Ch.Asim Tipu Advocate writer JTNOnline 79

کُھلا سچ، او آئی سی، مسلم حکمران اور 13 فروری کے بعد؟؟

Spread the love

کُھلا سچ 13 فروری

وزیراعظم عمران کا دورۂ ملائشیا اس حوالے سے یاد گار رہے گا کہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم کیخلاف آواز نہ اٹھانے پر انہوں نے نہ صرف مسلمان حکمرانوں کو آڑے ہاتھوں لیا، بلکہ اسلامی تنظیم کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ملائشیا کے تھنک ٹینک ایڈوانس انسٹیٹیوٹ میں خطاب اور ملائشین وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد کیساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں عمران خان نے مسلم اُمہ کو درپیش مسائل کا حل پیش کیا اور کہا کہ مسلمانوں کی مؤثر آواز اٹھانے والا ایک متحرک فورم ہونا چاہئے۔ مزید جاننے کیلئے پڑھیں

وزیراعظم عمران خان کا بَرملا افسوس

دسمبر 2019ء میں کوالالمپور کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا پر افسوس کا بھی اظہار کیا، کیونکہ اس وقت برادر ملک سعودی عرب نے اس کانفرنس کو مسلم اُمہ میں اختلافات سے تعبیر کیا تھا، حالانکہ یہ سب غلط ثابت ہوا اور کوالالمپور سمٹ کا انعقاد مسلم اُمہ میں اتحاد کیلئے تھا۔ انہوں نے آئندہ اس کانفرنس میں نہ صرف خود شرکت کرنے کا اعلان کیا بلکہ دیگر مسلم ممالک کو شرکت کا پیغام دیا۔

پیغامِ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پرچار وقت کی ضرورت

دسمبر2019ء میں کوالالمپور سربراہی کانفرنس میں ایران، قطر، ملائشیا کے سربراہان سمیت مسلم دُنیا کے کئی اہم رہنمائوں نے شرکت کی تھی، جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب کے دبائو کے باعث اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔ وزیراعظم کانفرنس میں شرکت کی بجائے سعودی عرب کے دورے پر چلے گئے، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ تمام غلط فہمیوں کے باوجود چاہے وہ دانستہ ہیں یا نادانستہ، مسلمان قیادت کو پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ کے حقیقی پیغام کا پرچار کرنا اور دُنیا کے سامنے اس کی صحیح تصویر پیش کرنی چاہئے۔ کُھلا سچ 13 فروری

اسلام کی حقیقی عکاسی اور نیا ٹی وی چینل

وزیراعظم عمران خان ملائشین ہم منصب مہاتیر محمد سے بہت متاثر ہیں، جس کا وہ متعدد مرتبہ برملا اظہار بھی کر چکے ہیں۔عمران خان جب اپوزیشن میں تھے تو وہ اپنے جلسوں میں مہاتیر محمد کے طرزِ حکومت اور ان کے نظریے کے گن گاتے تھے اور حکومت سنبھالنے کے بعد بھی مہاتیر محمد کے ویژن کی تعریف کرتے تھے۔ وہ ملائشین ماڈل کو پاکستان میں بھی متعارف کرانے کی بات کرتے رہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران بھی وزیراعظم عمران خان نے ترک صدر طیب اردوان اور ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد سے ملاقات میں مسلم اُمہ اور اسلام کی مثبت عکاسی کیلئے ایک نیا ٹی وی چینل شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے بارے میں باقی فیصلے کوالالمپور کانفرنس میں ہونے تھے، مگر نہ ہوسکے، لیکن اب وزیراعظم عمران خان نے اس دورے میں ساری کسر نکال دی۔

او آئی سی اور مسلم حکمران بے بس کُھلا سچ

عمران خان کا وہاں مسلم حکمرانوں اور اسلامی تعاون تنظیم کو بے بس قراردینا اور کئی ماہ سے ایک بڑی جیل میں بند کشمیریوں کیلئے آواز اٹھانے کی خاطر اسلامی سربراہی اجلاس تک نہ بُلاسکنے کو انتہائی معیوب گردانا اور یہ کہنا کہ دنیا میں اس وقت صرف ایک کروڑ یہودی ہیں مگر ان کے اثرو رسوخ اور طاقت کے باعث ان کیخلاف کوئی آواز نہیں اُٹھا سکتا، واقعی ایک حقیقت ہے اس سچ پر انہیں داد تحسین دینا حق بجانب ہے- کیونکہ اس وقت دُنیا میں ایک ارب 30 کروڑ سے زائد مسلمان ہیں، مگر ان کی نااتفاقی کے باعث دُنیا میں ان کی کوئی آواز بھی نہیں سنتا، لیبیا، عراق، شام، میانمار، یمن اور کشمیر میں مسلمانوں کیساتھ کیا کیا ہوا اور کیا کچھ نہیں ہو رہا، کُھلا سچ 13 فروری
مگر مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم اور مسلم حکمران کہاں ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر بھارت میں بی جے پی کی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ نریندر مودی اور ان کی جماعت بی جے پی کے فاشسٹ نظریے کے باعث بھارت کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے گا۔

مغربی معاشرے کو اسلام کا حقیقی تصور دکھانے میں ناکامی

انہوں نے کہا کہ مسلم قیادت مغربی معاشرے کو اسلام کا حقیقی تصور دکھانے میں ناکام رہی ہے،مسلم اُمہ کے اتحاد کے لئے تمام مسلمان ممالک کو مل کر مسلمانوں کی آواز بننے کی ضرورت ہے۔ عمران خان کی مہاتیر محمد سے ملاقات کے دوران مغربی میڈیا کے اسلام کے بارے میں منفی پراپیگنڈے کے توڑ کیلئے ایک مشترکہ ٹی وی چینل پر بھی بات چیت ہوئی اور اس پراجیکٹ کو آگے بڑھانے پر اتفاق ہوا۔ کُھلا سچ 13 فروری

کشمیر کی صورتحال پر عرب ممالک کی بے اعتناعی

مبصرین کا کہنا ہے وزیراعظم عمران خان کی طرف سے کشمیریوں کیلئے آواز نہ اٹھانے پر او آئی سی، اسلامی ممالک، سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک کے سربراہان پر بالواسطہ طور پر تنقید کی ہے، کیونکہ ترکی، ملائشیا اور ایران نے کشمیریوں کی بھرپور حمایت کا اعلان اور بھارت پر شدید تنقید کی تھی، جبکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے بھارت پر دبائو ڈالنے کی بجائے وہاں سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اب وزیراعظم کی اس تنقید سے سعودی عرب اور پاکستانی حکومت کے تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ کُھلا سچ 13 فروری

کسی پاکستانی حکمران کی او آئی سی پر پہلی بار کھلی تنقید

او آئی سی پر اس سے قبل کسی بھی پاکستانی حکمران نے اس طرح کی کھلے عام تنقید نہیں کی، بعض مبصرین اسے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔ مبصرین، خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں کی نظریں ترک وزیراعظم رجب طیب اردوان کے دورۂ پاکستان پر لگی ہوئی ہیں، جو 13 فروری کو اسلام آباد پہنچیں گے۔ طیب اردوان پہلے کشمیر اور فلسطین پر سعودی عرب اور اس کے حامی ممالک پر کڑی تنقید کرتے رہے ہیں۔ اسلامی تعاون تنظیم کے کردار کو وسیع کرنے یا اسلامی ممالک کی نئی فعال تنظیم بنانے کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان، ترک صدر طیب اردوان اور ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد پہلے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ہونیوالی ملاقاتوں میں مشاورت کر چکے ہیں۔

خارجہ پالیسی میں تبدیلی پر ردعمل کیسا؟

دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے پاکستانی خارجہ پالیسی میں اس تبدیلی پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب کی طرف سے کیا ردعمل سامنے آتا ہے۔

پڑھیں :—– !مہاتیرکاسچ

کُھلا سچ 13 فروری

Leave a Reply