ڈیلٹا الفا بیٹا اقسام

کورونا کی چوتھی لہر کا خدشہ و وزیر اعظم نے پابندیوں کا عندیہ دیدیا

Spread the love

کورونا کی چوتھی لہر

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) وزیراعظم عمران خان نے ملک میں کورونا چوتھی لہر کے

خدشے کا اظہار کرتے ہوئے صورت حال خراب ہونے کی صورت میں پابندیاں لگانے کا عندیہ دے

دیا اور کہا کہ پاکستان میں کورونا کیسز میں کمی آئی تھی مگر اب ایک بار پھر سے کیسز میں اضافہ

ہورہا ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ ایس او پیز پر عمل نہ کرنا ہے، اگر عوام نے سنجیدگی کا

مظاہرہ نہیں کیا تو لاک ڈاﺅن جیسے سخت فیصلے کرنے پڑیں گے ،کورونا وبا کی صورت حال پر

مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں،اس وقت ڈیلٹا وائرس(بھارتی ویرینٹ )پاکستان سمیت پوری دنیا کے لیے

بہت بڑاخطرہ بنا ہوا ہے، بنگلادیش، انڈونیشیا میں کورونا کی نئی قسم پھیلنے کے بعد حالات بہت

خوفناک صورت اختیار کرگئے ، اگر ہم نے ایس او پیز پر عمل نہ کیا تو صورت حال یہاں بھی

خراب ہوسکتی ہے اور ہم پھر دوبارہ لاک ڈاﺅن کی طرف جاسکتے ہیں، ہمیں اپنے ملک کو کورونا کی

چوتھی لہر سے بچانا ہے ، عید آرہی ہے، لہذا سب ماسک پہنیں اور قربانی کا اہتمام شہر سے باہر

کریں، پاکستان میں فی الحال ویکسین تیار نہیں کی جارہی، ہمیں جیسے ہی ویکسین ملتی ہے شہریوں

کو فراہم کردی جاتی ہے، عوام آگے بڑھ کر خود ویکسین لگوائیں۔جمعرات کو وزیراعظم عمران خان

نے ملک میں کورونا وباءکی صورتحال کے بارے میں ٹی وی اور ریڈیو پر براہ راست اظہار خیال

کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں، کورونا وائرس اپنی

نسبت مسلسل تبدیل کرتا رہا ہے جبکہ دنیا میں اس وقت مختلف قسم کے کورونا وائرس پھیلے ہوئے

ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے لئے بڑا مسئلہ بھارت میں پھیلنے والا کورونا

وائرس ہے، بھارتی قسم کے وائرس سے انڈونیشیاءاور بنگلہ دیش میں بری صورتحال ہے جبکہ

ابھی تک پاکستان بڑے نقصان سے بچا ہوا ہے لیکن کورونا وباءکی چوتھی لہر کا خدشہ ہے، جس

کےلئے ہمیں بہت زیادہ احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی جریدے دی

اکانومسٹ نے پاکستان کو کورونا سے مقابلہ کرنے والے تین بہترین ملکوں میں شامل کیا ہے،

پاکستان واحد مسلم ملک ہے جہاں مسلسل دو سال رمضان المبارک میں کورونا کے باوجود مساجد

کھلی رہیں اور پاکستانی عوام نے ثابت کیا کہ وہ اپنی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وزیراعظم نے

کہا کہ اب ایک دفعہ پھر پاکستان میں کورونا کیسز نیچے جاتے جاتے پھر زیادہ ہو رہے ہیں اور

چوتھی لہر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، چوتھے فیز سے بچنے کے لئے ہمیں احتیاطی تدابیر پر

سختی سے عمل پیرا ہونا ہے اور حکومت پورے ملک میں لاک ڈاﺅن کے بجائے سمارٹ لاک ڈاﺅن کے

طریقہ کار پر جا سکتی ہے، عوام سے ایک بار پھر اپیل کرتا ہوں کہ ماسک کا استعمال لازمی کریں

اور اگر پہلے کی طرح ہم نے احتیاط کی تو کورونا وباءکی چوتھی لہر سے بھی بچ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بند جگہوں پر کورونا کے پھیلاﺅ کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں اس لئے فیس ماسک

لازمی استعمال کرنا ہے، ماسک پہن کر صرف ہم اپنے آپ کو بلکہ ملک کو بھی نقصان سے بچا

سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ عیدالاضحی کے موقع پر ماسک سمیت احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد

یقینی بنانا ہو گا، حکومت نہیں چاہتی ہے کہ مکمل لاک ڈاﺅن لگایا جائے، اس سے ملکی معیشت اور

خصوصاً غریب طبقہ بہت زیادہ متاثر ہو سکتا ہے،ہم نہیں چاہتے ہیں کہ لاک ڈاﺅن کے باعث لوگوں

کا روزگار متاثر ہو،لیکن اگر چوتھی لہر میں وائرس زیادہ پھیلا تو مجبوراً لاک ڈاﺅن کی طرف جانا پڑ

سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بیرون ممالک سے بڑی تعداد میں کورونا ویکسین خریدی ہے

اور ہمارے پاس مناسب مقدار میں ویکسین موجود ہے جبکہ عوام سے اپیل ہے کہ جنہوں نے ابھی

تک ویکسین نہیں لگوائی وہ فوری طور پر کورونا سے بچاﺅ کی ویکسین لگوائیں اور وباءکے پھیلاﺅ

کے روکنے کے عمل میں حکومت کا ساتھ دیں، ویکسین لگوانے سے ہم خود اپنی اور دوسرے

شہریوں کی زندگیاں بچانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ پاکستان کی پہلی ماحول دوست الیکٹرک بائیک کی

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ چ بدلنا ہوگی کہ

بیرونی امداد اور قرضوں کے بغیر ملک نہیں چلے گا ، لوگوں کے ٹیکس نہ دینے کی وجہ اعتماد کا

فقدان ہے، پاکستان کے مستقبل کا پلان دے دیا، لانگ ٹرم پالیسی نہ ہو تو الیکشن ٹو الیکشن منصوبہ

بندی ہوتی ہے، پھر مافیا فیصلے تبدیل کرا دیتا ہے، ہم ذہنی غلامی میں مبتلا ہے کہ باہر سے پیسے

نہیں آئیں گے تو ملک نہیں چلے گا، کامیاب دورہ اسے کہا جاتا ہے جس میں زیادہ بھیک لے کر آئی

جائے، اب ہم پیروں پر کھڑے ہونے کے تیسرے راستے پر چل نکلے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان

نے کہا کہ جن ممالک نے ترقی کی انہوں نے ہمیشہ مستقبل کی منصوبہ بندی کی، الیکٹرک وہیکل

پالیسی کے تحت روزگار فراہم ہوگا، الیکٹرک وہیکل کی حوصلہ افزائی کلین اینڈ گرین مہم کا حصہ

ہے، ماحولیات میں بہتری کیلئے الیکٹرک گاڑیاں لانا ہوں گی، معاشی ترقی کیلئے طویل مدتی منصوبہ

بندی ضروری ہے، جن ممالک نے ترقی کی انہوں نے ہمیشہ مستقبل کی منصوبہ بندی کی، شہروں

کو پھیلنے سے روکنے کیلئے ماسٹر پلان بنانا ہوگا، خوشی ہے ماحولیاتی تبدیلی کیلئے اقدامات کو

دنیا تسلیم کر رہی ہے، رواں سال پاکستان کی برآمدات ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ عمران

خان نے کہا کہ ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہے اور آئندہ نسلوں کیلئے سوچنا ہے، لاہور میں ماحولیاتی

آلودگی انسانی زندگی کیلئے مسئلہ بن چکی، لاہور کو باغوں کا شہر کہا جاتا تھا، آج وہاں آلودگی

ہے، پاکستان میں جنگلات کی تعداد سب سے کم ہے، مفادات کیلئے پالیسیاں بنانے سے ملک کو نقصان

ہوتا ہے، ہم درخت اگارہے ہیں اور نیشنل پارکس بنا رہے ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ لوگوں کے

ٹیکس نہ دینے کی وجہ اعتماد کا فقدان ہے، لوگوں کو اعتماد نہیں کہ ہمارے ٹیکس کا درست استعمال

ہوگا، ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے، جب بھی ملک پر مشکل وقت آیا قوم نے

خود ہی اپنے لوگوں کی مدد کی، یہ سوچ تبدیل کرناہوگی کہ ایڈ نہیں ہوگا تو ملک نہیں چلے گا،

میرایقین ہے ہم اپنے پیروں پر کھڑے ہوکر اپنے مسائل حل کریں گے تو مضبوط ہوں گے، اگر آگے

ملک میں ڈالر کی کمی ہونے لگی اور کرنٹ اکانٹ خسارہ ہوا تو ترقی پھر رک جائے گی اور آئی ایم

ایف کے پاس جانا پڑے گا، اس لیے ابھی سے ڈالر کی کمی کو روکنے کے لیے تمام اقدامات کررہے

ہیں، ہر چیز پاکستان میں بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اللہ نے ملک کو نعمتیں

بخشی تھیں، ہم نے خود پر ظلم کیا کہ ملک میں موجود خام مال سے فائدہ اٹھانے کی بجائے درآمدات

کیں، اس سے نقصان ہوا کہ ملک غریب ہوتا گیا اور ملک سے ڈالر باہر جانے لگے، چین کی درآمدات

کم اور برآمدات زیادہ ہیں اس لیے وہ امیر ہوگیا، آپ نے کوشش کرنی ہے کہ اس الیکٹرک موٹرسائیکل

کے تمام پرزے پاکستان میں بنائے جائیں، ہم ملک میں معدنیات کا نقشہ بنارہے ہیں کہ کس جگہ کیا

چیز ہے، ہمیں درآمدات کی ضرورت نہیں، اس سے تھوڑے لوگوں کو فائدہ لیکن ملک کو نقصان ہوتا

ہے، ڈالر باہر جانے سے روپے کی قدر گرتی ہے اور مہنگائی ہوتی ہے۔ عمران خان نے بتایا کہ

مجھے عوام پر پورا اعتماد ہے، یہ کھلے دل کے فیاض لوگ ہیں، جب بھی انہیں آزمایا، وہ توقعات

پر پورا اترے، آج اس لیے ٹیکس نہیں دے رہے کہ انہیں یہ اعتماد ہی نہیں کہ ہمارا ٹیکس صحیح

طرح استعمال ہوگا، حکومت ان کا اعتماد بحال کررہی ہے کہ عوام کا ٹیکس عوام کے لیے ہو، ہم اپنے

خرچے اور فضول خرچی کم کررہے ہیں، پروٹوکول کے پیسے بچارہے ہیں، وزیراعظم ہاس اور

سیکرٹریٹ نے تین سال میں 108 کروڑ روپے بچائے ہیں، بیرون ملک سفر پر اخراجات کم کیے ہیں،

ٹیکس دہندہ کو بتا رہے ہیں کہ ان کے پیسے کی قدر کرتے ہیں، آپ کا ٹیکس اپنے اوپر خرچ کرنے

کی بجائے آپ پر خرچ کریں گے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ جیسے جیسے عوام کا اعتماد بحال

ہوگا ٹیکس میں اضافہ ہوگا، ملک کی دولت بڑھے گی اور اپنے پیروں پر کھڑا ہوجائے گا، ہماری ذہنی

غلامی ہے کہ جب تک بیرونی امداد اور قرضے نہیں آتے ملک نہیں چلے گا، وزیراعظم جب باہر

جاتا ہے تو پہلا سوال پوچھتے ہیں کتنے پیسے لائے، ماضی کےحکمرانوں کےکامیاب دورے کی

نشانی یہ تھی کہ وہ باہر سے بھیک مانگ کر کتنے پیسے لےکرآیا، جب تک اس ذہنی غلامی سے نہیں

نکلیں گے اور اپنے پیر پر کھڑے نہیں ہوں گے اسے پتہ ہی نہیں چلتا کہ اللہ نے ہمیں کتنی طاقت

دی ہے، بیساکھیوں سے چلنے والے کو اپنے زور کا اندازہ نہیں ہوتا، اب ملک اپنے پیروں پر کھڑا

ہونے کے لیے تیسرے راستے پر نکل گیا، جلد عظیم ملک بنے گا۔

کورونا کی چوتھی لہر

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply