کوئی مقدس گائے نہیں 0

کوئی مقدس گائے نہیں، سپریم کورٹ حکم دے ہم ایکشن لیں گے، عمران خان

Spread the love

کوئی مقدس گائے نہیں

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) سپریم کورٹ نے 4 ہفتوں میں سانحہ اے پی ایس کے ذمہ داروں

کے تعین کا حکم دیتے ہوئے وزیراعظم سے اقدامات کی رپورٹ طلب کرلی۔ بدھ کو وزیراعظم عمران

خان سپریم کورٹ کے حکم پر سانحہ آرمی پبلک اسکول از خود نوٹس کے دوران عدالت میں پیش

ہوئے، اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید اور دیگر وزرا اور اہم حکام بھی موجود تھے۔ جب

سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ وزیراعظم صاحب آپ آئیں۔ عدالتی استفسار پر

وزیر اعظم نے کہا کہ جب یہ واقعہ ہوا تو میں فورا پشاور پہنچا، میں تو اس وقت حکومت میں نہیں

تھا، سانحے کے وقت صوبہ میں ہماری حکومت تھی، ہم نے ہر ممکن اقدامات اٹھائے۔ جسٹس قاضی

امین نے ریمارکس دیئے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق آپ تو ان لوگوں سے مذاکرات کررہے ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ رپورٹ کے مطابق کوئی خاص اقدامات نہیں اٹھائے

گئے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئین پاکستان میں عوام کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے،

ریاست نے بچوں کے والدین کو انصاف دلانے کے لیے کیا کیا؟ اب تو آپ اقتدار میں ہیں، مجرموں کو

کٹہرے میں لانے کے لیے آپ نے کیا کیا؟ ہمیں آپ کے پالیسی فیصلوں سے کوئی سروکار نہیں، ہم یہ

پوچھ رہے ہیں کہ اتنے سال گزرنے کے بعد بھی مجرموں کا سراغ کیوں نہ لگایا جا سکا؟۔جسٹس

اعجاز نے کہا کہ والدین کو مطمئن کرنا ضروری ہے، والدین چاہتے ہیں اس وقت کے حکام کے

خلاف کارروائی ہو۔ وزیراعظم عمران خان نے کیس کی سماعت کے روران روسٹرم پر آکر کہا کہ

میں قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہوں۔ وزیراعظم نے عدالت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ

ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں ہے، آپ حکم کریں ہم ایکشن لیں گے۔ وزیراعظم نے عدالت کو

بتایاکہ واقعہ کے دن ہی پشاور گیا تھا، اسپتال جا کر زخمیوں سے بھی ملا، واقعہ کے وقت ماں باپ

سکتے میں تھے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت جو بھی مداوا کرسکتی تھی کیا، والدین

کہتے ہیں ہمیں حکومت سے امداد نہیں چاہیے، سانحہ کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا، دہشتگردی

کے خلاف جنگ جیتی۔ عدالت نے 20 اکتوبر کے حکم نامے پر عملدرآمد کی ہدایت کی جس پر

وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ کو انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ وزیراعظم ہیں، جواب آپ کے پاس ہونا چاہیے، اس پر عمران خان

نے چیف جسٹس سے مکالمہ کیا کہ ایک منٹ جج صاحب، آپ ٹھہر جائیں۔ وزیراعظم عمران خان کا

کہنا تھا کہ بچوں کے والدین کو اﷲ صبر دے گا، ہم معاوضہ دینے کے علاوہ اور کیا کرسکتے تھے،

میں پہلے بھی ان سے ملا تھا، اب بھی ان سے ملوں گا، یہ پتا لگائیں کہ 80 ہزار افراد کس وجہ سے

مارے گئے، یہ بھی پتا لگائیں کہ 480 ڈرون حملوں کا ذمہ دار کون ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے

وزیراعظم سے مکالمہ کیا کہ یہ سب پتا لگانا آپ کا کام ہے، آپ وزیراعظم ہیں، بطور وزیراعظم ان

سارے سوالوں کا جواب آپ کے پاس ہونا چاہیے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اے پی ایس لواحقین کا دکھ ہے

تو 80 ہزار لوگوں کا بھی ہمیں دکھ ہے، آپ اے پی ایس معاملے پر اعلی سطح تحقیقاتی کمیشن بنادیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ہر شہید ہونے والا ہمارا ہیرو ہے ، ہمارا نقصان ہوا ہے

وفاقی حکومت نے جو کاروائی کرنی ہے کرے۔ سپریم کورٹ نے 4 ہفتوں میں سانحہ اے پی ایس کے

ذمہ داروں کے تعین کا حکم دیتے ہوئے وزیراعظم سے اقدامات کی رپورٹ طلب کرلی، عدالت نے

وفاقی حکومت ذمہ داران کے خلاف کاروائی کے عمل میں بچوں کے والدین کو شامل کرے۔ قبل ازیں

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزارر احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فاضل بینچ نے سانحہ

آرمی پبلک اسکول از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت عدالت نے اٹارنی جنرل سے

استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم نے عدالتی حکم پڑھا ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیراعظم کو

عدالتی حکم نہیں بھیجا تھا، وزیراعظم کو عدالتی حکم سے آگاہ کروں گا، چیف جسٹس نے ریمارکس

دیئے کہ وزیراعظم کو بلائیں ان سے خود بات کریں گے، ایسے نہیں چلے گا۔ چیف جسٹس نے

ریمارکس دیئے کہ انٹیلی جنس پر اتنا خرچ ہورہا ہے لیکن نتائج صفر ہیں، اپنے لوگوں کے تحفظ کی

بات آئے تو انٹیلی جنس کہاں چلی جاتی ہے؟ بچوں کو اسکولوں میں مرنے کے لئے نہیں چھوڑ

سکتے، چوکیدار اور سپاہیوں کے خلاف کارروائی کر دی گئی، اصل میں تو کارروائی اوپر سے

شروع ہونی چاہیے تھی، اوپر والے تنخواہیں اور مراعات لے کر چلتے بنے، کیا سابق آرمی چیف اور

دیگر ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج ہوا؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ سابق آرمی چیف اور ڈی

جی آئی ایس آئی کے خلاف انکوائری رپورٹ میں کوئی فائنڈنگ نہیں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے

ریمارکس دیئے کہ اداروں کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ قبائلی علاقوں میں آپریشن کا رد عمل آئے گا،

سب سے نازک اور آسان ہدف سکول کے بچے تھے، یہ ممکن نہیں کہ دہشت گردوں کو اندر سے مدد

نہ ملی ہو۔ دوران سماعت عدالت میں ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا بھی تذکرہ ہوا۔ جسٹس قاضی امین نے

ریمارکس دیئے کہ کیا اصل ملزمان تک پہنچنا اور پکڑنا ریاست کا کام نہیں؟ اطلاعات ہیں کہ ریاست

کسی گروہ سے مذاکرات کررہی ہے۔بعد ازاں سپریم کورٹ میں سانحہ آرمی پبلک سکول کیس کی

سماعت پر وزیراعظم عمران خان کی پیشی کے بعد وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اعلیٰ

سطحی اجلاس ہوا، اجلاس میں ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید، اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد

جاوید خان، وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور حکومتی قانونی ٹیم کے ارکان نے شرکت کی۔

اجلاس میں سانحہ اے پی ایس کے متعلق اٹارنی جنرل نے شرکاء کو بریفنگ دی۔ اس موقع پر

وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دوران سماعت عدالت کے بلانے پر عدالت جانے کا فیصلہ

خود کیا، عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور جب بھی بلائے گی پیش ہوں گا اور عدالت کے ہر حکم کی

پاسداری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس میں شہید بچوں کے اہلخانہ کے ساتھ ان کے

غم میں برابر کے شریک ہیں اجلاس میں وزیراعظم نے سانحہ اے پی ایس پر عدالتی احکامات پر

عملدرآمد کو یقینی بنانے کا عزم کا اظہار کیا گیا۔

کوئی مقدس گائے نہیں

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply