aik foji khani jtnonline1

کوئی تلاش کرنا چاہے تو تلاش کر سکے نہ۔۔۔چن چن کے میرے ٹکڑے پوری لاش کر سکے نہ

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک فوجی کی کہانی آخری قسط …. کوئی تلاش کرنا چاہے

جن دو گاڑیوں کو بھیجا جا رہا تھا ان میں میں اور میرا لنگوٹیا یار اکرام تھا

ہم دونوں حالات کی کرختی سے بے پرواہ باتیں کرتے جا رہے تھے

ہماری گوادر کی طرف حرکت کی اطلاع بی ایل اے کے دہشت گردوں تک پہنچ

چکی تھی

وہ ایک پہاڑی درہ تھا ہمارے دونوں طرف پہاڑ تھے ہم آگے والی گاڑی میں

تھے

پچھلی گاڑی کے درمیان ہم نے جان بوجھ کے فاصلہ رکھا ہوا تھا جو کہ ایسے

علاقوں میں جنگی حکمتِ عملی کے طور پہ لازمی ہوتا ہے

یہ بھی پڑھیں : . . ۔ . . بڑی ہی عجیب قسم کی فوج تھی . . ۔ . . قسط نمبر 3
———————————————————————

اچانک ہمارے بالکل سامنے سے گولیوں کی بوچھاڑ آئی اور ہمارے فرنٹ سیٹ

پہ بیٹھے میجر بابر صاحب کا سینہ چیر کے نکل گئی

سب کچھ ایک دم ہوا

دوسرے ہی لمحے ایک اور بوچھاڑ آئی جس میں ایک نے اکرام کے سر کو پار

کیا اور وہ چند ہی منٹوں میں اللّٰہ کو پیارا ہو گیا

مجھی چار گولیاں لگی تھی

پہلے پہل تو مجھے کچھ اثر نہ ہوا صرف کوئی چیز جسم کو کراس کرتی ہوئی

محسوس ہوئی

پر چند ساعتوں بعد میرے جسم میں شدید جلن ہونا شروع ہو گئی جو وقت

گزرنے کےساتھ شدید تر ہوتی جا رہی تھی

میں بڑی جگہوں پہ غازی بنا تھا پر آج شاید اس قربانی کا دن آ پہنچا تھا

اچانک میری نظر اکرام پہ پڑی

وہ شہید ہو چکا تھا

اس کی کھلی آنکھیں شاید حضرت عزرائیل علیہ السلام سے التجا کر رہی تھیں

کہ اس کا باپ اس کے پیدا ہونے سے دو مہینے پہلے ایک حادثے میں چل بسا

تھا اور اسکی ماں نے اپنے اکلوتے اکرام کیلئے اپنی زندگی وقف کر دی تھی اور

بھری جوانی کے باوجود شادی تک نہیں کی تھی

اب اکرام بڑا ہو چکا تھا

اسکی ماں اسکی فوراً شادی کرنا چاہتی تھی

اسکی منگنی اٹک شہر میں اس کے ماموں کے گھر ہو چکی تھی

میں نے جیسے ہی اپنے مظلوم لنگوٹیے یار اکرام کو دیکھا کہ وہ شہید ہو چکا

ہے تو جیسے میں اپنے تمام درد کو بھول چکا تھا

میں کھڑا ہوا اور پوری جان لگا کے گاڑی پہ لگی مشین گن کا فائر کھول دیا

دہشت گرد ہمارے گاڑی کے انجن پہ مسلسل گولیاں چلا رہے تھے جس کی

وجہ سے گاڑی کے اگلے حصے کو آگ لگ چکی تھی

دورانِ جھڑپ اچانک میری نظر ایک کیمرے پہ پڑی جو دہشت گردوں نے اپنے

ساتھ ٹرائی پاڈ پہ نصب کیا ہوا تھا

شاید وہ ہماری ویڈیو بنا رہے تھے اور ایک ایک شہادت کی قیمت وصول کرنے

کیلئے ثبوت اکٹھے کر رہے تھے

اسی دوران ہمارے پیچھے آنے والی گاڑی بھی پہنچ چکی تھی میری ہمت بندھی

پر ان کو بھی پوزیشن لینے کا موقع نہیں ملا

دہشت گردوں کے پاس سنائپر بھی تھیں

ایک گولی میرے کان کے پاس سے گزر گئی

میں اور محتاط ہو کے فائرنگ کرنے لگا پر میرا خون بہت زیادہ بہہ چکا تھا

مجھے اپنی یونیفارم خون کی وجہ سے ٹھنڈی لگنے لگی تھی

اچانک پھر وہ گولی آ ہی گئی جس ساٹھ روپے کی گولی پہ میرا نام لکھا ہوا تھا

دل ۔۔۔۔۔ ایک ہی تو تھا۔۔۔۔۔اسکے پار ہو گئی

کلمہ منہ پہ جاری ہوا پر آدھا ہی پڑھ سکا تھا کہ زبان بند ہو گئی اور دماغ میں

پورا کلمہ دو دفعہ دہرایا

مہلت ختم ہوئی

میں بلندیوں کی طرف تیزی سے پرواز کر رہا تھا اور اپنے جوان جسم کو گاڑی

میں پڑے دیکھ کے حسرت کر رہا تھا کہ کاش میں باغیوں کی بجا ئے انڈیا کے

کسی ٹینک کے گولے کا شکار ہوتا۔۔۔۔۔ایک ہی تو جان تھی وہ بھی بھری جوانی

میں گھر سے دور ان ویرانوں میں جسم سے نکلی تھی

کیا انصاف تھا

کاش یہ لوگ اپنے ہی ملک کے محافظوں کو بھارت اسرائیل اور امریکہ سے

مقابلے کیلئے بچا کے رکھتے

پر یہ لوگ ہی تو ان کا آلہِ کار بن چکے تھے

میرا جسم دو دن بعد برفوں میں ڈھکا میرے گھر پہنچ چکا تھا

پہلے پہلے تو بہت کہرام مچا

کیا ماں کیا بہنیں کیا بھائی

سب نے خوب خوب چلا چلا کے میری روح کو تکلیف پہنچائی

پر اصل تکلیف ابھی رہتی تھی

ابھی جنازہ بھی نہیں ہوا تھا کہ میرا وہی بھائی جس نے بجٹ کا نام غلط استعمال

کر کے میری تذلیل کی تھی وہ کیپٹن صاحب کے پاس آیا اور بولا کہ اب حکومت

کیا کرےگی ( مطلب میری لاش پہ سودا ہو رہا تھا کہ کتنے پیسے مل سکتے ہیں

حکومت کی طرف سے )

ان کو حکومت نے بعد میں 25 لاکھ دیئے جس سے انہوں نے بہت پیارا کوٹھی

نما مکان بنایا اور آج بھی اس میں خوشی خوشی رہ رہے ہیں

کیا خوب مذاق تھا ایک شہید کےساتھ کہ اس کا جسم تک ابھی قبر میں نہیں اترا

تھا

جنازہ گاہ لے آیا گیا

وہ پروفیسر دوست بھی جنازے میں موجود تھا

اگلی صف میں کھڑا تھا میرے بھائیوں کو ہمدردی جتانے کیلئے

جیسے ہی ہمارے مفتی صاحب نے کہا کہ یہ ایک ایسے جوان کا جنازہ ہم پڑھ

رہے ہیں جس نے اپنے ملک کیلئے شہادت کو سینے سے لگایا جو ہمارے محلے

کا خوبصورت نوجوان تھا اور غیر شادی شدہ تھا

مفتی صاحب باتیں کر رہے تھے اور میرا پروفیسر دوست بول پڑا کہ مفتی

صاحب اتنی بات تھی تو فوج میں جانا ہی نہیں چاہیے تھا اسکو تنخواہ کیلئے مرا

ہے،اسلئے آپ باتیں ختم کر کے جنازہ پڑھائیں

یہ سننا تھا کہ میرا تابوت میں پڑا بے جان جسم تک لرز اٹھا

اللہ سے بہت التجا کی کہ ایک دفعہ دنیا میں جانے دے تاکہ میں ان گھر کے

سب سے بڑے دشمنوں کو ٹھکانے لگا کے اپنا ملک ان سے پاک کر دوں پر اللہ

کی طرف سے کہاں اجازت ملتی ہے کہ انسان دنیا میں دوبارہ آ جائے

میں ایک پاگل فوج کا حصہ بن کے آج دفن ہو چکا تھا

میری ماں ایک مہینے تک روز شام کو دروازے کے اندر کھڑے ہو کے راستہ

دیکھتی تھی کہ کب کہاں سے میں آ جاوں

پھر سوائے میری ماں اور بہنوں کے سب مجھے بھول چکے تھے

ہاں واقعی میں وہ فوج پاگل تھی

جو ہر کام کو اپنی زمہ داری سمجھ کے پہنچ جاتی تھی

کیا ہمارا کام تھا ملک کے اندر وزیرستان، لورالوئی یا گوادر جا کے دفاع کرنا؟

کیا پولیس اور باقی ادارے نہیں تھے

کیوں ہم ہی تھے ہر جگہ قربان ہونےوالے

کیوں ہر جگہ مارنے کیلئے ہی اسلحہ رکھا جاتا تھا

ہمارے تابوتوں میں ہمارے کٹے ہوئے سر روانہ ہورہے تھے اور اہلِ وطن

ہماری تنخواہیں گِن رہے تھے

ہمارے کان کے پاس سے گولیاں گزر رہی تھیں اور ہمارے لوگ ہمارے بارے

میں مجلسیں لگا لگا کے فضول قسم کی باتیں تلاش کر کے ہمارے خون کی تذلیل

کر رہے تھے

ہمارے سینوں سے گولیاں پار ہو رہی تھیں

پرپھر بھی ہم میناروں کی مانند دشمن کے آگے سینہ سپر کھڑے تھے جب تک

کے آخری سانس نہ نکل گیا

ہم لوگ پاکستان کی دفاعی سرحدوں کے محافظ تھے

ہم نے جن پڑھے لکھے اساتذہ اور پروفیسروں کو پاکستان کی نظریاتی سرحدوں

کا محافظ سمجھا وہ اپنے لیکچروں میں طلبہ کو دشمن کو پہچاننے کی بجائے

تنقید کے نام پہ شہیدوں کے خون سے آنکھ مچولی کھیلنا سکھا رہے تھے

کیوں ہر کسی کو تنقید کیلئے پاکستان کے محافظ ہی ملے تھے

کیوں پاکستان کے دشمنوں کا نام آتے ہی ایسے وطن فروش چپ ہو جاتے تھے یا

ان کے فلمی ہیروز کی تعریفوں کے پل باندھ دیتے تھے جنکی زیادہ تر فلمیں

پاکستان اور پاکستانی فوج کےخلاف ہوتی تھیں

کیا ہمارا قصور وطن کیلئے اپنی جوانیاں قربان کر کے شہید یا اپاہج ہونا ہی تھا

یا واقعی محافظوں کا محافظ کوئی نہیں ہوتا

یا پھر صرف پاکستان میں ہم ہی سستے ہیں

اور”ہمارا کوئی نہیں ہوتا“

آخر میں اللہ کے حضور ایک ہی تمنا ہے کہ

کوئی تلاش کرنا چاہے تو تلاش کر سکے نہ۔۔۔چن چن کے میرے ٹکڑے پوری

لاش کر سکے نہ ( ختم شد )

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

کوئی تلاش کرنا چاہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply