کورونا تیسری لہر تشویشناک

کورونا سے مزید113اموات ،3084نئے مریض

Spread the love

کورونا مزید113اموات

اسلام آباد(جے ٹی این آن لائن نیوز) ملک بھر میں چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 113

افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 19 ہزار 106 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کے

تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 8 لاکھ 64 ہزار 557 ہوگئی۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین

اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 3 ہزار 84 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں

3 لاکھ 20 ہزار 851، سندھ میں 2 لاکھ 93 ہزار 426، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 24 ہزار 979،

بلوچستان میں 23 ہزار 534، گلگت بلتستان میں 5 ہزار 401، اسلام آباد میں 78 ہزار 382 جبکہ آزاد

کشمیر میں 17 ہزار 984 کیسز رپورٹ ہوئے۔ملک بھر میں اب تک ایک کروڑ 22 لاکھ 67 ہزار 310

افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 38 ہزار 883 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک

7 لاکھ 66 ہزار 492 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 4 ہزار 859 مریضوں کی حالت تشویشناک

ہے۔پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 113 افراد جاں بحق ہوئے جس کے بعد وائرس سے مرنے

والوں کی تعداد 19 ہزار 106 ہوگئی۔ پنجاب میں 9 ہزار 125، سندھ میں 4 ہزار 753، خیبر پختونخوا

میں 3 ہزار 644، اسلام آباد میں 716، بلوچستان میں 253، گلگت بلتستان میں 107 اور ا?زاد کشمیر

میں 508 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے ملک

بھر میں عید الفطر کی نماز کے اجتماعات کے لیے رہنما ہدایات جاری کر دیں۔اسلام آباد میں این سی

او سی کا اجلاس وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور لیفٹیننٹ جنرل حمود الزمان خان کی سربراہی میں

ہوا جس میں 8 سے 16 مئی تک ملک بھر میں نقل و حمل محدود رکھنے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان بھی بذریعہ ویڈیو لنک

شریک ہوئے۔16 مئی تک نافذ پابندیوں کے تناظر میں فورم نے کورونا وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے

ایس او پیز پر عملدرآمد کے قومی عزم پر زور دیا۔این سی او سی نے قوم پر زور دیا کہ پاکستانی عوام

کی بھلائی کے لیے اٹھائے گئے ان اقدامات کی حمایت کے لیے متحد کھڑے ہوں۔این سی او سی

اجلاس میں ملک بھر میں نماز عید کے اجتماعات کے لیے رہنما ہدایات جاری کی گئیں ان میں نماز

عید کا انتظام کووِڈ 19 کے پروٹوکولز کو ملحوظ رکھتے ہوئے کھلے مقام پر کیا جائے، اگر مسجد

میں ادا کرنا مجبوری ہو تو ہوا کی آمد و رفت کے لیے کھڑکیاں دروازے کھلے رکھے جائیں، عوام

کی تعداد کم رکھنے کے لیے ایک مقام پر مختلف اوقات میں نماز عید کے 2، 3 اجتماع کیے جائیں،

نماز کے دوران عوام کے میل جول کے وقت کو کم رکھنے کے لیے خطبے مختصر رکھنے کی

کوشش کی جائے، بیمار، بزرگوں اور 15 سال سے کم عمر بچوں کی نماز کے اجتماع میں شرکت کی

حوصلہ شکنی کی جائے، نماز عید کے دوران فیس ماسک/ سرجیکل ماسک پہننا لازم ہے۔اعلامیہ کے

مطابق لوگوں کے ایک دوسرے سے ٹکراؤ سے بچاؤ کے لیے نماز کے مقام پر متعدد داخلی و

خارجی راستے رکھے جائیں، اجتماع گاہ میں داخلے کے وقت نمازیوں کا جسمانی درجہ حرات دیکھا

جائے، داخلی و خارجی مقام پر سینیٹیائزر کی دستیابی اور استعمال کیا جائے۔اعلامیہ کے مطابق

اجتماع گاہ میں 6 فٹ کو سماجی فاصلہ کی نشان زدہ کردیا جائے، نمازی حضرات اپنے ہمراہ اپنی

جائے نماز لے کر آئیں، نماز کے بعد آپس میں گھلنے ملنے اور مصافحہ کرنے سے گریز کیا جائے۔

اعلامیہ کے مطابق عید کی نماز سے پہلے اور بعد میں کوئی اجتماع نہ کیا جائے، اجتماع گارہ میں

آگاہی مہم کے طور پر نمایاں مقامات پر کورونا پروٹوکولز اجاگر کرنے والے بینرز لگائے جائیں۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے پنجاب حکومت نے عید الفطر کے موقع پر لوگوں کی نقل

و حرکت محدود رکھنے کیلئے لاک ڈاؤن پر سختی سے عملدرآمد کرانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ خلاف

ورزی کرنیوالوں کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ یہ فیصلہ سول

سیکرٹریٹ میں کوروناوباء کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے منعقد اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔

صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت، وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشد،چیف سیکرٹری پنجاب، ایڈیشنل

چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، صحت کے محکموں کے ایڈمنسٹریٹو سیکرٹریز، ڈائر

یکٹرجنرل پبلک ریلیشنز اور اعلیٰ سول وعسکری حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں کورونا

وبا، لاک ڈاؤن پر عملدرآمد، ہسپتالوں میں طبی سہولیات اور آکسیجن کی فراہمی وردیگراقدامات کا

جائزہ لیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا کہ عید کے

موقع پر کورونا کیسز میں اضافے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وباء پر قابو پانے کیلئے اگلے دو

ہفتے نہایت اہم ہیں، شہری لاک ڈاؤن کے دوران احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے وائرس کے پھیلاؤ کو

روکنے کی حکومتی کوششوں کا ساتھ دیں۔ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ اگر عوام نے لاک ڈاؤن کے

دوران ایس او پیز پر عمل کیا تو امید ہے کیسز میں نمایاں کمی آئے گی۔چیف سیکرٹری پنجاب نے کہا

گزشتہ برس عید الفطر کے موقع پر بازاروں میں رش کے باعث کورونا کیسز میں اضافہ ہوا، اس

تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ عید

الفطر کی نماز کے اجتماعات کیلئے ایس او پیز تیار کر لئے گئے ہیں۔ لاک ڈاؤن پر عملدرآمد کیلئے

انتظامی افسران متحرک ہیں گزشتہ روز مختلف شہروں میں 1200سے زائد دکانوں کو سیل کیا گیا۔

کورونا مزید113اموات

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply