سائنسی تاریخ کی نیکولس کوپرنیکس کی انقلابی کتاب 6 کروڑ روپے میں فروخت

سائنسی تاریخ کی نیکولس کوپرنیکس کی انقلابی کتاب 6 کروڑ روپے میں فروخت

Spread the love

نیو یارک (جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ) کوپرنیکس کی انقلابی کتاب

سائنسی تاریخ کی ایک اہم اور انقلابی کتاب کا 478 سال پرانا اولین ایڈیشن گزشتہ

ہفتے چھ کروڑ پاکستانی روپے میں نیلام ہو گیا۔ یہ کتاب سولہویں صدی عیسوی

کے مشہور یورپی ماہرِ فلکیات نکولس کوپرنیکس کی تصنیف ہے جس میں پہلی

بار سورج کو کائنات کا مرکز قرار دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے زمین کو کائنات کا

مرکز سمجھا اور کہا جاتا تھا کہ تمام ستارے اور سیارے ہماری زمین کے گرد

گھوم رہے ہیں۔لاطینی زبان میں لکھی گئی اس کتاب کا عنوان ( آسمانی کروں کی

گردش کے بارے میں ) ہے اور اس کا پہلا ایڈیشن 1543 عیسوی میں ٹھیک اسی

سال شائع ہوا جب کوپرنیکس اس دنیا سے رخصت ہوا۔ اس سے پہلے تک مذکورہ

کتاب کے پہلے ایڈیشن کی صرف 276 کاپیاں ہی معلوم تھیں جن میں سے ایک

کاپی 2008ء میں 22 لاکھ 10 ہزار ڈالر کی ریکارڈ قیمت میں نیلام ہو چکی ہے۔

=–= تعلیم سے متعلق مزید ایسی خبریں (=–= پڑھیں =–= )

اس لحاظ سے دیکھا جائے تو گزشتہ ہفتے نیلام ہونے والی کاپی کی قیمت اس سے

بہت کم ہے کیونکہ اس کے چند صفحات پھٹے ہوئے ہیں۔ یہ کتاب اس لیے اہم ہے

کیونکہ اس میں کوپرنیکس نے سورج کو کائنات کا مرکز قرار دینے کے علاوہ یہ

بھی کہا تھا کہ زمین ایک سیارہ ہے جو دوسرے سیاروں کی طرح سورج کے گرد

اپنے مدار میں چکر لگا رہی ہے۔ کوپرنیکس نے سورج کے گرد سات کروں کا

تصور پیش کرتے ہوئے کہا ان میں سے چھ دائروں ( مداروں ) میں سیارے ہیں

جن میں بالترتیب عطارد، زہرہ، زمین، مریخ، مشتری اور زحل شامل ہیں جو اس

زمانے تک دیکھے گئے سیارے تھے جبکہ سب سے بیرونی کرہ ثوابت (ستاروں)

کا ہے جو آسمان میں اپنی اپنی جگہ ساکن ہیں۔

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اسی تحقیق کو آگے بڑھاتے ہوئے بعد ازاں ٹائیکو براہے نے آسمان کے تفصیلی

مشاہدات کیے اور سیاروں کی حرکت سے متعلق تفصیلات نوٹ کیں۔ ان تمام

معلومات کی روشنی میں ٹائیکو براہے کے شاگرد جوہانس کیپلر نے سیاروں کی

حرکت کے قوانین وضع کیے اور کہا سورج کے گرد سیاروں کے مدار بالکل گول

دائروں کی شکل میں نہیں بلکہ انڈوں جیسے یعنی بیضوی ہوتے ہیں۔ اس کے بعد

17 ویں صدی عیسوی میں جب آئزک نیوٹن نے کششِ ثقل (گریویٹی) کے بارے

میں اپنے قوانین پیش کیے تو ان میں جوہانس کیپلر کی یہی تحقیق استعمال کی گئی

تھی۔ نیوٹن نے اپنے یہ قوانین پرنسپیا میتھمیٹیکا نامی کتاب کی صورت میں شائع

کیے جس کا پہلا ایڈیشن 1687ء میں منظرِ عام پر آیا۔ اگرچہ نیوٹن کی پرنسپیا کو

سائنس کی عظیم ترین کتاب کا درجہ بھی حاصل ہے لیکن یہ بات بھی درست ہے

کہ اسے یہ راہ نکولس کوپرنیکس کی آسمانی کروں کی گردش کے بارے میں اور

جوہانس کیپلر کی تحقیق نے ہی دکھائی۔

کوپرنیکس کی انقلابی کتاب

Leave a Reply