aurat khahani jtnonline new1 156

کورونا وباء کا وہ فائدہ جسے خواتین کیلئے جاننا اورسمجھنا انتہائی ضروری

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

( تحریر : —– ناصرہ عتیق ) کورونا وباء فائدہ خواتین

دُنیا بھر میں گذرتے ہوئے دن اور اِن گزرتے دِنوں میں رونما ہونیوالے واقعات میں

اتنی تیزی اور عجلت ہے کہ نگاہ اِن پر ٹھہر رہی ہے، نہ ذہن اِن کا احاطہ کر پا رہا

ہے۔ لوگ معیشت اور معاشرت کے مسائل سے نبرد آزما تھے کہ کورونا وائرس

نے پوری دُنیا کو اپنی دہشت کی لپیٹ میں لے لیا۔

مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کے بعد دنیا بھر میں لاک ڈاؤن

دُنیا کے سب ہی ممالک میں لاک ڈاﺅن اس طرح وارد ہوا کہ مقبوضہ وادی کشمیر

کا لاک ڈاﺅن قدرے دھیما پڑ گیا۔ تاہم مقبوضہ وادی کے لوگ بھارتی غاصبوں کے

ہاتھوں نو ماہ سے جس طرح قید ہیں، دُنیا کے لوگوں کو اب اس کا احساس ہونا

شروع ہو گیا ہے۔

—————————————————————————–
یہ بھی پڑھیں : کورونا وباء، خواتین اپنے پیاروں کیلئے احتیاط و بے خوفی اپنائیں
—————————————————————————–

کورونا وائرس سے متعلق احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہوتے ہوئے مَیں گھر میں

مقید تو ہوں، لیکن وطنِ عزیز کی خواتین کو درپیش مسائل کے بارے میں میرا ذہن

ادھیڑ بُن میں لگا رہتا ہے۔ وباء کی پریشانیوں کیساتھ ساتھ ماہِ رمضان کی

ضروریات کے احساس کے تحت ضرورتمندوں کیلئے کچھ کر گزرنے کی دُھن

سر پر سوار تھی، چنانچہ چند درد مند دِل رکھنے والی ساتھی خواتین کی معاونت

اور خواتین کی ایک فلاحی عالمی تنظیم کے زیر سایہ اشیائے خوردنی کے پیکٹ

تیار اور تقسیم کئے۔

کارِ خیر کی توفیق پر ربِ کریم کا شُکر

ربِ کریم کا شُکر ہے کہ اُس نے ہمیں اِس کارِخیر کی توفیق بخشی۔ ربِ ذوالجلال

سے دُعا گو ہوں کہ وہ ہمیں ہمت عطا کرے کہ ہم اُس کے دیئے گئے رزق میں

سے غریب اور نادار و مستحق لوگوں کی مدد کر سکیں اور کرتے رہیں۔

پُوری دنیا نادیدہ خوف کی گرفت میں

اگرچہ اب باتیں بدلتے موسموں اور اُبھرتے فیشن کی نہیں رہیں۔ اب تو اس مہلک

وباء کا ذکر اور شور ہے کہ جس نے پوری دُنیا کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے،

اس نے نادیدہ خوف کی ایک ایسی چادر تان دی ہے کہ جس کے نیچے دم گھٹتا

محسوس ہوتا ہے۔

صحیح حالات کا پتہ وباء کے زور ٹوٹنے پر گا

اگرچہ حکومت کی جانب سے لاک ڈاﺅن میں کچھ نرمی برتی جا رہی ہے، لیکن

صحیح حالات کا پتہ تب چلے گا جب وباء کا زور ٹوٹے گا اور زندگی معمول کی

جانب آئے گی۔

گہما گہمی تو دور کی بات، سماجی میل ملاپ میں بھی پریشان کن کمی

تاہم اس وباء کا نتیجہ ہے کہ موسموں کے اُلٹ پھیر سے جنم لینے والی تقریبات

بھی بے رنگ رہیں۔ شادی بیاہ کی گہما گہمی تو دور کی بات، سماجی میل ملاپ

میں بھی پریشان کن کمی واقع ہوئی ہے۔ کہاں میک اَپ پارلرز میں لڑکیوں اور

خواتین کی آمدورفت اور ان کا ذوق و شوق اور کہاں اب گھروں میں بند ایک

انجانے خوف سے خاموش اور فکر و پریشانی میں غلطاں۔

سمجھ دار خاندانوں کا فیصلہ

شادی کی رونقیں تو بالکل ہی ماند پڑ گئی ہیں، تاہم سمجھ دار خاندانوں کا یہ فیصلہ

کہ چند اہم لوگ اکٹھے ہوں اور بچی کو رخصت کر دیا جائے، ایک نئے سماجی

رجحان کی نوید ہے۔

بیٹی کی شادی کیلئے شاندار انتظامات اور کورونا وباء

امریکہ کی ریاست شکاگو میں میرے ملنے والے رہتے ہیں۔ اللہ کریم کا دیا سب

کچھ ہے۔ انہوں نے بیٹی کی شادی کے لئے شاندار انتظامات کئے تھے، ہزاروں

ڈالر پیشگی ادا کر چکے تھے، کہ کورونا وائرس کے لاک ڈاﺅن نے ساری تقریبات

کا خاتمہ کر دیا۔ شادی کی تاریخ آئی اور گذر گئی۔

سادہ اور پُروقار تقریبِ رخصتی

خیال تھا کہ حالات معمول پر آئیں گے تو رخصتی کر دیں گے، لیکن وقت کی

سنگینی یکساں رہی۔ بالآخر طے پایا کہ چند معتبر لوگ آئیں اور بچی کو لے جائیں۔

یوں ایک مختصر اور سادہ تقریب میں لڑکی کی رخصتی بخیرو عافیت انجام پائی۔

دونوں گھرانوں نے سُکھ کا سانس لیا۔ لڑکا اور لڑکی دونوں اپنے گھر میں آباد اور

خوش ہیں۔

کورونا وباء نے کئی ناگزیر باتوں کو بے وقعت ثابت کردیا

رہی فیشن اور کیٹ واک کی باتیں تو وہ قصہ پارینہ ہوئیں۔ یوں لگتا ہے کہ ان کی

کبھی ضرورت ہی نہ تھی، بس ایسے ہی فیشن کے کارپوریٹ مافیا نے ایک دھندہ

بنایا ہوا تھا۔ بہرحال زندگی معمول کی جانب آئے گی یا نہیں یہ ایک علیحدہ بحث

ہے کہ جس نے ابھی چھڑنا ہے۔ کورونا وائرس نے بہت سی ایسی باتوں کو جنہیں

ہم ناگزیر سمجھتے تھے، بے وقعت ثابت کر دیا اور بہت سی ایسی باتوں کو اُجاگر

کیا کہ جنہیں ہم غیر ضروری قرار دیتے تھے۔

کورونا وباء کے دوران کی زندگی خواتین کیلئے بڑا سبق

خواتین سے میری التماس ہے کہ وہ ان تمام تجربات و مشاہدات کو زندگی کا حصہ

بنائیں جن سے اِن ایام میں وہ روشناس ہوئی ہیں۔ ہماری خواتین قومی و سماجی

ترقی میں ایک فعال عنصر ہیں۔ وہی بچے بڑے ہو کر مُلک کی باگ دوڑ بہ احسن

و خوبی سنبھالتے ہیں کہ جنہوں نے دانش مند ماﺅں کی گود میں پرورش پائی ہوتی

ہے۔ کیونکہ اچھی مائیں بچوں کو زندگی کی قیمت (Price) نہیں قدر (Value)

سکھاتی ہیں۔

ایسی نسل کی آبیاری کا موقع جو احسن و اعلیٰ اقدار کی مالک ہو

کورونا کی وباء نے ایک مدت کے بعد گھرانوں اور خاندانوں کو موقع فراہم کیا ہے

کہ وہ سوشل میڈیا کی یلغار سے دور رہ کر آپس کے مسائل اور دُکھ درد کو سمجھ

اور بانٹ سکیں۔ بے شک یہ ایک سنہری موقعہ ہے۔

وطنِ عزیز میں امتیازی حیثیت کی حامل خواتین سے بڑی اُمید

اُمید کرتی ہوں کہ ہماری خواتین جو وطنِ عزیز میں امتیازی حیثیت رکھتی ہیں،اس

موقعہ سے فائدہ اٹھائیں گی اور ایک ایسی نسل کی آبیاری کریں گی جو احسن و

اعلیٰ اقدار کی مالک ہو گی اور جو ملک کو ترقی یافتہ اقوام کی صف میں لانے

میں ممدو معاون ثابت ہو گی۔

——————————————————————————
دوستو : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر کریں، فالو کریں اپڈیٹ رہیں
——————————————————————————

اللہ کریم سے دُعا ہے کہ وہ پاکستان پر اپنا کرم فرمائے اور لوگوں کو ہدایت سے نوازے۔ آمین

Journalist Nasra Atiq

محترمہ ناصرہ عتیق انتہائی شفیق ، باہمت اور قابل صحافی ہیں، دو عشروں سے

زائد صحافتی تجربہ کی حامل اور لاہور پریس کلب کی سرگرم رکن ہونے کیساتھ

ساتھ فلاحی سرگرمیوں میں بھی کافی متحرک ہیں- ضرورتمند طبقہ خواہ ان کے

شعبہ صحافت سے تعلق رکھتا ہو یا عام عوام سے ان کیلئے میدان عمل میں آ کر

کچھ کر گزرنا ان کا خاصا ہے- سماجی، سیاسی امور پر لکھنے میں بھی کمال

مہارت رکھتی ہیں-

کورونا وباء فائدہ خواتین

Leave a Reply