کوئٹہ خواتین پولیس کی جنسی ہراسانی کا نشانہ بننے والی مظلوم خاتون کون؟

کوئٹہ خواتین پولیس کی جنسی ہراسانی کا نشانہ بننے والی مظلوم خاتون کون؟

Spread the love

کوئٹہ(جتن آن لائن نیوز) کوئٹہ خواتین پولیس

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں خاتون پولیس انسپکٹر کے ہاتھوں

ظلم و تشدد اور جنسی ہراسانی کا نشانہ بننے والی مبینہ قتل کی ملزمہ خاتون،

( ب، ص) نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں انکشاف کیا ہے کہ اسے خواتین پولیس

اہلکاروں کے ہوتے ہوئے، نہ صرف مرد پولیس اہلکار مجھ پر تشدد کیلئے آتے

تھے، بلکہ بعض اوقات مدعی پارٹی کے لوگ بھی تشدد کے وقت موجود ہوتے

تھے، ( ب ص ) کا جن کی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پولیس تحویل

کے دوران نہ صرف برہنہ ویڈیو بنوائی گئی، بلکہ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی

اپ لوڈ کی گئی تھی، نے ویڈیو پیغام میں انہوں نے خود پر عائد الزام کو مسترد

کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس واقعے میں ملوث نہیں۔

=–= خواتین سے متعلق مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

خاتون( ب ص) کا دعویٰ ہے کہ ان پر بچے کے قتل کا جھوٹا الزام لگایا گیا۔ جب

مجھے پتہ چل گیا کہ میرے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے تو میں خود پولیس

تھانے گرفتاری پیش کرنے گئی۔ انھوں نے کہا کہ بچے کے قتل کا ناجائز الزام

لگانے کے علاوہ مجھے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بجلی کا کرنٹ دینے کے

علاوہ مجھے بجلی کے پنکھے سے لٹکایا جاتا تھا۔ برف پر بٹھانے کے علاوہ

میرے اوپر پانی بھی ڈالا جاتا تھا۔ انھوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ تفتیش کے

نام پر تشدد کے دوران مدعی پارٹی کے لوگ بھی موجود ہوتے تھے۔ ان کا کہنا

تھا کہ مجھ پر یہ دباﺅ ڈالا جاتا رہا کہ میں بچے کے قتل کا اعتراف کروں۔ واضح

رہے صائمہ بی بی کو 2020ء میں قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

=-،-= بلوچستان سے متعلق مزید خبریں ( =،= پڑھیں =،= )

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ویڈیو بنانے

کی حرکت، سزا پانے والی خواتین کی تھی،اور اس حوالے سے کوئی اور محرک

کار فرما نہیں تھا۔ اگرچہ تحقیقات کے بعد ویڈیو کے حوالے سے مجموعی طور

پر اب تک چھ خواتین پولیس اہلکاروں کیخلاف تادیبی کارروائی تو کی گئی ہے،

لیکن خاتون کی برہنہ ویڈیو کیوں بنوائی گئی اس کی وجوہات سامنے نہیں آئیں۔

=-،-= خاتون قاتل تھی تو عدالت سزا دیتی، پولیس نے ظلم کیوں کیا…؟

تاہم خاتون کے بھائی نے کہا ہے کہ اگر انکی بہن نے کوئی جرم کیا تھا تو عدالت

اسے سزا دیتی، لیکن عدالت کا حکم آنے سے پہلے دوران حراست ان کی بہن کو

کیوں ناانصافی کا نشانہ بنایا گیا۔ قتل کے الزام میں نامزد خاتون کا تعلق بلوچستان

کے خانہ بدوش قبائل سے ہے۔ یہ لوگ گرمیوں میں کوئٹہ آتے ہیں جبکہ سردیوں

میں واپس بلوچستان کے گرم علاقوں سبی اور نصیرآباد کی جانب نقل مکانی

کرتے ہیں۔ چونکہ غربت کے باعث کوئٹہ میں ان لوگوں کے پاس اپنے گھر نہیں

ہوتے، جس کی وجہ سے یہ لوگ کوئٹہ میں جھگیوں اور جھونپڑیوں میں رہائش

پذیر ہوتے ہیں۔ اس خاتون کا تعلق بھی ایک غریب خانہ بدوش خاندان سے ہے

اور جس وقت انہیں قتل کے ایک مقدمے نامزد کیا گیا، اس وقت وہ کوئٹہ میں

سمنگلی روڈ پر کلی جمعہ خان میں اپنے خاندان کے افراد کے ہمراہ خیموں اور

جھونپڑیوں میں رہائش پذیر تھی۔

=-،-= خاتون 3 بچوں کی ماں، روزی روٹی کیلئے گھروں میں کام کرتی تھی

خاتون (ب،ص) شادی شدہ ہیں اور تین بچوں کی ماں بھی ہیں۔ کوئٹہ میں اپنے

خاندان کا معاشی سہارا بننے کے لیے وہ گردونواح کے علاقے میں لوگوں کے

گھروں میں محنت مزدوری کرتی تھیں۔ خاتون سمنگلی روڈ پر جس گھر میں کام

کرتی تھیں، اس میں ستمبر 2020ء کو ایک تین سالہ بچے کے قتل کا واقعہ پیش

آیا تھا۔ بچے کے قتل کا مقدمہ اس کے والد کی مدعیت میں صائمہ بی بی کیخلاف

درج کیا گیا تھا۔ جناح ٹاﺅن پولیس سٹیشن میں درج ایف آئی آر کے مطابق مدعی

نے الزام عائد کیا کہ صائمہ بی بی نے گھر سے قیمتی زیورات ایک شاپر میں

ڈالنے کے بعد تین سالہ بچے کا گلا گھونٹا اور اسے پانی میں ڈبو کر ہلاک کیا۔

ایف آئی آر کے مطابق خاتون زیورات کے ساتھ فرار ہو رہی تھی کہ ان کے

سالے نے اسے دیکھ کر ان کا پیچھا کیا جس پر خاتون شاپر کو چھوڑ کر فرار ہو

گئی۔

=-= ذرا میری بھی سنو کے عنوان تحت پڑھیں مزید ( =-= سٹوریز =-= )

دوران حراست ملزمہ کی برہنہ ویڈیو بنوائی گئی، گرفتاری کے بعد خاتون کو

جناح ٹاؤن پولیس سٹیشن منتقل کیا گیا تھا۔ خاتون کی برہنہ رقص کرتی ہوئی ایک

ویڈیو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اپ لوڈ کی گئی تھی۔ ویڈیو کے منظر

عام پر آنے کے بعد اس سلسلے میں تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا، اور ڈی آئی جی

پولیس کوئٹہ کی جانب سے ایک خاتون پولیس افسر کو انکوائری کے لیے مقرر

کیا گیا تھا۔ تحقیقات کے مطابق یہ ویڈیو اس وقت بنائی گئی جب خاتون جناح

پولیس سٹیشن میں 15 سے 28 ستمبر 2020ء کے دوران ریمانڈ پر تھی۔ تحقیقات

کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ دوران حراست ملزمہ کو برہنہ ہونے اور

ایک سندھی گانے پر ناچنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ اسد

ناصر نے بتایا کہ خواتین کانسٹیبلز کیخلاف پہلے ہی کارروائی کرتے ہوئے ان

کو ملازمت سے برطرفی کی سزا دی گئی، تاہم خاتون انسپیکٹر کیخلاف جو

انکوائری کی تھی اس میں انھیں فرائض سے غفلت اور لاپرواہی کا مرتکب قرار

دیا تھا۔

=-،-= بلوچستان کی تاریخ میں خواتین پولیس اہلکاروں کیخلاف بڑی کارروائی

تحقیقات کی روشنی میں ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس محمد اظہر رانا نے خاتون

انسپیکٹر کو جبری ریٹائرمنٹ کی سزا دی۔ ڈی آئی جی کی جانب سے 11 ستمبر

2021ء کو جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق خاتون انسپیکٹر کو

صفائی کا پورا موقع دیا گیا، لیکن وہ اپنے دفاع میں کچھ پیش نہ کر سکی، جس

پر ان کو ملازمت سے جبری ریٹائرمنٹ کی سزا دی گئی۔ خاتون کو برہنہ رقص

کرانے کے حوالے سے جتنی بڑی تعداد میں خواتین پولیس اہلکاروں کیخلاف

کارروائی کی گئی وہ خواتین پولیس اہلکاروں کے حوالے سے بلوچستان میں اب

تک کی غالبا سب سے بڑی کارروائی ہے، لیکن تاحال پولیس کی جانب سے یہ

نہیں بتایا گیا کہ خاتون کو کیوں برہنہ رقص کرنے پرمجبور کیا گیا۔ تحقیقات

کرنے والی خاتون پولیس افسر سے جب فون پر رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ

اس سلسلے میں ایک ویڈیو انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان کی مشاہدے میں آئی

تھی۔ انھوں نے کہا کہ یہ ویڈیو ڈی آئی جی کوئٹہ کو بھیجی گئی تھی۔ ڈی آئی جی

نے تحقیقات کی ذمہ داری مجھے سونپی اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد

رپورٹ ڈی آئی جی کے حوالے کی گئی۔

=-،-= میری بہن کی برہنہ ویڈیو بنانے والوں کو سزاء جائے، بھائی

ان کا کہنا تھا کہ ملزمہ کے ساتھ بہت برا سلوک کیا گیا، جس پر ذمہ دار اہلکاروں

کے خلاف کارروائی کی گئی۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ بات ثابت نہیں

ہوئی کہ ان خواتین اہلکاروں نے کسی پولیس افسر کے کہنے پر ایسا کیا، بلکہ یہ

ان خواتین اہلکاروں کی اپنی حرکت تھی، جس پر ان کے خلاف تادیبی کارروائی

کی گئی۔ ملزمہ کے بھائی نے بتایا کہ ان کی بہن کے خلاف مقدمہ اسوقت عدالت

میں زیر سماعت ہے۔ ان کا کہنا تھا وہ محنت مزدوری کرنیوالے لوگ ہیں، اور ان

کے پاس عدالتوں میں مقدمات کی سکت نہیں، لیکن چونکہ ان کی بہن کو ایک

مقدمے میں پھنسایا گیا، جس کی وجہ سے اپنی صفائی کیلئے انہیں عدالت سے

رجوع کرنا پڑا۔ انھوں نے کہا کہ انھیں یہ توقع ہے کہ ان کیساتھ انصاف ہو گا،

لیکن عدالت کے فیصلے سے قبل ان کی بہن کو ظلم کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا

تھا کہ ان کی بہن کی ویڈیو بنانے اور اسے سوشل میڈیا پر ڈالنے کے پیچھے

ضرور کسی کا ہاتھ ہو گا، اس لیے اس ویڈیو کے بنانے کی محرکات کو سامنے

لانا چاہیے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ان کی بہن اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ ویڈیو

بنوانے میں جتنے بھی لوگ ملوث ہیں ان سب کے خلاف کارروائی کی جائے۔

کوئٹہ خواتین پولیس ، کوئٹہ خواتین پولیس ، کوئٹہ خواتین پولیس ، کوئٹہ خواتین پولیس

کوئٹہ خواتین پولیس ، کوئٹہ خواتین پولیس ، کوئٹہ خواتین پولیس ، کوئٹہ خواتین پولیس

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply