قومی اسمبلی، کلبھوشن یادو کے بارے میں جاری کیا گیا آرڈیننس پیش نہ ہوسکا

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد (جے ٹی این اآن لائن نیوز) کلبھوشن یادو

قومی اسمبلی اجلاس میں دوسرے روز بھی کلبھوشن یادو کے بارے میں جاری کیا

گیا آرڈیننس پیش نہ ہوسکا جبکہ وزیر قانون قانون فروغ نسیم نے ایوان میں

آرڈیننس کے بارے میں تفصیلی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی عدالت

انصاف کے فیصلے کی روشنی میں آرڈیننس جاری کیا گیا،یہ آرڈیننس نہ کسی

مخصوص شخص نہ این آر او ہے یہ ہائی سیکیورٹی ایشو ہے،اگر پاکستان قونصلر

رسائی نہیں دے گا تو بھارت عالمی دنیا میں شور مچائیگا اور اگر آرڈیننس نہ لاتے

تو بھارت سلامتی کونسل میں چلا جاتا،آرڈیننس لا کر پاکستان نے بھارت کے ہاتھ

کاٹ دئیے ہیں،حساس سکیورٹی معاملہ ہے، سیاست نہ کی جائے۔ جمعہ کو قومی

اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں ہوا،اجلاس میں وزیر قانون

فروغ نسیم نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے سلسلے میں جاری کیئے

گئے آرڈیننس پر تفصیلی وضاحت کی ۔انہوںنے کہاکہ پچھلے دنوں بھارتی را

ایجنٹ سے متعلق ایک آرڈیننس آیا،حقائق سے سب لوگوں کو آگاہ کرنا اپنی ذمہ

داری سمجھتا ہوں ،کچھ تاریخیں اس میں بہت اہم ہیں،3 مارچ 2016 کو کلبھوشن

کو گرفتار کیا گیا۔ فروغ نسیم نے کہاکہ اس وقت کی وفاقی حکومت نے ٹھیک

فیصلہ کیا ہوگا کہ قونصلر رسائی نہیں دینی، 8مئی 2017 کو بھارت کلبھوشن کیس

عالمی عدالت انصاف میں لے گیا ۔ انہوںنے کہاکہ عالمی عدالت انصاف نے

کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی دینے کا فیصلہ سنایا ،عالمی عدالت انصاف نے

کلبھوشن یادیو کو رہا کرنے کی بھارتی استدعا مسترد کی ۔ انہوںنے کہاکہ عالمی

عدالت انصاف کے فیصلہ کے پیش نظر آرڈیننس جاری کیا گیا،یہ آرڈیننس این آر

او نہیں ہے، این آر او پرویز مشرف نے جاری کیا تھا۔ انہوںنے کہاکہ اگر پاکستان

قونصلر رسائی نہیں دے گا تو بھارت عالمی دنیا میں شور مچائیگا،اگر آرڈیننس نہ

لاتے تو بھارت سلامتی کونسل میں چلا جاتا،آرڈیننس لا کر پاکستان نے بھارت کے

فواد چوہدری کی جہالت ہے جو اپنے آپ کو سائنس کا امام سمجھتے ہیں،مفتی منیب الرحمان

ہاتھ کاٹ دئیے ہیں۔ فروغ نسیم نے کہاکہ ہمیں انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے

فیصلوں کو تسلیم کرنا ہے،اگر ایسا نہیں کرتے تو بھارت ہمارے خلاف جا کر

پابندیاں لگوا سکتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اپوزیشن نے اعتراض کیا کہ آرڈینس بنانے

سے قبل ہمیں کیوں نہیں بتایا ،یہ کہیں نہیں لکھا کہ آرڈینس لانے سے قبل اپوزیشن

سے پوچھیں ،اس آرڈیننس کو کسی نے تکیے کے نیچے لکھ کر کسی نے نہیں بنایا

،سزا ختم آئی سی جے نے کی تو اس حکومت نے بھی نہیں کی ،اگر سزا ختم کی

گئی ہوتی تو میں آپکے ساتھ کھڑا ہوکر احتجاج کرتا ۔ فروغ نسیم نے کاہکہ کسی پر

کوئی الزام تراشی نہیں کرنا چاہتا ،میں نے کسی کو مودی کا یار کبھی نہیں کہا

،صرف وضاحت کررہا ہوں ،بطور وزیر قانون یہ میری ذمہ داری ہے ۔ انہوںنے

کہاکہ میرا فرض ہے کہ آپ کو حقائق بتاؤں، آپ بے شک سیاست کرلیں،حساس

سکیورٹی معاملہ ہے، سیاست نہ کی جائے۔ انہوںنے کہاکہ اٹارنی جنرل دفتر نے

آرڈیننس سے متعلق بین الاقوامی وکلا سے بھی رائے لی۔انہوںنے کہاکہ بین

الاقوامی وکلا کی رائے کی روشنی میں اسلام آباد ہائیکورٹ گئے،حکومت کا یہ

موقف نہیں فوجی عدالت کے فیصلہ کو ختم کیا جائے،میں اپوزیشن کے سوال کا

جواب دینے کو انتظار ہوں۔ بعد ازاں قومی اسمبلی اجلاس پیر چار بجے تک ملتوی

کر دیا گیا ۔

کلبھوشن یادو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply