245

کنٹینراوررکاوٹیں ہٹا لی گئیں ، آزادی مارچ پنجاب میں داخل ہو گیا

سکھر(سٹاف رپورٹر) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے

کہا ہے کہ حکومت نے ناقص حکمت عملی کے باعث مسئلہ کشمیر کو بھی

مشکوک بنا دیا ہے، عوام کشمیر فروشوں کو اچھی طرح پہنچا چکے ہیںاور اسی

بنا پر ملک کے طول و عرض میں عوام کا جم غفیر حکومت کے خلاف نکل کھڑا

ہوا ہے۔ ہماری آٰواز کو بھی جبر کی بنیاد پر روکا جارہا ہے وزیراعظم عمران خان

کہتے ہیں کہ اظہار رائے اور جمہوریت پر کوئی پابندی نہیں، لیکن پیمرا جو

پابندیاں لگا رہا ہے اسے کیا نام دیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ

روز کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے نکالی گئی ریلی اور آزادی مارچ

سے شرکاء سے خطاب کے دوران کیا۔ اجتماع میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ

(ن)، اے این پی، جمعیت علمائے پاکستان سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے

رہنمائوں اور کارکنوں نے بھی شرکت کی۔ جبکہ جلسہ سے پاکستان پیپلز پارٹی

کے رہنما نثار کھوڑو، مسلم لیگ ن کے علی اکبر گجر، جے یو پی کے مولانا شاہ

اویس نورانی، جے یو آئی کے مولانا محمد امجد خان، مولانا راشد محمود سومرو،

مولانا عبدالقیوم، سینیٹر طلحہ محمود سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر

شرکاء نے گو عمران گو، گو نیازی گو، آزادی مارچ سویلین راج سمیت دیگر

نعرے بھی لگائے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جس انداز سے پیمرا ہماری نیوز

کانفرنس اور جلسوں کی کوریج پر قدغن لگا رہا ہے اس سے محسوس ہوتا ہے کہ

حکمران یہ نہیں کوئی اور ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران کو جانا ہوگا حکمرانوں نے

کشمیر پر جو سودا کیا ہے ہم اسے بہرطور رد کرتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ یہ کس

طرح ممکن ہے کہ قوم پر ظلم ہوتا رہے ہم قطعاً خاموش نہیںرہیں گے، انسانوں کا

سیلاب اسلام آباد کا رخ کر چکا اور جلد ایک بڑے طوفان کی شکل میں وفاقی

دارالحکومت میں داخل ہو جائے گا۔ انہوںنے کہا کہ ہم موجودہ حکومت کے ہر

طرح کے معاہدات اور سودے بازی کو تسلیم نہیں کرتے ہماری اس تحریک سے

ظالم حکمرانوں کو پیغام مل رہا ہے کہ عام آدمی کی زندگی اجیرن ہے، گرفتاریاں،

پابندیاں اور رکاوٹیں ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔۔آزادی مارچ سکھر سے ملتان

روانہ ہونے سے قبل جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ ’میدان جنگ سے ایک قدم

بھی پیچھے ہٹنا گناہ کبیرہ ہوتا ہے‘۔واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے پاکستان

پیپلزپارٹی (پی پی پی)، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این

پی) سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ہمراہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی ا?

ئی) کی حکومت کے خلاف کراچی سے گزشتہ روز ‘آزادی مارچ’ کا آغاز کیا تھا۔

آزادی مارچ کا آغاز کراچی میں سہراب گوٹھ سے ہوا جہاں جمعیت علمائے اسلام

(ف) کے علاوہ اپوزیشن کی تمام بڑی جماعتوں کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود

تھی۔

Leave a Reply