ملک بھر میں کورونا

کوروناسےایک دن میں ریکارڈ157ہلاکتیں، پنجاب میں فوج طلب

Spread the love

کورونا سے ریکارڈ ہلاکتیں

اسلام آباد(جے ٹی این آن لائن نیوز) اسلام آباد میں کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کرانے کیلئے پاک

فوج کے جوان متحرک ہوگئے۔ دو ہوٹل سیل جبکہ ایک لاکھ روپے تک جرمانے کئے گئے۔اسسٹنٹ

کمشنر نے پولیس اور پاک فوج کے جوانوں کے ہمراہ تجارتی مراکز کا دورہ کیا، اس دوران کورونا

ایس او پیز کی خلاف ورزی پر جرمانے اور سزائیں بھی دی گئیں۔ کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد

کرانے کیلئے پاک فوج کو پولیس اور رینجرز کی مدد کیلئے طلب کیا گیا ہے۔دوسری جانب نیشنل

کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق کورونا وائرس سے 157 افراد جاں بحق

ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 16 ہزار 999 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز

کی تعداد 7 لاکھ 90 ہزار 16 ہوگئی۔گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5 ہزار 908 نئے کیسز رپورٹ

ہوئے، پنجاب میں 2 لاکھ 85 ہزار 542، سندھ میں 2 لاکھ 76 ہزار 670، خیبر پختونخوا میں ایک

لاکھ 12 ہزار 140، بلوچستان میں 21 ہزار 477، گلگت بلتستان میں 5 ہزار 247، اسلام آباد میں 72

ہزار 613 جبکہ آزاد کشمیر میں 16 ہزار 327 کیسز رپورٹ ہوئے۔ملک بھر میں اب تک ایک کروڑ

14 لاکھ 83 ہزار 643 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 52 ہزار 402 نئے

ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 6 لاکھ 86 ہزار 488 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 4 ہزار 682

مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 157 افراد جاں بحق ہوئے

جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 16 ہزار 999 ہوگئی۔ پنجاب میں 7 ہزار 897، سندھ

میں 4 ہزار 587، خیبر پختونخوا میں 3 ہزار 66، اسلام آباد میں 657، بلوچستان میں 230، گلگت

بلتستان میں 104 اور ا?زاد کشمیر میں 458 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔، گزشتہ چوبیس گھنٹوں

میں مزید دو بچے جان کی بازی ہار گئے، اب تک1 سے 10 سال تک کے 47 بچے جاں بحق ہوچکے

ہیں۔کورونا کی پہلی لہر میں 30 جولائی 2020 تک 12 بچے، یکم اگست 2020 سے رواں سال 31

جنوری تک 21 بچے جبکہ یکم اپریل سے اب تک کورونا کے باعث 7 بچے جان بحق ہوچکے ہیں۔

کورونا سے جاں بحق ہونے والے بچوں میں مجموعی اموات کی تعداد 47 ہو چکی ہے۔دوسری طرف

پنجاب حکومت نے ایس اوپیزپرعمل کرانے کیلئے پاک فوج کی خدمات مانگ لیں، پاک فوج کے جوان

لاہور سمیت 5اضلاع میں تعینات ہوں گے، ہفتہ کو محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے ایس

اوپیزپرعمل کرانے کیلئے پاک فوج کی5کمپنیوں کی خدمات مانگ لیں،پاک فوج کے جوان ضلعی

انتظامیہ کیساتھ ایس اوپیزپرعمل کرائیں گے ، پاک فوج طلب کرنے کے لئے وفاقی وزارت داخلہ کو

خط لکھا گیا ہے، این سی او سی کا حکم نامہ صوبوں کو ارسال کر دیا گیا جس کے تحت کورونا کے

حوالے سے نئی پابندیاں 17 مئی تک نافذ العمل رہیں گی۔این سی او سی فیصلوں کی روشنی میں اسلام

آباد میں پابندیوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق اسلام آباد میں سکولز، کالجز

سمیت تمام تعلیمی ادارے عید تک بند ہوں گے۔ ریسٹورنٹس، ہوٹلز پر ان ڈور، آؤٹ ڈور ڈائننگ مکمل

بند، صرف ٹیک اوے کی اجازتہ ہوگی۔نوٹیفکیش میں مزید کہا گیا کہ شام 6 سے صبح سحری تک ہر

قسم کی کاروباری سرگرمیاں ممنوع ہوں گی،۔وفاقی دارالحکومت میں ہفتہ، اتوار کاروباری سرگرمیاں

معطل اور مکمل لاک ڈاؤن ہوگا۔ سرکاری و نجی دفاترمیں نصف عملے، صبح 9 سے دن 2 بجے تک

کام کی اجازت ہوگی۔دوسری طرف کورونا کے تدارک کیلئے قائم نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این

سی او سی)نے واضح کر دیا ہے کہ اگر کورونا کیسز میں اضافے والے شہروں میں موجودہ حالات

برقرار رہے اور ہسپتالوں پر دبا بڑھا تو تمام فریقین کی مشاورت کے بعد لاک ڈان لگایا جاسکتا ہے۔

لاک ڈاؤن کے دوران تعلیمی اداروں کی مکمل بندش، انٹر سٹی ٹرانسپورٹ، مالز اور مارکیٹس کو بند

کرنے کی تجاویز ہیں، صوبائی حکومت کی درخواست پر رینجرز، پاک فوج اور ایف سی کی خدمات

فراہم کی جائیں گی۔ ہفتہ کووفاقی وزیر اسد عمر کی زیر صدرات این سی او سی کا اجلاس ہوا جس

میں بین الصوبائی پبلک ٹرانسپورٹ کی ہفتے میں دو دن کی بندش میں 17 مئی تک توسیع کر دی گئی۔

اجلاس کے اعلامیے کے مطابق کورونا کے پھیلا والے شہروں میں لاک ڈاون کی تجاویز پر غور کیا

گیا ۔لاک ڈاون کا فیصلہ تمام فریقین سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا، لاک ڈان کا مقصد ایس او پیز

کے نفاذ کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہوگا، لاک ڈان کے دوران مارکیٹوں ، شاپنگ

مالز ، شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ اور تعلیمی ادارے مکمل بند کرنے کی تجاویز ہیں، صوبائی

حکومتوں کی درخواست پر فوج ، ایف سی ، رینجرز کے ذریعے مدد فراہم کی جائیگی۔اجلاس میں

آکسیجن کی فراہمی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ،آکسیجن کی سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے اس کی

مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے ،کورونا کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر مزید 6901 بیڈز فراہم

کیے جاچکے ہیں، فورم کی جانب سے ہیلتھ کیئر سہولیات کی فراہمی پر نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ

اتھارٹی(این ڈی ایم اے) کی کاوشوں کو سراہا گیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ این ڈی ایم اے کی جانب سے

اب تک 2811 آکسیجن بیڈز، 431 وینٹیلٹرز، 1196 آکسیجن سیلنڈرز ، 1504 فنگر پلس آکسیمٹرز بھی

فراہم کیے جاچکے ہیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ سائنو فارم کی 5 لاکھ خوراکیں پی اے ایف کے

خصوصی طیارے کے ذریعے آج پاکستان پہنچ جائیں گی،60 سال سے زائد عمر کے افراد کو واک ان

ویکسین لگانے کی سہولت دے دی گئی ہے۔ خیبرپختونخوا میں تعلیمی ادارے دوبارہ بند کرنے کا

اعلامیہ جاری کردیا گیا ،نویں سے بارہویں تک تعلیمی ادارے پیر26 اپریل سیعید تک بند ہوں گے۔

صوبائی محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق 5 فیصد سے زائد شرح کے

علاقوں میں اسکول بند ہونگے،نویں اور بارہویں تک تعلیمی ادارے 26 اپریل سے عید تک بند

ہونگے،مزارات،سینما ہاؤسز،کھیل و ثقافت اوردیگر سرگرمیوں پربھی پابندی ہوگی۔اعلامیہ کے مطابق

الاضلاعی ٹرانسپورٹ میں پچاس فیصد سواریاں سفر کرسکیں گی،تمام سرکاری ونجی دفاترمیں پچاس

فیصدعملہ دفاتراورنصف گھروں سے کام کرے گا۔این سی او سی کے فیصلوں کے مطابق بازار اور

مارکیٹیں شام 6 بجے سے سحری تک بند رہیں گی وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور سربراہ این

سی او سی اسد عمر کا کہنا ہے کہ 60 سے 64 سال کے افراد کے لئے کل سے واک اِن ویکسینشن کا

آغاز ہوگا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں سربراہ این سی او سی اسد عمر نے

کہا ہے کہ 60 سے 64 سال کے افراد کے لئے کل سے واک اِن ویکسینشن کا آغاز ہوگا، 65 سال اور

زائد العمر شہریوں کے لیے واک اِن ویکسینشن پہلے سے ہی جاری ہے، تمام رجسٹرڈ شہری جو 60

سال یا زائد عمر کے ہیں وہ ویکسینشن سینٹر جا کر ویکسین لگوا سکتے ہیں، ویکسی نشن سینٹرز

اتوار کو بھی کْھلے رہیں گے۔دریں اثناپاکستان میں آکسیجن بنانے والی کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ

کورونا کی موجودہ لہر کے دوران اگر آکسیجن کی صنعتی شعبے کو فراہمی نہ روکی گئی توہسپتالوں

میں شدید کمی ہو سکتی ہے۔حکام نے یہ خطرہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگرہسپتالوں کو مسلسل آکسیجن

کی فراہمینہہوئی تو بھارت جیسی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ آکسیجن بنانے والی کمپنیوں کا کہنا

ہے کہ وہ عام حالات میں ایک مہینے کا اسٹاک رکھتے ہیں لیکن موجود صورتحال میں انہیں روزانہ

کی بنیاد پرہسپتالوں کو آکسیجن فراہم کرنا پڑ رہی ہے۔پاکستان آکسیجن لمیٹڈ کے مطابق ملک میں پانچ

کمپنیاں ہیں جو اسپتالوں کو آکسیجن فراہم کرتی ہیں، موجودہ حالات میں وہ اپنی 100 فیصد پیداوار

دے رہی ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد میں کورونا کیسز بڑھے تو آکسیجن بنانے والی

کمپنیوں پر دباؤ بڑھ جائے گا۔جبکہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے عوام سے بہت زیادہ احتیاط

کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کورونا کی نئی لہر پہلے سے زیادہ مہلک ہے اور تیزی سے پھیل رہی

ہے،گزشتہ روز صدر عارف علوی کی زیر صدارت کورونا صورتحال سے متعلق اجلاس ہوا، اجلاس

میں گورنر سندھ ، علی حیدر زیدی ، سیف اﷲ ابڑو،جے پرکاش ، فردوس شمیم ، خرم شیر زمان ،

حلیم عادل شیخ اور بلال غفار سمیت دیگر شریک ہوئے،اجلاس میں وزیر منصوبہ بندی ، ترقی و

خصوصی اقدامات اسد عمر نے صدر مملکت کو بریفنگ دی، صدر پاکستان عارف علوی نے عوام

سے بہت زیادہ احتیاط کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کورونا کی نئی لہر پہلے سے زیادہ مہلک ہے

اورتیزی سے پھیل رہی ہے ، حکومت کو ایک بار پھر آپ سے تعاون درکار ہے،سب سے گزارش ہے

احتیاطی تدابیر پر عمل کریں، چند احتیاطی تدابیر اختیار کرکے عوام اپنے پیاروں اور ہم وطنوں کوبچا

سکتے ہیں،

کورونا سے ریکارڈ ہلاکتیں

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply