بغداد، امریکی میزائل حملے میں ایرانی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی سمیت 9افراد شہید

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بغداد(مانیٹرنگ ڈیسک)کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی

عراق کے دارالحکومت بغداد میں ہونے والے امریکی حملے میں ایران کی القدس

فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی سمیت9افراد شہید ہوگئے،بغداد ائیرپورٹ کے

کارگوٹرمینل کے قریب سڑک پر 2 گاڑیوںکو ڈرون طیاروں کے ذریعے میزائلوں

سے نشانہ بنایا جس میں ایک ایرانی کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی گاڑی

تھی،میزائل حملے کا نشانہ بننے والوں میںعراق کی پاپولرموبائلائزیشن فورس کے

ڈپٹی کمانڈر مہدی المہندس بھی شامل ہیںپاپولر فرنٹ نے اعتراف کیا کہ امریکا

اور اسرائیل ابومہدی المہندس اور قاسم سلیمانی پر حملے میں ملوث ہیں۔ امریکی

محکمہ دفاع کی جانب سے بھی اس حملے اور جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کی

تصدیق کر دی ہے کر۔ جنرل سلیمانی پر حملے کی تصدیق ہوتے ہی امریکی صدر

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی پرچم ٹوئٹ کیا۔ادھر حملے کے نتیجے میں عراق کی

پاپولر موبائلائزیشن فورس نے اپنے 9 افراد جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔

اس حملے کے بعد امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے اور

دنیا پر تیسری عالمی جنگ کے سائے منڈلانے لگے ہیں دوسری طرف ایرانی

سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے امریکا کو علی الاعلان کہا ہے کہ القدس کے

کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ ہر صورت لیا جائے گا، جنرل قاسم

سلیمانی کے قتل پر 3روزہ سوگ کا بھی اعلان کیا گیا، اس حملے کے فوری بعد

ایران قومی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں ایرانی فورسز کے اہم

کمانڈرز ، صدر حسن روحانی نے شرکت جبکہ ایران کے سپریم رہنما آیت اللہ

خامنہ ای نے پہلی با اس کونسل کے اجلاس میں شرکت کی،اجلاس میں امریکہ

کیخلاف جوابی کارروائی پر غور کیا گیاقبل ازیں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف

نے امریکی حملے پر سوشل میڈیا پر ردعمل میں کہا کہ جنرل سلیمانی پر حملہ کر

کے امریکا نے عالمی دہشتگردی کی۔جواد ظریف نے اپنے ٹوئٹر اکانٹ پر مزید کہا

کہ جنرل سلیمانی پر حملہ کر کے امریکا نے انتہائی خطرناک اور بے وقوفانہ اقدام

اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ جنرل سلیمانی کی فورس داعش، القاعدہ اور النصرہ کے

خلاف لڑائی میں سب سے موثر طاقت تھی۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اپنی

سرکش مہم جوئی کے نتائج کی ذمہ داری امریکا خود اٹھائے گا۔امریکی حملے میں

قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے بریگیڈیئر

جنرل اسماعیل قاآنی کو قدس فورس کا کمانڈر مقرر کردیا ۔غیر ملکی میڈیا کے

مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کی ذیلی تنظیم قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل

قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی

اجلاس ہوا ۔رپورٹ کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے پہلی بار نیشنل

سیکیورٹی کونسل اجلاس میں شرکت کی۔آیت اللہ خامنہ ای نے بریگیڈیئر جنرل

اسماعیل قاآنی کو قدس فورس کا کمانڈر مقرر کردیا ہے۔بریگیڈیئر جنرل اسماعیل

قاآنی قدس فورس کے نائب کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے تھے اور ان

کا شمار ایران کے اہم عسکری کمانڈروں میں ہوتا ہے اور انہوں نے 1980 کی

دہائی میں عراق ایران جنگ کے دوران اہم کردار ادا کیا تھا۔دوسری طرف ایران

کی طرف سے جوابی کارروائی کے خطرے کے پیش نظر امریکہ نے عراق سے

تمام امریک،ی شہریوں کو واپس بلا لیا ہے جبکہ عراق کے آئل فیلڈز کام کرنے

والے امریکیوں کو بھی واپس بلا لیا گیا ہے یرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت

کے بعد اسرائیل نے اپنی فوجوں کو الرٹ کردیا ہے ایران کی جانب سے ممکنہ

خطرے کے پیش نظر ہرمون پہاڑ کو بھی زائرین کیلئے بند کر دیا گیا ہے۔اسرائیلی

دفاعی حکام نے ٹوئٹر پر فیصلے کی تصدیق کی ہے تاہم گولن کی پہاڑیوں کے

متعلق فی الحال کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئیں۔ عراقی دارالحکومت بغداد کے

ایئرپورٹ پر امریکی ڈرون حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ کے

انتقال پر دنیا بھر سے ردعمل سامنے آنے رہا ہے۔امریکی ڈرون حملے میں ایرانی

جنرل کی ہلاکت پرچین بھی چپ نہ رہا۔چین نے امریکی کارروائی پر ردعمل دیتے

ہوئے فریقین بالخصوص امریکا سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔چینی

وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوآنگ نے کہا ہے کہ ہم متعلقہ فریقین خصوصا

امریکا سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریںاور ایسے اقدامات سے گریز

کریں جو کشیدگی کو ہوادیں۔فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے

ایران کی القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کی عراق میں امریکی ڈرون

حملے میں ہلاکت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سلیمانی کو’شہید’ قرار

دیا ہے۔ حماس نے جنرل سلیمانی کو ہلاک کرنے پر امریکا پر بھی کڑی تنقید کی

ہے۔۔حماس نے واقعے کو امریکا کی ‘وحشیانہ خونی’ کارروائی سے تعبیر کرتے

ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکا کے جارحانہ اقدامات سے خطے میں جاری

کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔ کمانڈر سلیمانی کا قتل غیر معمولی واقعہ ہے جو

جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہے۔جبکہ امریکی ڈرون حملے میں ایران کے

سرکردہ فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر احتجاج کے لیے ایران میں متعین

سوئس سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کیاگیا۔ امریکا اور ایران کے درمیان براہ

راست سفارتی رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے تہران میں تعینات سوئس سفارتکار

امریکی مفادات کی نگرانی کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔ایرانی دفتر خارجہ

کے ترجمان عباس موسوی کی ٹویٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی حکام نے سوئس

سفارتکار کو بتایا کہ بغداد میں قاسم سلیمانی اور دوسری اعلی فوجی قیادت پر

امریکی ڈرون حملہ دراصل واشنگٹن کی کھلی ریاستی دہشت گردی ہے۔ عباس

موسوی کے بقول امریکا اس ڈرون حملے کے نتائج کا مکمل ذمہ دار ہو گا۔ادھر

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے امریکی حملے میں ایرانی کمانڈر جنرل

قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے عراق کی ایک ویڈیو

شیئر کی جس میں عوام کو عراقی پرچم تھامے بھاگتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

ویڈیو کے ساتھ مائیک پومپیو نے کہا کہ ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر

عراقی عوام سڑکوں پر رقص کررہے ہیں۔۔امریکی ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر

نینسی پلوسی نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے واقعے سے خطے میں

کشیدگی خطرناک حد تک بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔نینسی پلوسی کا کہنا ہے کہ

امریکا اور دنیا اس کشیدگی گی کوبرداشت نہیں کر سکتے جہاں سے واپسی ممکن

نہ ہو۔امریکی سینیٹر کرس مرفی نے کہا ہے کہ سوال یہ ہے کہ کیا امریکا

کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے دوسرے طاقتور شخص کو قتل کر سکتا

ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ جانتے بو جھتے کیا گیا ہے، اس واقعے سے ممکنہ

طور پر وسیع پیمانے پر علاقائی جنگ چھڑنے کا خطرہ ہے۔دوسری طرف عراق

کی حکومت نے دارالحکومت بغداد میں امریکی حملے کے نتیجے میں ایرانی

جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر شدید رد عمل کا اظہا کیا عراقی عادل عبدالمہدی

نے کہا امرکی میزائل حملہ عراق اور امیکہ کے درمیان طے پانے والے معاہدے

کی شدید خلاف ورزی ہے حکومت اس معاہدے پر نظر ثانی کیلئے پارلیمینٹ سے

رجوع کرے گی عراقی وزارت خارجہ نے کہا یہ حملہ عراق کی سالمیت کی

صریح خلاف ورزی اور ملک کے وقار پر کھلا حملہ ہے ایسے حملوں سے خطے

میں کشیدگی بڑھے گی ،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق عراقی وزارت

خارجہ کے ترجمان نے حملے بعد جاری کیے گئے ایک بیان میں کہاکہ امریکی

کارروائی اس کی سالمیت کی صریح خلاف ورزی اور ملک کے وقار پر کھلا

حملہ ہے اورایسے کسی بھی حملے کی بھرپورمذمت کرتے ہیں،بیان میں کہاگیاکہ

ایسے حملوں سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی امریکی فضائی حملے میں ایرانی

کمانڈر کی ہلاکت کے بعد خطے میں بڑھنے والی کشیدگی پر عالمی طاقتوں نے

تشویش کا اظہار کیا ہے اور امریکا اور ایران سمیت تمام فریقین کو موجودہ

صورتحال پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے اور معاملات کو سفارتی چینل کے

ذریعے حل کرنے کی درخواست کی ہے۔ شام نے امریکی اقدام کو کی مذمت

کرتے ہوئے اسے مجرمانہ جارحیت قرار دیا اور کہا کہ امریکا نے خطے میں

خطرناک اشتعال انگیزی کا آغاز کردیا ہے۔برطانیہ نے موجودہ صورتحال میں

خطے کے تمام ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا

کہ یہ تنازع کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔برطانوی وزیر خارجہ ڈومینیک ریب نے

امریکی اقدام کی مذمت یا اس کی حمایت کیے بغیر کہا کہ ہم قاسم سلیمانی کی زیر

قیادت قدس فورس سے لاحق خطرات کو سمجھ چکے تھے۔جرمنی نے بھی

موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطی میں

صورتحال خطرناک حد تک بگڑ چکی ہے اور خطے میں تنازع کا محض سفارتی

حل ممکن ہے۔جرمن حکومت کے ترجمان الریک ڈیمر نے امریکی اقدام کی حمایت

تو نہیں کی لیکن انہوں نے اس کارروائی کو ایران کی جانب سے مستقل جارحیت

اور اشتعال انگیز کارروائیوں کا نتیجہ قرار دیا۔۔فرانس نے مشرق وسطی خصوصا

ایران اور عراق میں موجود اپنے باشندوں ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ عوامی

اجتماعات سے دور رہیں۔تہران میں فرانسیسی سفارتخانے کی جانب سے جاری

بیان میں کہا گیا کہ ہے کہ ایران کی جانب سے تین روزہ یوم سوگ کے اعلان کے

بعد ہم فرانسیسی شہریوں کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ اجتماعات سے دور رہیں اور

عوامی مقامات پر تصاویر لینے سے گریز کریں۔نیدرلینڈز نے بھی اپنے اپنے

باشندوں کو عراق سے نکلنے کی وارننگ جاری کردی ہے۔روس کی وزارت نے

بھی امریکی کارروائی میں ایرانی کمانڈر کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے

کہ اس کارروائی سے مشرق وسطی میں تنا میں اضافہ ہو گا۔روس کی خارجہ امور

کی کمیٹی کے سربراہ نے امریکی فضائی حملے کو غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ

کارروائی کرنے والوں کو جوابی نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔چین نے بھی ایرانی

کمانڈر کی ہلاکت کے بعد ہونے والی کشیدگی پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے

ہوئے امریکا سمیت تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا۔چین کی

وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے جمعہ کو اپنے بیان میں کہا کہ ہم

عراق کی آزادی اور علاقائی خودمختاری کے احترام کے ساتھ مشرق وسطی میں

امن و استحکام کا مطالبہ کرتے ہیں۔ادھر موجودہ کشیدہ صورتحال کے بعد اسرائیل

کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اپنا یونان کا دورہ مختصر کر کے وطن واپس لوٹ

گئے ہیں۔انہوں نے موثر اور فیصلہ کن فضائی کارروائی کے ذریعے ایرانی جنرل

کو ہلاک کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سراہا اور کہا کہ جس طرح

اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، امریکا نے بھی بالکل ایسا ہی کیا۔فرانس

کے نائب وزیر خارجہ ایمیلی ڈی مونٹ چیلن نے مقامی ریڈیو سے گفتگو کرتے

ہوئے کہا کہ ہم ایک مزید خطرناک دنیا کا سامنا کر رہے ہیں اور فوجی اشتعال

انگیزی ہمیشہ خطرناک ثابت ہوتی ہے، جب بھی اس طرح کارروائی ہوتی ہے تو

فوجی اشتعال انگیزی میں اضافہ ہوتا ہے۔

کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply