امریکی صدارتی انتخابات 2020ء مباحثہ، کمالاہیرس کے جوبیڈن پر تابڑتوڑ حملے

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

واشنگٹن( جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ)

امریکی صدارتی انتخابات 2020ء مباحثے میں کمالاہیرس نے سابق امریکی نائب

صدر جوبیڈن پر تابڑتوڑ حملے کرکے انہیں پسپائی پر مجبور، خود کو منوا لیا،

امریکی ریاست فلوریڈا کے ساحلی شہر میامی میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے دو

روزہ مباحثہ کے آخری روز کی قابل ذکر بات یہ رہی کہ اس میں کیلیفورنیا کی

خاتون سینیٹر کمالا ہیرس صدر اوبامہ کے تحت نائب صدر رہنے والے جو بیڈن

پر تابڑ توڑ حملے کرکے پورے پروگرام پر چھائی رہیں، مباحثے میں کمالا ہیرس

کے علاوہ سابق نائب صدر جوبیڈن، سینیٹر برنی سنیڈرس جو گزشتہ انتخابات میں

بھی ایک مضبوط امیداور تھے کےساتھ ساتھ انڈیا ناریاست کا میئر پیٹر بٹگگ،

ریاست کو لو ریڈو کے گورنر جان ہکن لوپر، ریاست کو لوریڈو کے ایک مئیر

مائیکل بینٹ، نیویارک کی خاتون سینیٹر کرسٹن حیلی برانڈ، کیلیفورنیا کے

کانگریس مین ایرک سوال ویل، کیلیفورنیا کی مصنفہ مارین ولیم سن اور نیویارک

کے اٹارنی انیڈریویانگ شامل تھے، امیدواروں میں زیادہ اہم جوبیڈن اور برنی

سینڈرس تھے، تاہم کمالاہیرس نے جوبیڈن کیساتھ زبردست بحث کی اورالزام

مزید پڑھیں:… امریکی صدارتی انتخابات 2020ء، ڈیموکریٹک کا مباحثہ، سینیٹر الزبتھ وارن فیورٹ

لگایا کہ جوبیڈن نسلی تعصب کا شکار ہیں جنہوں نے اپنی سیاست کے آغاز میں

سینیٹر کے طور پر 1970 کی دہائی میں سفید اور سیاہ فام بچوں کا میل جول

روکنے کیلئے الگ سکو ل اور الگ بسیں مختص کرنے کی تجویز پیش کی تھی،

کمالانے جوبیڈ ن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہوسکتا ہے آپ نسل پرستی کے حق

میں نہ ہوں لیکن آپ ماضی میں دو نسل پرست سینیٹر کے ہمراہ نسلی امتیاز پر

مبنی قانون تیار کرنے کی کوشش میں شامل رہے۔ جو بیڈن کا موقف یہ تھا وہ

ہمیشہ شہری حقوق کے علمبردار رہے ہیں اور نسل پرستی کے مخالف رہے ہیں

انہوں نے سیاہ اور سفید فام بچوں کیلئے الگ سکول اور الگ بسوں کی تجویز کی

حمایت کرنے کے الزام کی تردید کی۔ تاہم مباحثے کے دوسرے روز بھی

ڈیموکریٹک امیدواروں نے صدر ٹرمپ پر تنقید کا سلسلہ جاری رکھا اور ان کی

خصوصاً ہیلتھ کیئر کی پالیسی پر سخت نکتہ چینی کی۔ دوسرے روز کے ایک اہم

امیدوار سینیٹر برنی سینڈرس نے کمالاہیرس کی تائید کرتے ہوئے نجی انشورنش

کمپنیوں کا عمل دخل ختم کرنیکی حمایت کی اور مطالبہ کیا کہ ہیلتھ کیئر کا شعبہ

براہ راست حکومت کے کنٹرول میں آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا وہ ایک ایسا نظام

صحت لانا چاہتے ہیں جس سے ملک کے ہر طبقے کو برابر سہولتیں حاصل ہو

سکیں۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply