ڈیلٹا الفا بیٹا اقسام

کورونا کا خطرناک پھیلاو، مزید76 افراد جاں بحق

Spread the love

کورونا کا خطرناک پھیلاو

کراچی ، اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) سندھ حکومت نے کراچی میں کورونا وائرس کے

بڑھتے ہوئے کیسز پر شہر میں مکمل لاک ڈاؤن پر غور کردیا جبکہ وفاق نے مکمل لاک ڈٓاؤن کی

مخالفت کر دی صوبائی حکومت کے مطابق 2 ہفتوں کے لیے کراچی میں مکمل لاک ڈاؤن کامطالبہ

کورونا ٹاسک فورس کے طبی ارکان کا ہے،کراچی میں کورونا کیسز میں اضافہ اور اسپتالوں میں

گنجائش انتہائی کم ہورہی ہے۔کورونا ٹاسک فورس ممبران کے مطابق مکمل لاک ڈاؤن لگانے پر

حتمی فیصلہ آج وزیر اعلیٰ سندھ کی صدارت میں ہونے والی میٹنگ میں کیا جائے گا۔مکمل لاک ڈاؤن

کے دوران کاروباری اداروں کو بند اور عوام کی نقل و حرکت پر پابندی لگائی جائے گی۔خیال رہے

کہ کراچی میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 22.6 فیصد رہی ، حیدرآباد

میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 9 فیصد اور سندھ بھر میں مجموعی طورپر شرح 13.4 فیصد

ریکارڈ کی گئی۔دوسری جانب این سی او سی نے کراچی میں مکمل لاک ڈاؤن کی مخالفت کردی ہے،

سربراہ این سی او سی اسد عمر نے کہا ہے کہ ہفتوں ہفتوں شہر بند کرنا مسئلے کا حل نہیں، ایس او

پیز پر عمل درآمد، اسمارٹ لاک ڈاؤن اور لازمی ویکسینیشن سے کورونا کو روکا جاسکتا ہے۔دوسری

طرف این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کورونا کے پھیلا وکوروکنے

کیلئے اقدامات کو دیکھ رہی ہے، شہروں کو ہفتوں بند کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے، مکمل لاک ڈاون

کے بعد کورونا وبا بہت تیزی سے پھیلتی ہے، ایس اوپیز پر عمل درآمد سے ہی کورونا کو کنٹرول کیا

جاسکتاہے،سندھ اور بلوچستان میں ایس اوپیز پرعملدرآمد سب سے کم نظر آتا ہے، کورونا روکنے

کے لئے سندھ حکومت سے ہر ممکن تعاون کریں گے، اگر وہ ایس او پیز پر عملدرآمد کے لئے

فورسز کی مدد چاہتے ہیں تو ہم فوج سمیت تمام فورسز دینے کے لئے تیار ہیں، یکم اگست سے ہوائی

سفر کرنے والوں کے لئے کورونا ویکسین لازمی قرار دے دی گئی ہے، 31 جولائی کے بعد ویکسین

نہ لگوانے والے استاتذہ اسکولوں میں نہیں جا سکیں گے۔ جمعرات کو وفاقی وزیر اسد عمر کے ہمراہ

پریس کانفرنس کرتے ہوئے معاون خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ گزشتہ چوبیس

گھنٹوں میں چار ہزار چار سو ستانوے کیسز رپورٹ ہوئے۔ کورونا کیسز کی شرح 7.50فیصد رہی۔

کورونا کیسز میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ تین ہزار سے زائد مریض وینٹی لیٹر پر ہیں۔ کراچی میں

کورونا وباء تیزی سے پھیل رہی ہے کراچی میں ہسپتالوں کے پچاس فیصد وینٹی لیٹر کورونا

مریضوں کے استعمال میں ہیں۔ کورونا وباء کے پھیلاؤ کی وجہ سے ہسپتالوں پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا

ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ کورونا پھیلاؤ کو روکنے کے لئے فوری اقدامات کی

وجہ سے کورونا وباء پر قابو پایا۔ جیسے ہی وباء میں کمی آتی ہے لوگ سمجھتے ہیں وباء ختم ہوگئی

ہے دوبارہ ایس او پیز پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے وباء میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ

کراچی میں کورونا کیسز خطرناک حد تک بڑھ رہے ہیں ہم ملک بند کرکے اس وباء کا مقابلہ نہیں

کرسکتے۔ اس سے بہت لوگ متاثر ہوں گے۔ ملک بند کرکے وباء پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں کیا

جاسکتا۔ لاک ڈاؤن ختم ہوتے ہی وباء میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ بھارت‘ بنگلہ دیش کی مثالیں سب

کے سامنے ہیں۔ پورے پورے شہر بند کرنا اس مسئلے کا حل نہیں۔ ایس او پیز پر مکمل عمل اور

سمارٹ لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کرکے ہم نے اس وباء کے خلاف کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کہا

کہ اسلام آباد میں کورونا وباء ایس او پیز پر عمل درآمد کی شرح 56.4فیصد ‘ خیبرپختونخوا میں

46.6فیصد ‘ کشمیر میں 44.4فیصد‘ پنجاب میں 37.4فیصد‘ سندھ اور بلوچستان میں 33فیصد ہے۔اسد

عمر نے کہا ہے کہ ویکسین نہ لگوانے والوں کو دکانوں، دفاتر اور ہوٹلوں میں کام کرنے نہیں دیا

جائے گا، ان کے لیے ویکسین لگوانے کی آخری تاریخ 31 اگست ہے، جس کے بعد ان پر پابندی عائد

ہوگی۔ ۔اسد عمر نے بتایا کہ تمام تعلیمی اداروں کی ٹرانسپورٹ سے جڑے افراد، قانون نافذ کرنے

والے اداروں کے اہلکار، سرکاری ملازمین، ہوٹلوں، دکانوں، مارکیٹوں اور شاپنگ مالز میں کام کرنے

والوں نے اگر 31 اگست تک ویکسین نہ لگوائی تو انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے

کہا کہ جو اساتذہ ویکسی نیٹڈ نہیں وہ یکم اگست سے سکولوں میں نہیں پڑھا سکیں گے، یکم اگست

سے صرف ویکسی نیٹڈ لوگ ہوائی جہاز پر سفر کرسکیں گے۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ کئی لوگ اب

بھی کورونا کو سنجیدہ نہیں لے رہے، سندھ حکومت کورونا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے ہر ممکن کوشش

کر رہی ہے، چاہتے ہیں کسی کا روزگار متاثر نہ ہو، ملکی معیشت چلتی رہے، ملک بند کر کے وبا کا

مقابلہ نہیں کرسکتے، کورونا سے بچنے کا واحد حل صرف احتیاط ہے، سندھ اور بلوچستان میں ایس

او پیز پر زیادہ عمل نہیں ہو رہا سندھ میں سبزی منڈیوں میں ویکسین کارڈ کے بغیر داخلے پر پابندی

عائد کردی گئی، کراچی، حیدرآباد اور شکارپور میی سبزی منڈیوں میں ویکسی نیشن سینٹر بھی قائم

کر دئیے گئے۔ دوسری طر ف ملک بھر میں کورونا وائرس سے مزید 76افراد جاں بحق ہو نے کے

بعد اموات کی تعداد 23 ہزار 209 ہوگئی، پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 10 لاکھ

20 ہزار 324 ہوگئی۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24

گھنٹوں کے دوران 4 ہزار 497 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں 3 لاکھ 54 ہزار 904، سندھ میں

3 لاکھ 74 ہزار 434، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 42 ہزار 799، بلوچستان میں 30 ہزار 19، گلگت

بلتستان میں 7 ہزار 935، اسلام آباد میں 86 ہزار 602 جبکہ آزاد کشمیر میں 23 ہزار 671 کیسز

رپورٹ ہوئے۔ ملک بھر میں اب تک ایک کروڑ 58 لاکھ 78 ہزار 471 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے،

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 59 ہزار 707 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 9 لاکھ 37 ہزار 354

مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 3 ہزار 84 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ پاکستان میں کورونا

سے ایک دن میں 76 افراد جاں بحق ہوئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 23 ہزار

209 ہوگئی۔ پنجاب میں 10 ہزار 995، سندھ میں 5 ہزار 903، خیبر پختونخوا میں 4 ہزار 435، اسلام

آباد میں 797، بلوچستان میں 326، گلگت بلتستان میں 133 اور آزاد کشمیر میں 620 مریض جان سے

ہاتھ دھو بیٹھے۔

کورونا کا خطرناک پھیلاو

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply