا پانی ہو گیا ہے، میرا چیئرمین عمراں خان سمیت پارٹی کی سینئر و جونیئر

قیادت سے سوال ہے کہ کیا موجودہ حکومت پی ٹی أئی کے نظریات کو عملی جامع

پہنانے میں کامیاب ہوئی؟۔ کیا کرپشن ختم ہوئی؟۔ کیا پی ٹی أئی کی کارکردگی تسلی

بخش رہی؟۔ کیا وہ عوام جنہوں نے چیئرمین عمران خان کو اپنا مسیح سمجھ کر اُن

پر اندھا اعتماد کرتے ہوۓ کامیاب کیا، ملک کی باگ ڈور ان کے حوالے کی، کیا

اس عوام کی امیدیں بر آئیں؟- ہرگز نہیں، البتہ تاویلوں کے ابنار ضرور لگا دیئے

جائیں گے- جس کی تازہ ترین مثال، وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جناب شبلی

فراز کا بلدیاتی الیکشن نتائج پر یہ بیان، شاہد ہم اس طرح حکمت عملی نہیں بنا

پائے، اسی طرح صوبائی وزیر جناب شوکت یوسفزئی کا یہ کہنا، کہ اپ سیٹ

شکست کی وجہ مہنگائی ہے، وغیرہ وغیرہ-

=-،-= پارٹی اور انتخابی منشور سے انحراف کا نقصان

مگر حقیقت یہی ہے کہ عوام پی ٹی آئی سے پوری طرح ناامید ہو چکے ہیں، جس

کا اظہار انہوں نے حالیہ بلدیاتی الیکشن میں کر دیا ہے۔ لہٰذا اب کچھ کام بننے والا

نہیں، ہمیں کارکردگی کو بہتر، پی ٹی ائی میں چھپے کرپٹ عناصر کا احتساب کرنا

بہترین پالیسیاں بنانے کیساتھ ساتھ ان پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانا، ملک کے نظام

اور معیشت کو بہتر کرنا ہو گا، یعنی پارٹی اور انتخابی منشور کو ذاتی مفادات،

قرباء پروری سے بالا تر ہو کر عملی جامہ پہنانا ہو گا، ورنہ اگلا الیکشن اس سے

بھی بھیانک ہو گا۔ میری تنقید برائے اصلاح کو تنقید برائے تنقید یا پی ٹی ائی

دشمنی نہ سمجھا جائے بلکہ دوست وہ جو آئینہ دکھاۓ کی عینک سے دیکھا جائے-

=-،= میں جھوٹا، مگر یہ معتبر شخصیات تو نہیں!

خیبر پختونخوا کے بلدیاتی الیکشن کے نتائج سے متعلق غیر جانبدار تجزیہ کاروں

اور صحافیوں نے اصل وجوہات کی جانب بھی اشارے کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ

آئندہ عام انتخابات پر اثر انداز ہو کر پاکستان تحریک انصاف کیلئے انتہائی مضر

ثابت ہو سکتے ہیں۔ پشاور سے صحافی افتخار فردوس نے سماجی رابطوں کی

ویب سایٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ، پی ٹی آئی کو اس لیے شکست ہوئی کیونکہ وہ کئی

جگہوں پر پی ٹی آئی کیخلاف ہی الیکشن لڑ رہی تھی۔ اسی طرح صحافی عمر

فاروق نے لکھا کہ، اگر غور کیا جائے تو ضلع پشاور سے پاکستان تحریک انصاف

کو ایک بھی نشست پر کامیابی نہی ملی، کیونکہ سات تحصیلوں میں سے جو ایک

تحصیل نشست پی ٹی آئی جیتی، وہ بھی سابقہ فاٹا یعنی سب ڈویژن حسن خیل سے

جیتی ہے۔ کیا یہ میرے ماضی میں اختیار کردہ موقف کی تائید نہیں؟

=-،-= نادان دوست سے دانا دشمن بدرجہ ہا بہتر

پی ٹی آئی کے نظریات ورکر نے اپنے خط میں قلم کار ندیم فاروق پراچہ کی جانب

سے ٹوئٹر پر بلدیاتی نتائج پر ان کے تجزیے کا حوالہ دیا جس میں ندیم فاروق

پراچہ نے لکھا کہ یہ تحریک انصاف کیلئے پریشان کن بات ہے کہ 2013ء سے

اس کا گڑھ سمجھے جانے والے صوبے میں اپوزیشن جماعتوں خصوصاََ جے یو

آئی (ف) اور عوامی نیشنل پارٹی کا کامیابی حاصل کرنا پاکستان تحریک انصاف

کیلئے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں، جبکہ ہمارے نادان دوست اسی سوشل میڈیا

پر اب بھی اس بات پر بضد ہیں کہ ایسا بھی نہیں کہ تحریک انصاف کو بہت بڑی

شکست ہوئی، کیونکہ ابھی حتمی نتائج آنا باقی ہیں۔ بعین ایسے ہی جیسے کبوتر بلی

کو دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کر کے یہ تصور کر لیتا ہے کہ بلی مجھے نہیں دیکھ پا

رہی، جو سراسر خام خیالی ہے- اس لئے سیانے کہہ گئے ہیں نادان دوست سے دانا

دشمن بدرجہ ہا بہتر ہے

=-،-= اپنا فرض ادا کر دیا، فیصلہ آپ، دیگر پارٹی قیادت کرے

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف جناب وزیراعظم عمران خان اور دیگر سینئر و

جونیئر قائدین آپ مجھے جو کچھ بھی سمجھیں، کھرا سچ ، زمینی حقائق یہی ہیں

جو آپ سب کے گوش گذار کر کے اپنا فرض ادا کر دیا، اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے

کہ حکومت کے آخری سال میں اپنی اور پارٹی کی ساکھ ، عوام کا اعتماد کس

طرح بحال کرنا ہے- جو باتوں سے نہیں صرف عملی اقدامات سے ہی ممکن ہے-

آپکا مخلص

کپتان صاحب میں جھوٹا ، کپتان صاحب میں جھوٹا ، کپتان صاحب میں جھوٹا

کپتان صاحب میں جھوٹا ، کپتان صاحب میں جھوٹا ، کپتان صاحب میں جھوٹا

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں
= نوٹ = ہماری نئی ویب سایٹ جتن اردو وزٹ کر کے اپنی آراء سے ضرور آگاہ کریں، شکریہ

Leave a Reply

%d bloggers like this: