corona Special jtnonline2

کوویڈ-19 کا ماخذ کون، مقاصد کیا، تعین ممکن مگر…..؟

Spread the love

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن کرونا سپیشل) کوویڈ-19 کا ماخذ کون

امریکہ کے متعدی امراض اور صحت عامہ کے معالج ، سائنس دان ، ریٹائرڈ

فوجی اور مصنف مارک کورٹی پیٹرنے نے حال ہی میں کچھ امریکی سیاستدانوں

کی کوویڈ-19 وائرس کے لیب سے نکلنے کی قیاس آرائی کو ثابت کرنے میں حائل

مشکلات کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا نتیجہ شاید مزید شکوک و شبہات

کے ساتھ ختم ہو جائے گا۔

=–= کرونا وائرس سے متعلق خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

مارک کورٹی پیٹرکا فوربز کی ویب سائٹ پر” کوویڈ-19 کے لیب سے نکلنے کی

قیاس آرائی کو ثابت کرنا ” کیوں اتنا آسان نہیں” کے عنوان سے مضمون شائع ہوا

ہے۔ میری لینڈ میں فورٹ ڈیٹرک کی امریکی فوجی حیاتیاتی لیب میں کام کا تجربہ

رکھنے والے مارک نے کہا کہ لیب کے کام کے پس پردہ ارادے کا تعین کرنا

ضروری ہے اور متعدی وائرس سے وابستہ لیب سرگرمیوں کے تین منظر نامے

ہیں جن میں جائز کام ، دوسرا پرامن مقاصد کے لئے وائرس میں رد و بدل اور

تیسرا خوفناک مقاصد کے لئے وائرس میں رد و بدل شامل ہیں۔

=-.-= امریکہ ایسے کام کے مرتکب یا متاثر ہونے میں تجربہ کار

انہوں نے بتایا کہ پہلے دو منظر نامے صحت عامہ کے بہتر تحفظ کیلئے ہیں جو

عموما پوری دنیا کی لیبز میں اختیار کئے جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں سارس،

مرس، اور انفلوئنزا جیسے امراض کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ تاہم تیسری نوعیت کا لیب

کا کام جس کو ” ناگوار” کہا جاتا ہے، وہ عام طور پر بائیو دہشت گردی کے فوجی

مقصد کیلئے ہوتا ہے، جس میں امریکہ کو اس کے مرتکب ہونے یا متاثر ہونے کا

تجربہ حاصل ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے امریکی خفیہ ایجنسیوں

کو 90 دن میں شواہد کا پتہ چلانے کہ آیا وائرس لیب سے نکلا تھا یا نہیں کے

حوالے سے کورٹی پیٹر نے کہا ہے کہ چین میں زمین پر موجود اہم ثبوتوں کی

کمی ہے، اس لئے کوویڈ-19 کے ماخذ کا 90 روز میں حتمی تعین کرنا جوئے شیر

لانے کے مترادف ہو گا۔

=-.-= چین کی تیز رفتار ویکسی نیشن مہم، حیرت انگیز ہے، امریکی میڈیا

ایسوسی ایٹڈ پریس ( اے پی ) نے ایک آن لائن ریسرچ سائٹ ہماری دنیا کے اعداد

و شمار کے سات دنوں کی اوسط کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ

چین اس وقت کوویڈ-19 کی ویکسین کی یومیہ اوسطا 1 کروڑ 90 لاکھ خوراکوں

کے ساتھ اپنے شہریوں کو ” حیرت انگیز رفتار سے ” ویکسین لگا رہا ہے۔ رپورٹ

میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس کا مطلب ہے اٹلی میں ہر شخص کو تقریبا تین دن کے

بعد ویکسین لگا دی جائے۔ امریکہ جس کی آبادی چین کی آبادی کے تقریبا ایک

چوتھائی کے برابر ہے وہاں ویکسی نیشن مہم کے عروج کے وقت اپریل میں ایک

روز میں ویکسین کی 34 لاکھ خوراکیں لگائی گئیں۔ رپورٹ میں ہماری دنیا کے

اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ چین میں ویکسین کے لگائے گئے

ٹیکوں کی تعداد تقریبا دنیا بھر میں لگائی گئی ویکیسن کی 1 ارب 90 کروڑ

خوراکوں کا ایک تہائی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ویکسی نیشن کی یہ رفتار

چینی معاشرے کے ہرشعبے جس میں کمپنیاں، سکول اور مقامی حکومتیں شامل

ہیں کی جانب سے ویکسین لگوانے کے مطالبے کی وجہ سے ہے۔

=-.-= دنیا کو ویکسی نیشن کے باوجود اجتماعی مدافعت کیلئے مزید 9 ماہ درکار

دنیا بھرمیں کوویڈ-19 کی وبا پر قابو پانے کیلئے ویکسین کے لگائے گئے ٹیکوں

کی تعداد 2 ارب تک پہچ گئی ہے، تاہم موجودہ رفتار کیساتھ اجتماعی مدافعت کے

لئے ضروری دنیا کی 75 فیصد آبادی کی ویکسی نیشن کے لئے مزید 9 ماہ درکا

ہوں گے۔ بلومبرگ کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ویکسی نیشن کا عمل

عدم مساوات کا شکار ہے، اس سے بنیادی طور پر ترقی یافتہ دنیا کو فائدہ ہو رہا

ہے جبکہ کم آمدنی والے ممالک کو وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔ امیر ترین 27

ممالک نے دنیا بھر میں لگائی جانے والی ویکسین کا 29 فیصد حصہ اپنے شہریوں

کو لگایا ہے جبکہ ان ممالک کی آبادی دنیا کی مجموعی آبادی کا صرف 10 فیصد

ہے۔

=-.-= ویکسی نیشن مہم میں امریکہ پہل کرنے، چین انجیکشن لگانے میں اول

بلومبرگ کے ویکسین ٹریکر کے مطابق امریکہ اور برطانیہ نے ویکسین لگانے

میں پہل کی، چین اب تک سب سے زیادہ خوراکیں لگا چکا ہے جبکہ یورپی یونین

کے رکن ممالک سست آغاز کے بعد اس کے پیچھے ہیں۔ چین کا یومیہ 3 کروڑ 60

لاکھ دی جانے والی خوراکوں میں حصہ تقریبا دوتہائی، یورپی یونین کا 36 لاکھ

خوراکوں کیساتھ دوسرے جبکہ بھارت 26 لاکھ خوراکوں کیساتھ تیسرے نمبر پر

ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ہر 100 افراد کو 89.4 خوراکیں دی گئیں ہیں

جبکہ عالمی سطح پر یہ اوسط فی 100 افراد کیلئے 23 خوراکیں ہیں۔

=-.-= کرونا وباء، چین کا شہروں میں سرسبز مقامات میں مزید اضافہ

ایک امریکی میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین بھر میں شہری پارکوں کی تعمیر

ملک کے شہروں کو تبدیل کررہی ہے، جو چینی حکومت کی اپنے شہریوں کے

معیار زندگی کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ حال ہی میں نیو یارک ٹائمز

میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ پارکس معاشرتی ضروریات

میں سے کچھ کو پورا کرنے کے آسان طریقے پیش کرتے ہیں جو اگرچہ سستے

نہیں ہیں۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ وبا کے دوران پارک کی تعمیر بہت تیز

رفتاری کے ساتھ کی گئی، کیونکہ لوگوں کی زیادہ تعداد ریستورانز، سینما گھروں

اور دیگر اندرونی مقامات پر جانے کے حوالے سے محتاط ہے۔ اس مضمون میں

چین کے کچھ مشہور شہروں کا مثال کے طور پر ذکر کیا گیا، جن میں سوژہو،

کائی فینگ اور شنگھائی شامل ہیں، ان تمام شہروں میں پچھلے ایک سال میں مقامی

رہائشیوں کے لئے متعدد شہری پارک تعمیر کیے گئے ہیں۔

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں </a

کوویڈ-19 کا ماخذ کون ، کوویڈ-19 کا ماخذ کون ، کوویڈ-19 کا ماخذ کون ، کوویڈ-19 کا ماخذ کون

Leave a Reply